Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ضرورتِ رشتہ……….. ڈاکٹر شاکرہ نندنی

شیئر کریں:

woman zarorate rishta

ضرورتِ رشتہ

میری عمر 30 سال ہے، میں ایک اچھے گھرانے کی فرد ہوں اور میری تعلیم بھی اچھی ہے۔ انتظام خانہ داری تو کیا انتظام ملک گیری بھی میرے لئے کچھ مشکل امر نہیں۔ میں اپنے والدین کی اکلوتی اور چہیتی نور نظر ہوں۔

دنیا جہان کے والدین کی طرح میری ممی کی بڑی آرزو ہے کہ ان کے گھر بھی بابل کے گیت گائے جائیں۔ ڈیڈی کی بھی خواہش ہے کہ میں اپنی زندگی کا ساتھی منتخب کر لوں۔ سہیلیوں کو بھی میری جدائی کے گیت گانے کا بڑا ارمان ہے، سیکڑوں ہزاروں رشتے آچکے ہیں۔ لیکن کوئی میرے معیارِ انتخاب پر پورا نہیں اترا اور سہیلیوں نے زندگی تنگ کررکھی ہے۔ وہ بار بار پوچھتی ہیں کہ یہ سب امیدوار مجھے کیوں پسند نہیں آئے؟


انہی باتوں سے تنگ آ کر آخر میں اپنے “معیارِ انتخاب” کا اعلان کر رہی ہوں۔ جو صاحب اس معیار پر پورے اتریں صرف وہی درخواست بھیجیں، ایسی تمام درخواستیں مدیرہ ماہنامہ ‘بانو’ کی معرفت آنی چاہئیں۔ میں مردوں کے خطوط صیغۂ راز میں رکھنا ضروری نہیں سمجھتی، اس لئے جو صاحب پہلے ہی سے شادی شدہ ہوں کوئی درخواست نہ بھیجیں ورنہ ضرور ان کی بیوی کو بھی وہی درخواست بھیج دی جائے گی۔

درخواستوں کے ہمراہ تصویر بھیجنا لازمی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ تصویر امیدوار کی ہی ہو ورنہ انٹرویو کے لئے آنے جانے کا خرچہ امیدوار کے ذمہ ہوگا۔ اگر کچھ صاحبان کو ابتدائی انتخاب میں پسند کر کے سہیلیوں کے مشاورتی بورڈ کے سامنے بلایا گیا، تو ان کا ایک طرف کا فرسٹ کلاس کا کرایہ انتخاب میں کامیاب ہونے والے امیدوار سے بطور ہرجانہ دلوایا جائے گا۔

خاندان۔
نام اور رسموں پر مرمٹنے والا نہ ہو۔

عمر۔
نہ اتنی زیادہ ہو کہ انجانے لوگ بیوی کا باپ تصور کر لیں اور نہ اتنی کم کہ برادرِ خورد۔

تعلیم۔
کم سے کم ایم، اے تک ہو اور زیادہ سے زیادہ پر کوئی پابندی نہیں۔ فلسفہ سے دور بھاگتا ہو، اردو ادب، انگریزی ادب سے دلچسپی رکھتا ہو لیکن خود کو بیوی سے زیادہ قابل نہ سمجھے۔

عادات و اطوار۔
نیک چلن ہو اور کبھی کسی خوبصورت لڑکی کا پیچھا نہ کرتا ہو اور بقولِ غالب “چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد” کا قائل ہو۔

شوق۔
جواری نہ ہو، تاش سے لے کر ریس کے میدان تک کسی بھی قسم کے جوئے کا شائق نہ ہو۔ ہوٹلوں اور کلبوں کا دلدادہ نہ ہو، رات کو گھر دیر سے نہ آتا ہو۔ شادی کے بعد بیوی کی مرضی کے شوق اختیار کرنے اور بیوی کو ناپسندیدہ شوق چھوڑ دینے کا معاہدہ اسٹامپ پیپر لکھ کر دینا ہوگا۔

دوستی۔
احباب کا جھنڈ نہ رکھتا ہو کہ بیوی کی زندگی ہی چائے بناتے ہی گزر جائے۔

پکچر۔
صرف بیوی کے ساتھ دیکھنے کا خواہشمند ہو۔

معلومات۔
زمین سے چاند تک کی معلومات ضرور ہوں مگر باورچی خانے کے متعلق اس کی معلومات صفر کے برابر ہو۔ اگر کھانے میں نمک نہ ہو تو چوں نہ کرے ، اور شیرنی میں شکر کی جگہ غلطی سے نمک پڑ جائے تب بھی کھانا چھوڑ کر نہیں اٹھنا ہوگا۔

صحت۔
اچھی ہو، نہ اتنا دبلا ہو کہ آندھی میں اڑ جانے کا خدشہ رہے، نہ اتنا تندرست کہ محلے کے لڑکے فٹ بال سمجھ کر ٹھوکر ماریں، توند آگے کو نکلی ہوئی نہ ہو۔

کھیل کود۔
فٹ بال، ہاکی، یا کرکٹ کا مایۂ ناز کھلاڑی ہو، لیکن لڑکیوں سے دور بھاگتا ہو ، بچپن میں بھی کبھی لڑکیوں کے ساتھ آنکھ مچولی نہ کھیلی ہو۔

قد۔
نہ اتنا لمبا ہو کہ کہ لوگ ریگستان کے متبرک جانور کا خطاب عطا کردیں اور نہ اتنا چھوٹا کہ میاں ٹینی، بیوی کلنگ والا معاملہ ہو جائے۔

بال۔
گھنے سیاہ ہوں ، گھنگریالے نہ ہوں کہ لڑکیاں مرنے لگیں۔

پیشانی۔
اتنی تنگ نہ ہو کہ تقدیر میں لکھی جانے والی بہت سی نعمتیں چھوٹی پیشانی کے باعث رہ جائیں، اور نہ اتنی چوڑی کہ پلے گراؤنڈ معلوم ہو۔ نہ اتنی بلند کہ سوتے میں بچے ٹیلے پر چڑھنے کی مشق کرنے لگیں۔

رنگ۔
بہت گورا نہ ہو، (کیونکہ گوری میں خود ہوں) نہ بہت کالا ہو کہ دیکھتے ہی رات ہونے کا خدشہ ہو۔

اَبرو۔
گھنے مگر ناک کے اوپر سرگوشیاں نہ کرتے ہوں ، کیونکہ ایسے لوگ عاشق مزاج ہوتے ہیں۔

آنکھیں۔
چھوٹی اور سرخ نہ ہوں، کہ کوئی خونی نہ سمجھ لے ، نشیلی ہوں لیکن نشہ کسی بھی قسم کا نہ استعمال کرتا ہو تاکہ کسی بھی بات کا برا نہ منائے۔

ناک۔
چھوٹی ہو تاکہ کسی بھی بات کا برا نہ منائے، اور اگر لمبی ہو تو اتنی لمبی نہ ہو کہ کوئی راشٹر پتی کی سواری کے لئے پکڑ لے جائے، نہ اتنی نازک ہو کہ بیوی کی تیز آواز سے کٹ جائے اور نہ اتنی سخت کہ بڑے سے بڑے حادثے کا بھی اثر نہ ہو۔

کان۔
کا کچا نہ ہو۔

ہونٹ۔
عورتوں کی طرح نازک اور پتلے نہ ہوں ، نہ ہی اونٹ کی طرح موٹے اور بھدے۔

ٹھوڑی۔
بھارت بھوشن کی نہیں دلیپ کمار کی ہونی چاہئے۔

داڑھی، مونچھ۔
چہرے کی گھاس بلیڈ مہنگے ہونے پر بھی پابندی سے کاٹتا ہو۔

گردن۔
ہرن سے ذرا ہی دبی ہوئی ہونی چاہئے۔

بَری۔
نہایت شان دار ہونی چاہئے، ایسی شاندار کہ لوگ کھانا پینا بھول کر صرف عش عش کرتے رہیں، لیکن غش نہ کھائیں۔
نوٹ۔
بری میں جوڑے یا زیور ایک ہی مانگے کا نہ ہو اور نہ نقلی، ہیرے کا کم از کم ایک سیٹ ہونا ضروری ہے ، ویسے زیادہ پر بھی اعتراض نہ ہوگا۔

مہر۔
نوشہ کے سر کے بالوں کی مناسبت سے رکھا جائے گا۔ جتنے بال ہوں گے اتنے ہی روپے کا مہر ہوگا اس لئے بالوں کا گن کر آنا ضروری ہے کیونکہ مہر فوراً ادا کرنا ہوگا، معاف بالکل نہ کیا جائے گا۔

رسمیں۔
شادی میں دیگر رسمیں تو ہم نے ترک کردی ہیں لیکن دلہن کے پیر ضرور دھونے پڑیں گے اور ‘بیوی میں تمہارا غلام’ ، تین بار ضرور کہنا ہوگا۔ شادی کے تین سال بعد چال چلن سے مطمئن ہوجانے پر “غلامی” سے آزاد کر دیا جائے گا، امید ہے کہ اس وقت تک بیوی کا ہر حکم سر آنکھوں پر بجالانے کی عادت پڑ چکی ہوگی جو تمام عمر باقی رہے گی۔ رشتے دار ساس نندیں ہوں تو مضائقہ نہیں لیکن نکتہ چیں نہ ہوں، ورنہ ایسی صورت میں فوراً الگ گھر کا بندوبست کرنا ہوگا۔

بچے۔
اگر رات کو بچے روئیں تو ان کوفوراً ہی دوسرے کمرے میں لے جاکر بہلائے تاکہ بیوی کی نیند میں خلل نہ آئے۔

دیگر عادتیں۔
باہر سے مونہہ پھلائے ہوئے گھر میں نہ داخل ہو ہر وقت خوش رہے اور بیوی کو بھی خوش رکھے۔

لڑائی۔
ہر مہینہ معمولی سی جھڑپ ہونی ضروری ہے کیونکہ بڑا مزا اس ملاپ میں ہے جو صلح ہوجائے جنگ ہوکر، صلح میں پہل ہمیشہ شوہر کو کرنی ہوگی۔

خدمت۔
رات کو سونے سے پہلے پیر دبوانے کا نہیں بلکہ دبانے کا شائق ہو۔

غصہ۔
برتنوں پر اتر سکتا ہے مگر بیوی یا بچوں پر نہیں، برتنوں پر بھی یہ خیال رکھنا ضروری ہوگا کہ میرے جہیز کے نہ ہوں۔

فرمائشیں۔
ایک فرمائش پر دو چیزیں اپنی طرف سے لائے گا۔

شاپنگ۔
ہر مہینے کی شروع تاریخوں میں ہونی ضروری ہے۔

مزاج۔
شکی بالکل نہ ہو۔ اور نہ ہی سہیلیوں کے ساتھ پکنک یا پکچر وغیرہ جانے پر پابندی لگائے۔

پکچر۔
ہفتہ میں دو بار سنیما لے جائے گا ، لیکن پکچر سے واپسی پر ہیروئن کی تعریف نہیں سنی جاسکتی ، فلمی رسالے ، رومانی و جاسوسی ناولیں پڑھنے سے بیوی کو کبھی منع نہ کرے گا بلکہ اور لالا کر دے گا۔

اخبار۔
بیوی کی موجودگی میں نہیں پڑھنا چاہئے، اور نہ ہی ناشتے کی میز پر۔

نیت۔
اتنی خراب نہ ہو کہ میری سہیلیوں کو روشندان سے جھانکتا رہے ، ویسے رستہ چلتی لڑکی کو آنکھ اٹھا کر دیکھ سکتا ہے مگر پیچھے مڑ کر نہیں۔

سمجھ۔
اتنی زیادہ ہو کہ اپنی بیوی کو دنیا بھر کی عورتوں سے زیادہ حسین اور قابل سمجھے۔

کنجوسی۔
صرف دوستوں کو کھلانے پلانے میں کنجوسی کرسکتا ہے۔

کمائی۔
ایمان داری سے سب بیوی کے ہاتھ میں دینی ہوگی ، حساب مانگنے کی تکلیف گواراہ نہ کریں۔

تنبیہ:
جن حضرات میں یہ خوبیاں ہوں صرف وہی حضرات نیچے دئیے گئے فارم کو فِل کریں۔ انتظار کروں گی


شیئر کریں: