Chitral Times

May 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ڈی ای او میل اپر چترال فیمل ڈی ای او کےکاموں میں بے جا مداخلت کررہا ہے نوٹس لیا جائے۔ تحریک تحفظ حقوق چترال

شیئر کریں:

ڈی ای او میل اپر چترال فیمل ڈی ای او کے دفتر ی امور میں بے جا مداخلت کررہا ہے نوٹس لیا جائے۔ پیر مختار

اپر چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) تحریک تحفظ حقوق چترال نے ڈی ای او میل اپر چترال کی طرف سے فیمل ایجوکیشن کے کاموں میں بے جا مداخلت پر انتہائی غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر ایجوکشن صوبہ خیبرپختونخوا کو ایک مراسلے کے زریعے اپنے خدشات سے انھیں اگاہ کیا ہے ۔ تحریک کے روح روان اور چئرمین پیر مختار نے چترال ٹائمز کو بتایا کہ ڈی ای او میل اپر چترال ڈی ای او فیمل کے سرکاری ودفتری کاموں میں بے جا مداخلت کررہا ہے اور چترال کے باپردہ خواتین کو ٹیسٹ انٹرویو کے بہانے پر اپنے (ڈی ای او میل ) دفتر بلواکر انٹرویو کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جو کسی اور کے کام میں مداخلت کے ساتھ چترال کی روایا ت کو بھی پامال کررہا ہے ۔ جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ، پیر مختار نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر ایجوکشن کو ایک مراسلے کے زریعے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتےہوئے کہا ہے کہ فیمل ڈی ای او کے ہوتے ہوئے میل ڈی ای او خواتین کا انٹرویو لے رہا ہے جوکہ افسوس ناک ہے ۔ انھوں نے ڈی ای او میل کو فوری ٹرانسفرکرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

یہاں پر اپر چترال کے بعض عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ای ڈی او فیمل اکثر دفتر سے غیر حاضر رہتی ہیں اور آئے روز دفتر کا چکر لگانے والے سائلین کو کہا جاتا ہے کہ ڈی ای او صاحبہ میٹنگ کیلئے پشاور گئ ہیں۔ ڈی ای او فیمل اکثر غیر حاضر رہنے کی وجہ سے دفتری امور نمٹانے میں مشکلات کے ساتھ فائلین ان کی میز پر کئی مہنیوں تک پڑی رہتی ہے ۔ ایک سابق کونسلر نے بتایا کہ اپر چترال میں فیمل اساتذہ خصوصا پی ایس ٹی اساتذہ کی پرومیشن ایک سال بعد کی گئی جبکہ ان کے ساتھ بھرتی ہوئے لوئر چترال کے اساتذہ کی پروموشن ایک سال پہلے کی گئی تھی۔ جوانکی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ انھوں نے مذید بتایا کہ اسی طرح دوسرے دفتری امور بھی نمٹانے میں نااہلی کا ثبوت دے رہے ہیں اور میٹنگ وسرکاری وزٹ کے بہانے اکثردفتر سے اکثر غیر حاضر رہتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ڈی ای او میل کو مجبورا مداخلت کرنا پڑی ۔

chitraltimes tahreek tahafuz huqooq chitral to director edu kp
chitraltimes deo male upper chitral involved female issues

شیئر کریں: