Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محکمہ ورکس اینڈ سروسز میں تمام کیڈرز 532نئی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں..سیکریٹری

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) سیکرٹری ورکس اینڈ سروسز خیبر پختونخوا اعجاز حسین انصاری نے کہا ہے کہ محکمہ ورکس اینڈ سروسز میں 532نئی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں جس میں تمام کیڈرز کی آسامیاں شامل ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں نئے انجینئرز کے لیئے معاوضے کے ساتھ ایک سال کی انٹرنشپ کروائی جائے گی جبکہ انجینئرز کو درپیش مسائل کے حل کیلئے پورے محکمے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیاگیا ہے جس میں بڑے پیمانے پر روزگار کے ساتھ ساتھ انجینئرز کو درپیش مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل، ایک کونسل ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے جو کہ اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور مزید فعال بنانے اور انجینئرز کو درپیش مسائل حل کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہی ہے.

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایبٹ آباد کے مقامی ہوٹل میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کے تین سالہ انتخابات کی انتخابی مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں ہزارہ ڈویژن کے تمام تعمیراتی محکموں، کامسیٹس یونیورسٹی سمیت دیگر اداروں کے انجینئرز اور ریٹائرڈ انجینئرز بھی شریک تھے تقریب سے ایس ای انجینئر رفیع الدین، ڈی جی جیمز عطاء الرحمن، انجنیئر بشارت، ریٹائرڈ انجینئر پی ٹی وی بابر خان، و دیگر نے بھی خطاب کیا اور انجینئرز کو درپیش مسائل پیش کئے تقریب میں مختلف عہدوں کے متعدد انجینئرز کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی.

اس موقع پر تقریب کے مہمان خصوصی اور انجینئرنگ کونسل میں نائب صدر کے امیدوار سیکرٹری ورکس اینڈ سروسز خیبر پختونخواہ اعجاز حسین انصاری نے کہا ہے کہ آٹھ اگست کو ہونے والے انتخابات میں ہمارا پینل بھر پور انداز میں کامیابی حاصل کر کے پورے ملک کے انجینئرز کو درپیش مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ کے نصاب میں جدید خطوط کی بنیاد پر دنیا کے باقی ممالک کے نصاب کو مد نظر رکھتے ہوئے تبدیلی کرے گا اور انجینئرز کے سروسز سٹرکچر کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ کونسل کے دفاتر صوبائی سطح سے ڈویژنل سطح پر منتقل کیئے جائیں گے حاضر اور ریٹائرڈ انجینئرز کی مختلف سطحوں پر ریسرچ ورک پر بھر پور توجہ دی جائے گی اور اس مقصد کیلئے ریسرچ لیب بنائی جائیں گی.

نئے آنے والے انجینئرز کی پورے ملک میں ڈاکٹرز کی طرح ایک سال کی انٹرنشپ کروائی جائے گی جس میں ان کو معقول معاوضہ بھی دیا جائے گا اور انجینئرنگ کونسل کو مزید فعال اور مضبوط بنایا جائے گا انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ دو سال کے دوران نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا میں محکمہ ورکس اینڈ سروسز کو از سر نو تعمیر کیا جس میں پانچ سو بتیس نئی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں جن میں چیف انجینئرز، ایس ای، ایگزیکٹو انجینئرز، مانیٹرنگ انجینئرز، اسسٹنٹس، سمیت دیگر آسامیاں شامل ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں نئے آنے والے انجینئرز کو ایک سال کی انٹرنشپ بھی دی جائے گی جس میں صوبائی حکومت انھیں باقاعدہ معاوضہ بھی دے گی۔


شیئر کریں: