Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آخر خودکشی ہی کیوں؟؟۔۔۔۔گل عدن

شیئر کریں:

آخر خودکشی ہی کیوں؟؟

اسوقت مہنگائی اور کرونا سمیت ہمارا دوسرا عالمی مسئلہ “خودکشی” ہے جس میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور اس پر قابو پانے میں ہم بری طرح ناکام ہیں۔ اور یہ ناکامی ہماری تکالیف میں اضافہ کر رہی ہے ۔اس لفظ کو تو لکھتے ہوئے بھی ہماری قلم کیساتھ دل اور روح تک کانپ جاتا ہے ۔کوئی کتنا ہی سخت جان ہو اسطرح کے واقعات آپکو لرزا کے رکھ دیتے ہیں ۔ پاکستان میں ان واقعات کی ایک رٹا رٹایا وجہ جسے ہر ایسے واقعے کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے وہ ہیں تعلیم میں ناکامی یا پسند کی شادی نہ ہونا۔وغیرہ مگر میری ذاتی رائے کے مطابق پسند کی شادی نہ ہونا اور تعلیم میں ناکامی دو بڑی وجہ تو ہونگی مگر بنیادی وجہ نہیں کہلائی جاسکتیں۔ میرے راۓ کے مطابق چاہے مشرق ہو یا مغرب خودکشی کی واحد وجہ “ذہنی امراض” ہیں۔ کیونکہ ہمارا معاشرہ دو طرح کے لوگوں میں بٹا ہوا ہے ۔ایک ذہنی طور پے صحت مند لوگ۔اور دوسرا ذہنی طور پر معذور افراد ۔

اور بد قسمتی سے ہمارے معاشرے کے نارمل افراد کا روئہ معذور افراد کیساتھ انتہائی افسوس ناک اور تظحیک آمیز ہے مثلا اگر کوئی پیدائشی معذور پیدا ہوا ہے تو اسکو ہر کوئی پاگل پاگل پکارتا ہے اسکا اصل نام کسی کو یاد نہیں رہتا۔ تان کاردو ویز نیکی کے مصداق ہم پاگل پکارے جانے کے ڈر سے اپنی ذہنی تکالیف سے نظریں چرائے رہتے ہیں ۔اس تحریر میں ‘میں ان چند باتوں کا زکر کرنا چاہتی ہوں جنہیں ہم اول تو بیماری مانتے ہی نہیں ہیں بلکہ انہیں اپنی عادات اور مزاج کا نام دے کر اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر دل میں انہیں بیماری مان لیں تو اسکا علاج ضروری نہیں سمجھتے۔ ۔!!

لیکن مجھے لگتا ہے یہی چھوٹی چھوٹی عادتیں ملکر اک روز ہمیں اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جہاں اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی زندگی کا خاتمہ آسان ہوجاتا ہے ۔* ہمارا سب سے بنیادی ذہنی مرض تو میں پہلے ہی بیان کرچکی ہوں۔یعنی پاگل کہلائے جانے کا خوف ۔یہ خوف ہم پر اتنا غالب ہے کہ ہم جو اپنی جسمانی بیماریوں کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں لیکن اپنی دماغی امراض کو دل میں بھی تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔سو یہیں سے ذہنی بیماریوں کا آغاز ہوتا ہے۔* بعض اوقات انسان بہت مجبوری میں جھوٹ بولتا ہے اور اس پر شرمندگی محسوس کرتا ہے لیکن اگر آپکی زبان کو بلاوجہ اٹھتےبیٹھتے ہر وقت جھوٹ بولنے کی عادت پرچکی ہےتو یقین کیجئے یہ ایک بیماری ہے ۔ تعریف کی خواہش ایک فطری بات ہے لیکن اگر آپ پر تعریفیں سمیٹنے کا جنون سوار رہتا ہے تو آپکو ماہر نفسیات سے ضرور ملنا چاہئیے۔اگر آپکو بہانے بہانے سے خود کو ہر وقت غمگین رہنے کی عادت پر چکی ہے۔

آپ کوئی رات روئے بغیر نہیں سو سکتے۔آپ ہر وقت ماضی میں رہتے ہیں یا مستقبل کے بارے میں بدترین حادثات و واقعات کا تصور کرکے خود کو پریشانی و فکر میں مبتلا رکھے ہوئے ہیں تو آپکو ذہنی طور پر علاج کی شدید ضروت ہے ۔* ہر وقت فارغ رہنا اور ہر وقت مصروف رہنا دونوں ذہنی مرض ہیں ۔ اگر آپ ذمہ داریاں بانٹنے کے روادار بھی نھیں ہیں مگر خود ذمہ داریوں کے بوجھ تلے ہلکان ہوئے جا رہے ہیں تو آپکو ایک معالج سے مشورے کی ضرورت ہے ۔ مسلسل انتقامی جذبات ‘مسلسل حسد اور ہر وقت کا غصہ آپکو ڈپریشن کا بدترین مریض بنا رہا ہے ۔ اپنی ہر مصیبت پریشانی اور نقصان کا ذمہ دار دوسروں کو سمجھنا ذہنی امراض ہیں ۔ ہر وقت اندھیرے میں بیٹھنے کی کو شش اور ہر وقت روشنی میں رہنا اندھیرے سے ڈرنا بھی ذہنی امراض ہیں ۔ دوسروں کی بےعزتی کرکے خوش ہونا ایک ذہنی مرض ہے ۔ احساس برتری اور احساس کمتری دونوں ذہنی بیماریاں ہیں ۔

اگر آپ بہ حثیت مرد/عورت دونوں صورتوں میں مخالف جنس کو اپنا وقت گزاری کا زریعہ جان کر مسلسل محبت اور شادی کے نام پر دھوکہ دہی میں مصروف ہیں اور اس میں آپکو کچھ غلط نہیں لگتا ہے تو آپ ذہنی طور پر بیمار ہیں اور آپکو علاج کی ضرورت ہے ۔* دماغ جسم کا سب سے ضروری حصہ ہے ۔اگر سر درد کی گولی کھا کر درد سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے تو اپنی ذہنی بیماریوں کو تسلیم کرکے کسی بڑے نقصان سے بچا اور بچایا جاسکتا ہے ۔ بہحثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کے ذہنی امراض یا خودکشی کے وجوہات مذہب سے دوری ہیں۔مگر مذہب سے دوری کو ہم صرف نماز روزہ زکواۃ اور لباس تک محدود رکتھے ہیں حالانکہ مذہب تو ہمیں گھر کے طرز تعمیر سے لیکر ہمارے اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے بیت الخلا آنے جانے اور سونے اور جاگنے تک کے آداب سکھاتا ہے اس لحاظ سے تو ہم سب مذہب سے دور ہیں اور کہیں نہ کہیں ذہنی دباؤ اور نفسیاتی امراض امراض کا شکار ہیں ۔ مذہب سے دوری کی اک بڑی وجہ ناشکری ہے۔ اس تحریر کے زریعے میں خصوصا والدین سے اک اپیل کرتی ہوں کہ جب آپ بچوں کو لیکر بیٹھیں تو خدارا خدارادوسروں کی دولت شہرت امارت پہ رشک مت کھایا کریں۔یا دوسروں کی غربت کا مذاق نہ اڑایا کریں۔احساس کمتری اور احساس برتری گھر کے بڑوں کے کےروئوں سے ہی وجود میں آتی ہے ۔


اگر یہ تحریر کوئی ایسا شخص پرھ رہا ہے جو خودکشی کی وشش کرتا ہو تو میں آپسے صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ جب کھبی آپ پر مشکل وقت آئے تو آپ قران کی اس آیت “ما أصاب من مصیبۃالا باذن اللہ ۔” یعنی اللہ اپنےبندے پر اسکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ لیں جو مصیبت ہم پر آتی ہے اسے جھیلنے اور برداشت کرنے کی طاقت بھی اللہ ضرور دیتا ہے۔بات صرف رب پر بھروسے کی ہوتی ہے ۔انسان اس دنیا میں اکیلا آتا ہے اکیلے ہی یہاں سے جاتا ہے۔زندگی میں بھی آخرت میں بھی ہر محاز پہ ہم نے اکیلے ہی لڑنا ہے۔

تو ہم اس دو دن کی زندگی کو کیون عذاب بنانے پر تلے ہوئے ہیں؟ ہم اپنے غموں کیساتھ سمجھوتہ کرکے خوش کیوں نہیں رہ سکتے؟ ہمیں زمانے سے وہ محبت اور وہ ہمدردی کیوں چاہئے جسکی قیمت ہماری زندگی ہو۔سچ تو یہ ہے کہ جو آپکی ایک آنسو کی پرواہ نہیں کرتا وہ آپ کی موت کی بھی پرواہ نیہں کرتا۔ آخری بات جو آپکو اس مقام تک لانے کے ذمہ دار ہیں کہ آپ زندگی جیسی عظیم نعمت کو ٹھکرانے کے درپے ہیں تو میری بات مانیں ایسے لوگوں کو جیتا جی مارنے کے لیے انھیں ” جی” کر دکھائیں۔یقین جانیں اس سے بڑا انتقام اور اس سے بڑی جیت کوئی نہ ہو گی۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو ۔آمین


شیئر کریں: