Chitral Times

May 23, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تخلیقی آئیڈیاز فراہم کرنے والوں کو معاوضہ دیا جائے گا۔ وزیر سائنس وانفارمیشن ٹیکنالوجی

شیئر کریں:

محکمہ سائنس وانفارمیشن ٹیکنالوجی میں (innovation fund)متعارف کرارہے ہیں۔ وزیر سائنس وانفارمیشن ٹیکنالوجی عاطف خان
تخلیقی آئیڈیاز فراہم کرنے والوں کو معاوضہ دیا جائے گا۔ وزیر سائنس وانفارمیشن ٹیکنالوجی
جیم سٹونز، میڈیسنل پلانٹس اور چھوٹے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کو جدید خطوط پر استوار کررہے ہیں، عاطف خان


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا کے وزیر سائنس وانفارمیشن ٹیکنالوجی اور خوراک عاطف خان نے کہا ہے کہ محکمہ سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں انوویشن فنڈز(innovation fund)متعارف کرارہے ہیں تاکہ جیم سٹونز، میڈیسنل پلانٹس اور چھوٹے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے قیام کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کرکے تخلیقی آ ئیڈیاز کی معاونت حاصل کرکے مارکیٹ سے استفادہ حاصل کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لئے نئے تخلیقی ائیڈیاز فراہم کرنے والوں کو معاوضہ بھی دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈائریکٹوریٹ برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کی زیر نگرانی جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے بارے میں بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری سائنس وانفارمیشن ٹیکنالوجی عنبر علی خان،خیبرپختونوا آئی ٹی بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر علی محمود،ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد سمیت دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کو ڈاکٹر خالد نے تفصیلی بریفننگ دی۔

عاطف خان نے کہا کہ مذکورہ منصوبوں کے قیام سے صوبائی مالیات میں اضافے سمیت روزگار کے مواقع اور ماحول دوست توانائی میں خود کفالت حاصل کرنے میں بھی مدد فراہم ملے گی اسکے علاوہ سائنسی مہارت کو بھی عوام کے بہتر مفاد میں استعمال کیا جا سکے گا۔ صوبائی وزیر کو بریفننگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ آئندہ مالی سال2021/22 میں ڈائریکٹوریٹ کے زیر انتظام 394.282 ملین روپے کے جاری منصوبوں کے لیے 120.557 ملین رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 800 ملین روپے کے نئے منصوبے شامل کیے گئے ہیں جن کے لئے اس سال 50 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ ضم اضلاع میں اے آئی پی کے تحت 153.023 ملین روپے کے جاری منصوبوں کے لیے 95 ملین روپے رکھے گئے ہیں جبکہ بجٹ برائے مالی سال 2021-22 میں 300 ملین روپے کی نئی اسکیمیں بھی شامل کی گئی ہیں جن کے لئے اس سال 20 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ اس موقع پر عاطف خان نے متعلقہ حکام کو ھدایات دیں کہ جاری منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے جبکہ نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے بھی پیپر ورک مقررہ وقت پر مکمل کیاجائے کیونکہ تاخیرکسی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔


شیئر کریں: