Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء اور پاکستان پر بڑھتا عالمی دباؤ…عتیق اللہ

شیئر کریں:

افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء

افغانستان کو سلطنتوں کا قبرستان بے وجہ نہیں کہا جاتا، بڑی بڑی طاقتوں نے افغانستان پر قبضے کے خواب دیکھے لیکن انجام سلطنت کے خاتمے پر ہوا۔ انگلینڈ نے افغانستان پر حکومت کا خواب دیکھا لیکن پشاور سے آگے بڑھنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوا اس کے بعد ستر کی دہائی میں سوویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کی لیکن اختتام سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے پر ہوا پھر اس کے بعد امریکہ افغانستان میں داخل ہوا لیکن امریکہ بھی بیس سال طویل جنگ اور تقریباً چار ٹریلین امریکی ڈالرز خرچ کرنے کے بعد طالبان سے اکثریتی علاقے چڑھانے میں ناکام رہا۔ طویل جنگ کے باعث امریکی افواج اور عوام دونوں تناؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوئے اور امریکی حکومت پر فوج وطن واپس بلانے کے لیے دباؤ بڑھتا گیا ۔ نئی امریکی صدر جوئی بائڈن نے صدارتی حلف اٹھاتے ہی واضح کیا کہ افغانستان میں موجود تمام امریکی افواج گیارہ ستمبر تک مکمل وطن واپسی کریں گے۔

امریکی فیصلے کے بعد عالمی سیاست میں ہلچل دکھنے میں آرہا ہے، علاقائی قوتیں بشمول پاکستان اور چین نے  فیصلے کو خوش آئند قرار دیا کیونکہ پرامن افغانستان پورے خطے کی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے، چین نے بی-آر-آئی اور سی-پیک کی صورت وسط ایشیا اور بلخصوص پاکستان میں وسیع پیمانے پر سینکڑوں  ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے اور خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی قسم کی بدامنی سے چینی سرمایہ کاری ضائع ہو سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ چینی حکومت افغان مسلے کے فوری اور پر امن مفاہمتی حل کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہا ہے۔

 لیکن افغان طالبان کے ساتھ کامیاب مذاکرات اور مفاہمت کے بغیر انخلاء امریکہ اور دیگر ممالک کے امن وسلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔عالمی طاقتیں بلخصوص مغربی ممالک فوجی انخلاء کے بعد  افغانستان میں پیدا ہونے والی خانہ جنگی کے ممکنہ خدشے کو جواز بنا کر  امریکی فیصلے کے اوپر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور امریکی حکام کو فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں اس لیے دیرپا امن کے قیام کی خاطر امریکہ علاقے میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانا چاہتا ہے، اس ضمن میں امریکہ کئی عرصے سے افغانستان سے باہر فوجی اڈوں کے  قیام پر غور کر رہا ہے، اس سلسلے میں پاکستان امریکہ کے لیے سب سے زیادہ مناسب اور جیو-اسٹریٹیجیکل اہمیت کا حامل آپشن ہے۔ 

کچھ عرصہ قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے آرٹیکل شائع کی جس میں انکشاف کیا کہ فوجی اڈوں کو لیکر سی-آئی-اے اور پاکستانی حکام کے مابین خفیہ ڈیل حتمی مراحل میں ہے لیکن عمران خان نے ایچ-بی-اوو کو دیئے انٹرویو میں فوجی اڈوں کی فراہمی کے سوال پر  “ابسالوٹلی ناٹ”  کہ کر امریکی حکام سمیت پاکستانی تجزیہ کاروں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ ہر بار “ڈوو مور”  کہنے والے امریکہ کو “نا” سننے کی بالکل عادت نہیں  اسی لیے فوجی اڈوں کی فراہمی کے انکار کے بعد پاکستان کے گرد گھیرا تنگ ہونا شروع ہو چکا ہےاور امریکی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، ایف-اے-ٹی-ایف کے شرائط کو پورا کرنے میں اٹھانوے فیصد کامیابی کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی شامل رکھا گیا ، ایک اور رپورٹ میں امریکی ریاستی ادارے نے پاکستان اور ترکی پر الزام عائد کیا ہےکہ وہ کم عمر لڑکوں کو فوج میں بھرتی کرتے ہیں اس رپورٹ کے بعد پاکستان کیلئے فوجی امداد کی روک تھام اور مزید پابندیاں عائد کرنے کا خدشہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں امریکہ کو پاکستانی سرزمین پر فوجی اڈے بنانے کی اجازت دینی چاہیے؟  یہ فیصلہ کرنے سے قبل ہمیں ماضی سے سبق حاصل کرنا چاہیے، جب امریکہ نے وار آن ٹیریر کا نعرہ لگا کر افغانستان میں فوج بھیج دیا، اس وقت بھی اسی طرح کے حالات تھے امریکہ نے پاکستان سے فضائی اور زمینی اڈے طلب کیا بلکہ ایک طرح سے حکم دیا، مشرف حکومت امریکی پابندیوں کے دباؤ میں آکر اور کمزور معیشت کے باعث ڈالرز کی خاطر اڈوں کی فراہمی پر رضامند ہوا اور جیکب آباد سمیت کئی اور بیسیس کو امریکہ کے حوالے کیا، لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟ افغان طالبان امریکہ کی مدد کرنے پر پاکستان کو دشمن سمجھنے لگے اور دہشتگردی کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جس میں لگ بھگ 80 ہزار قیمتی جانیں ضائع ہوئیں،ملک میں انتشار بڑھتا گیا ، معیشت کا بیڑا غرق ہوا اور ملک کئ سال پیچھے چلا گیا ۔

موجودہ صورتحال بھی2001 سے کچھ مختلف نہیں ملکی معاشی حالت انتہائی تشویشناک ہے پاکستان کے پاس آئی-ایم-ایف کے اقساط کی ادائیگی کا ذریعہ نہیں اور دوسری طرف ایف-اے-ٹی-ایف پاکستان کے گرد گھیرا مزید تنگ کرتا جارہا ہے اڈوں کی فراہمی پر انکار کے بعد خدشہ ہے کہ امریکی پابندیاں مزید سخت ہوں جس کے باعث پاکستان شدید دباؤ کی کیفیت میں مبتلا ہے لیکن 2001 اور موجودہ حالات کا آپس میں موازنہ کریں تو واضح ہوتا ہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس اڈوں کی فراہمی کے علاؤہ دوسرا کوئی آپشن موجود نہیں تھا کیونکہ اس وقت امریکہ یکطرفہ سوپر پاور تھا جس کا اثرورسوخ پورے دنیا پر قائم تھا سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد روس انتہائی کمزور ہو چکا تھا اور چین معاشی اور عسکری لحاظ سے بہت پیچھے تھا۔

لیکن اب حالات یکسر بدل چکے ہیں ابھرتا ہوا چین سیاسی،معاشی،عسکری ہر لحاظ سے مظبوط اور امریکہ کے مدمقابل آچکا ہے چین نے ہی آئی-ایم-ایف کے مدمقابل ایشیائی ترقیاتی بینک کا آغاز کیا تھا۔ “ابسالوٹلی ناٹ” فیصلے کے بعد ممکن ہے کہ آئی-ایم-ایف واجبات اور اقساط کی ادائیگی کو لیکر پاکستان کو بلیک میل کرے لیکن اس سلسلے میں چین ایشیائی ترقیاتی بینک کے ذریعے پاکستان کی مدد کر سکتا ہے کیونکہ 47 بیلین ڈالرز کی وسیع سرمایہ کاری کرنے کے بعد خطے کی سیکیورٹی چین کے لیے بھی اتنا ہی اہم بن چکا ہے جتنا کے پاکستان کے لیے ہے۔۔روس بھی ایک بار پھر فوجی لحاظ سے مظبوط ہو چکا ہے اب پاکستان اور روس کے تعلقات بھی ماضی کے نسبت قدرے بہتر ہو چکے ہیں پاکستانی فوجی امداد کی ضرورت کو روس پورا کر سکتا ہے۔

موجودہ عالمی سیاسی منظرنامے کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اب پاکستان کے پاس امریکی اثرورسوخ سے نکل کر برابری کی سطح پر تعلقات استوار کرنے کا بہترین موقع ہے اور یہ کہ اڈے فراہم کرکے پاکستان کو اپنی سلامتی کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے عمران خان کے اڈے فراہم نا کرنے کا فیصلہ بلکل درست ہے بس اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ پاکستانی قیادت کس حد تک امریکی دباؤ اور پابندیوں کو برداشت کرتا ہے یا پھر ماضی کے حکومتوں کی طرح ڈالروں کے عوض اپنے سلامتی اور قومی وقار کا سودا کرتاہے۔


شیئر کریں: