Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سوات میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا جلسہ ایک ناکام شو تھا۔ وزیراعلیٰ محمود خان

شیئر کریں:

سوات میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا جلسہ ایک ناکام شو تھا۔ وزیراعلیٰ محمود خان

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے سوات میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے کو مکمل طور پر ایک ناکام شو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جلسے میں لوگوں کی عدم دلچسپی اور عدم شرکت اپوزیشن کی ناکامی اور حکومتی پالیسیوں پر عوام کے بھر پور اعتماد کا مظہر ہے۔ یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایک دوسرے کے بدترین سیاسی مخالفین، ایک دوسرے کو ملک کی بربادی کا ذمہ دار اور ایک دوسرے کو کرپشن کے بے تاج بادشاہ قرار دینے والے سیاسی بے روزگاروں کا ٹولہ اپنی کرپشن چھپانے کے لئے اس طرح کی شوبازیوں میں مصروف ہے لیکن صوبے کے باشعور عوام نے پہلے بھی انہیں مسترد کردیا تھا اور اس بار بھی مسترد کردیا اور یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا بہت پہلے ہی نکل چکی تھی جب کہ اس میں شامل دو بڑی پارٹیاں الگ ہوگئی تھیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت اور وزیر اعظم عمران کے بے لاگ احتساب کے عمل نے گزشتہ سات دہائیوں سے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے عناصر کو اکٹھا کر دیا ہے لیکن پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے نام پر یہ اکٹھا ہونا اصل میں کرپشن بچاو تحریک ہے جس کا مقدر ناکامی اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن والے کچھ بھی کر لیں مگر ان سے لوٹی ہوئی ملکی دولت کی پائی پائی کا حساب لیا جائے گا۔

محمود خان کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ عام انتخابات میں عوام نے انہیں سبز باغ دکھا کر باری باری اس ملک کے وسائل لوٹ کر اپنی جیبیں بھرنے والوں کو یکسر مسترد کردیا اور انشاءاللہ آنے والے عام انتخابات میں بھی عوام انہیں مسترد کریں گے کیونکہ کہ اب قوم کو عمران خان جیسے نڈر، مخلص اور ایماندار لیڈر کی قیادت مل گئی ہے جس کے دل میں اس قوم کا درد ہے اور وہ نہ صرف اس قوم کو ایک عظیم قوم بنانے کی خواہش رکھتے ہیں بلکہ صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سوات جلسے میں عوام کی عدم دلچسپی اور عدم شرکت کے بعد اپوزیشن والوں نے جلسہ گاہ بھرنے کی ناکام کوشش میں مدرسوں کے کمسن طلبہ کو جلسے کے لئے استعمال کیا جو ان طلبہ کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کے ساتھ بھی زیادتی ہے، مدرسوں کے طلبہ سیاسی جلسوں میں شرکت کے لئے نہیں بلکہ حصول علم کے لئے مدرسوں میں داخلہ لیتے ہیں انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔


شیئر کریں: