Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نکاح کی رجسٹریشن لازمی بنا کر دیہی علاقوں میں کم عمری کی شادی کے رواج کو روکا جا سکتا ہے۔شوکت یوسفزئی

شیئر کریں:

نکاح کی رجسٹریشن لازمی بنا کر دیہی علاقوں میں کم عمری کی شادی کے رواج کو روکا جا سکتا ہے۔شوکت یوسفزئی

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت یو سفزئی نے کہا ہے کہ چائلڈ میرج کی رسم کے خا تمے کیلئے علمائے کرام کی رائے اور موقف کو میڈیا میں وسیع اشاعت دیکر عوام میں شعور و آگہی مہم چلائی جائے تا کہ معاشرے میں اس رسم سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے اور اس مقصد کیلئے نکاح کی رجسٹریشن لازمی بنا کر دیہی علاقوں میں کم عمری کے شادی کے رواج کو روکا جا سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں چائلڈ میرج ایکٹ کے حوالے سے منعقد ہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے توانائی وبر قیات تاج محمد خان ترند، معاون خصوصی برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن خلیق الرحمان، ممبر صوبائی اسمبلی ضیاء اللہ بنگش،، ڈاکٹر سمیرا شمس اور صوبائی محتسب چیئر پرسن، رخشندہ ناز نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سمیرا شمس نے کہا کہ حکومت چائلڈ میرج ایکٹ بل اور ایسی دیگر قانون سازی میں تمام ممبران صوبائی اسمبلی بمعہ ا قلیتی ممبران کو اعتماد میں لے گی جبکہ حکومت اپنے مذہب اور ثقافت کو پیش نظر رکھتے ہوئے قانون سازی کریگی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے توانائی و برقیات تاج محمد خان ترند نے کہا کہ 18 سال سے کم عمر کی شادی ماں کی صحت کیلئے نقصان دہ ہیں۔انکا کہنا تھا کہ یونیسف رپورٹ 2021 کے مطابق 72فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال سے کم عمر میں ہوتی ہے جنکی وجہ سے 14000 مائیں موت کا شکار ہوتی ہیں۔ اس موقع پر چیئر پرسن صوبائی محتسب رخشندہ ناز نے کہا ہے کہ یو نیسف اور دیگر عالمی اداروں نے پاکستان میں چائلڈ میرج قوانین پر عمل در آمد نہ ہونے کے سبب 20 فیصد گلوبل فنڈز میں کمی کر دی ہے۔

بلیو وینز کے صوبائی صدر قمر نسیم کا کہنا تھا کہ انکی تنظیم بلیو وینز اور اسلامک آئیڈیا لوجیکل کونسل کے درمیان چائلڈ میرج کے خلاف اسلام آباد میں ایک یاداشت پر دستخط ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر تمام شرکاء اور ممبران صوبائی اسمبلی نے خیبر پختونخوا چائلڈ میرج ایکٹ کے بل پر تفصیلی گفتگو کی اور دیہی علاقوں میں نکاح کو رجسٹرڈ کرانے کی تجویز دی گئی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی نے کم عمری میں شادی کرنے کی سزا کو 2 سال سے کم کرکے 6 مہینے جبکہ جرمانے کو بڑھانے کی تجویز دی جس کی تمام اراکین صوبائی اسمبلی اور دیگر شرکاء نے تائید کی۔ اس موقع پر انکا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے میں قانون سازی کیلئے علمائے کرام اور اقلیت کے نمائیندوں کو بھی اعتماد میں لیا جا ئیگا اور اس مقصد کیلئے 16 جولائی 2021 کو ایک مشترکہ کانفرنس بلانے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا جس میں علمائے کرام اور اقلیت کے نمائندے شرکت کریں گے۔

نکاح کی رجسٹریشن لازمی بنا کر


شیئر کریں: