Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایک ستارہ تھا ، کہکشاں ہوگیا – تحریر: ثمر خان

شیئر کریں:

ایک ستارہ تھا ، کہکشاں ہوگیا تحریر:  ثمر خان

ثمرگلگت بلتستان کی قدیم ترین وادی داریل جو اپنے بےپناہ قدرتی وسائل اور خوبصورتی کے لئے پورے ارض شمال میں یکتا ہے۔ اس بارے اگر خامہ فرسائی کی سعی چاہی جائے تو صفحوں کے صفحے بھر جائیں لیکن بات پھر بھی ادھوری رہ جائے۔ جہاں وادی  قدرتی وسائل اور خوبصورت مناظر سے مالا مال ہے وہیں طرح طرح کے مسائل سے دوچار بھی ہے۔ یہ ضلع دیامیر کی گنجان آباد وادی ہے اور محتاط اندازے کے مطابق اس کی آبادی نوے  ہزار  نفوس پر مشتمل ہے۔ عوام داریل کی بدبختی کہ وادی کو “ضلع” کا درجہ ملتے ملتے رہ گیا  اور اب یار دوست طنزاً ” سابق ضلع داریل” کہ کر اپنا غم و غصہ اُتارتے نظر آتے ہیں۔

خیر اُمید کی ڈور اب بھی سلامت ہے ، ایک دن ضرور آئے گا جب ہزاروں باشندگان داریل کے دیرینہ خواب کو تعبیر مل جائے گی۔ میں اس کالم کے توسط سے  وادی میں صحت کے مسائل کو اُجاگر اور ایک محسن انسانیت کی خدمات کو سرخ سلام پیش کرنا چاہتا ہوں ، جنھوں نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی عوامی خدمت میں وقف کر دی۔ جب تک حیات رہے ، مدح و قدح کےباعث بنے رہے اور داعی اجل کو لبیک کہا تو امر ہو گئے۔  عوام داریل ساری قدح فراموش کر گئے اور  زبان و قلم صرف اور صرف مدح میں مصروف عمل دکھائی دیے۔جس جس کو دیکھا ان کی تعریف میں رطب اللسان پایا۔  ہزاروں لاکھوں لوگ روزانہ کے حساب سے جانبحق تسلیم ہوتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ جس خاموشی سے جنم لیتے ہیں ایسی ہی خاموش موت مر جاتے ہیں۔

کچھ کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کی موت ایک عالم کو سوگ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ہر آنکھ نم ، ہر زبان گنگ اور ہر دل غم و الم کی تصویر بن جاتا ہے۔ ہر  ذی روح اپنے سینے میں کچھ جلتا بجھتا محسوس کرتا ہے اور رہ رہ کر ایک ہی تصویر ، ایک ہی صورت دکھائی  دیتی ہے۔ کئی بار انسان نفی میں سر ہلا ہلا کر اس خبر کو جھٹلانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کیسے مر سکتا ہے؟ وہ زندہ ہے ، وہ مر نہیں سکتا۔ لیکن یہ سب خواب و خیال اور خود فراموشی اور خود کو دلاسہ دینے والی باتیں ہیں۔23 جون2021 کی وہ دلدوز شام ، وہ اندوہ ناک ساعت  ، وہ دلگیر لمحہ باسیان داریل پر کوہ الم بن کر ٹوٹا۔

میں اپنے ساتھی اساتذہ کے ساتھ ہائی اسکول گیال داریل میں تھا۔ شب کے آٹھ بجے تھے اور ہم اپنے مرشد حاجی عبدالمان صاحب کی الوداعی تقریب کی تیاریوں میں مگن تھے۔ تیاریاں مکمل ہوگئی تھیں اور سویرے تقریب ہونا باقی تھی جب محسن داریل کی ناگہانی موت کی روح فرسا خبر موصول ہوئی۔ ایک پل کے لئے تو اپنی سماعتوں پہ یقین نہیں آیا لیکن یہ ایک ایسی حقیقت تھی جسے جھٹلانا ناممکن تھا۔ ہماری ساری خوشیاں یکدم کافور ہوگئیں۔ لمحہ قبل جن چہروں پر بشاشت ہی بشاشت تھی پل بھر بعد پژمردگی چھا گئی۔ بہار نے آناً فاناً خزاں کا روپ دھار لیا۔ میں نے جملہ ساتھیوں کو اتنے حیران و پریشان اور اس قدر حزن و ملال کی کیفیت سے دوچار پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ایک طرف پرنسپل ہائی سکول گیال جناب عبدالمنان صاحب کا رسمی الوداع اور دوسری طرف محسن انسانیت ، خادم داریل ، فرزند داریل ڈاکٹر عبدالقدیم صاحب کا ابدی الوداع۔ ایک طرف خوشی ایک طرف غم۔ یہاں خوشی و مسرت پر غم و الم کا پہلو حاوی تھا۔ جس جوش و خروش  سے ہم نے تقریب کا اہتمام کیا تھا ، ڈاکٹر صاحب کی المناک رحلت سے اس پر پانی پھر گیا۔


ڈاکٹر عبدالقدیم مرحوم نے  1966 کو سمیگال داریل کے ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کا شمار شروع سے لائق اور  ذہین طلبہ میں ہوتا تھا۔ جماعت ہشتم کے بعد ٹیسٹ دے کر آرمی پبلک اسکول کوہاٹ میں داخل ہوئے۔ کوہاٹ ہی سے آرمی کالج سے ایف ایس سی کا امتحان اعزازی نمبروں سے پاس کیا اور  خیبر میڈیکل کالج پشاور جا پہنچے۔فراغت کے بعد داریل تشریف لائے۔ قریباً پانچ سال رضاکارانہ طور پر عوام داریل کی خدمت کی۔ سن 99 کو انھیں مستقل ملازمت مل گئی اور تب سےتامرگ داریل ہی میں رہ کر عوام کی خدمت بجا لاتے رہے۔ اُنھوں نے اپنی دو دہائیوں پر مشتمل ملازمت کے دوران عوام کی بےلوث اور بےلاگ خدمت کی۔ اُنھوں نے حقیقی معنوں میں فرزند داریل ہونے کا ثبوت دیا۔ان کا شمار ان مٹھی بھر اطباء میں ہوتا تھا جنھوں نے سرکاری ملازمت کے توسط سے ملنے والے حق الخدمت پر قناعت کی۔ پیشہ طب آج بےتحاشا پیسہ کمانے کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔

ایک معمولی ڈاکٹر بھی شفاخانہ کھول کر ماہوار لاکھوں کما لیتا ہے لیکن  اس مادہ پرستی کے دور میں کہ جہاں پیسہ ہی سب کچھ سمجھا جاتا ہے اور حصول زر کی خاطر ہر جائز و ناجائز طریقہ اپنایا جاتا ہے ، ڈاکٹر مرحوم کی طبیعت اس جانب کبھی مائل نہ ہوئی۔بارہا اُنھوں نے کہا ، قدرت کا دیا بہت ہے ، مزید کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ وہ اپنے فیلڈ میں مہارت رکھتے تھے ، وہ چاہتے تو اپنا تبادلہ بڑے شہر میں کروا سکتے تھے جہاں پیسہ کمانے کے ان گنت مواقع میسر ہوتے ہیں ، مگر نہیں۔۔۔اُنھوں نے پیسے پر خدمت خلق کو ترجیح دی۔ تمام عمر لوگوں کی کڑوی کسیلی بھی سنی ، برداشت کی اور خدمت میں مصروف رہے۔  پورا پورا دن سول ہسپتال داریل میں مصروف کار رہتے اور شام کو گھر پہنچتے تو گھر پر بھی  بیماروں کا تانتا بندھا رہتا۔جب ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی،  اس وقت بھی وہ ایک بیمار خاتون کا معائنہ کر رہے تھے۔شام سے صبح ڈیوٹی کے وقت تک گھر پر اوسطاً چالیس پچاس بیماروں کا معائنہ کرتے۔ بس یہی ان کا شفا خانہ تھا ، یہی کلینک تھا جہاں پر مریضوں کا مفت علاج معالجہ ہوتا تھا۔ نہ صرف  طبی معائنہ ہوتا تھا بلکہ دور دراز سے تشریف لانے والے بیماروں کے لئے طعام وقیام کا بندوبست بھی کیا جاتا تھا۔  بخدا اس دور میں محض افسانوی باتیں ہی لگتی ہیں لیکن یہ وہ حقیقت تھی جو اس شخص کے اندر موجود تھی۔ وہ یقیناً ایک انمول ہیرا تھے ، داریل کا سرمایہ افتخار تھے ، داریل کی جان تھے ، شان تھے اور پہچان تھے۔ 


 طبیعت میں زبردست بشاشت اور تازگی تھی۔ بزلہ سنجی اور ظرافت مزاج کا حصہ تھی۔ اپنی ظریفانہ گفتگو سے لوگوں کا دل موہ لیتے تھے۔ باغ و بہار قسم کے آدمی تھے۔ افسردگی اور پژمردگی کا شائبہ تک ان کے چہرے پر دکھائی نہیں دیتا تھا۔ سدا مسکراتا اور کھلکھلاتا ان کا چہرہ تھا۔ دوران معائنہ بیماروں سے ہنسی مذاق کا دور چلتا۔ ان کی گفتگو سن کر بیمار جزوقتی ہی سہی ، اپنا درد بھول جاتا تھا۔  ایک عالم ان کا دیوانہ تھا ۔ وہ داریل کی ہر دلعزیز شخصیت تھی۔حلیف و حریف انسان کے ہوتے ہی ہیں۔ ان کے بھی حریف تھے لیکن میں جانتا ہوں آج سوگ میں سب کے سب برابر کے شریک ہیں۔ ایسا کیونکر نہ ہوتا ؟  اتنی  گنجان آباد وادی کا اکلوتا میڈیکل آفیسر آج ہمیں داغ مفارقت دے گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ میدان طب میں  داریل یتیم ہوگیا۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی کے جانے سے نظام کائنات تھم نہیں جاتا  ، رواں دواں رہتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک خلا ضرور پیدا ہوتا ہے  جسے آسانی کے ساتھ پُر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خلا بھی ایسا ہی ہے جسے پُر کرتے کرتے برسہا برس بیت سکتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں وادی کو پہلے ہی کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے اور اب ان کی مرگ اتفاقی سے ان میں اور اضافہ ہو گیا ہے۔

اُنھوں نے خدمت خلق کے لئے جس طرح اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا ، اس کی نظیر ملنا محال ہے۔ شاید ہی اس طرح اپنے پیشے کے اندر ڈوب کر انسانیت کی خدمت کوئی اور کر سکتا ہو۔  جہاں ان کے مزاج میں ہمدردی اور شگفتگی تھی وہیں اُصولوں کے معاملے میں ان کی طبیعت میں اس قدر سختی اور کرختگی بھی تھی۔ وہ  اپنے اوقات کار کے سخت پابند تھے۔ اُصولوں کے پابند تھے۔ اس معاملے میں عملے کے کسی بھی فرد کے ساتھ نرم گوشہ نہیں رکھتے تھے۔ اُصول اور قانون مقدم تھا  ، یاری دوستی اور تعلق ثانوی شے تھی۔ دو سال قبل سیاسی بھینٹ چڑھ کر سول ہسپتال داریل سے اے کلاس ڈسپنسری گیال تبادلہ ہوا۔ میں نے بچشم خود دیکھا کہ وہ عملہ حتی کہ گریڈ ون سے بھی پہلے اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گئے تھے۔ اُنھیں ہسپتال  سے بھاگ کر شفاخانہ پہنچنے کی جلدی نہ تھی۔ وہ اپنا مقرر کردہ وقت ہسپتال ہی میں گزارتے تھے۔  سخاوت  ، فیاضی اور خدا ترسی میں بےمثال تھے۔ ان کی رحلت کے بعد عقدہ کھلا کہ کیسے کیسے لوگوں کی مالی معاونت فرماتے تھے۔  انسان تو انسان جانور بھی ان سے مانوس تھے۔ ان کی پالتو بلی آج لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے ، موضوع سخن بن گئی ہے۔ بلی سے مرحوم کو بڑا اُنس تھا۔

اپنے دسترخوان کے قریب بٹھا کر کھلاتے تھے۔ گود میں بٹھاتے اور پیار کرتے۔ جس شام کو ان کا انتقال ہوا ، بلی غائب ہوئی ، صبح مرقد کے سرہانے غمزدہ پائی گئی۔ مجھے بتایا گیا کہ اب بلی کا معمول بن گیا ہے کہ  ڈاکٹر مرحوم کے بیڈروم  اور مزار کا چکر کاٹتی رہتی ہے۔مجھے ان کے بڑے بتیجھے عرفان نے بتایا  ، چچا کو دفنا  کے گھر آئے  ، مہمانوں کے لئے دیگیں وغیرہ چڑھی تھیں ، ایک آدمی بشال نامی گاؤں سے ، پہاڑی راستوں سے ہوتا ہوا ایک بیمار بچہ لے کر آگیا۔  اُس نے پوچھا  ،” ڈاکٹر صاحب ہیں؟”  ،  مجھے خاموش پا کر گویا ہوا ، ” شادی ہو رہی ہے کسی کی؟” جب میں نے کہا  اب ڈاکٹرصاحب ہم میں نہیں رہے تو وہ شخص پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔  وہ یہ دلدوز واقعہ ڈاکٹرصاحب کے مرقد  کے پاس سنارہے تھے اور ادھر دل پہ چھریاں چل رہی تھیں۔  اللہ تعالی مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبرواستقامت کی دولت سے نوازے۔ آمین ۔گلگت بلتستان اسمبلی میں داریل کی اچھی خاصی نمائندگی ہے۔ عوام داریل  پُراُمید ہیں کہ ڈاکٹر کا نعم البدل تلاش کرنے کی بھرپور کوشش فرمائیں گے۔ اتنی بڑی وادی محض ڈسپنسروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔ میڈیکل آفیسر کی تعیناتی ہنگامی بنیادوں پر کرائی جائے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ مل سکے۔آہ مح


شیئر کریں: