Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پرندوں و دیگر جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار کے روک تھام کیلئے نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے جائیں۔وزیراعلیٰ

شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے جنگلی حیات کے تحفظ کوصوبے کی حیاتیاتی تنوع کے فروغ کے لئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے محکمہ جنگلی حیات کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ پرندوں اور دیگر جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار کے مو ثر روک تھام کے لئے نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے جائیں اور صوبہ بھر میں پرندوں کے غیر قانونی شکار کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت کاروائیاں عمل میں لائی جائیں جن کی شروعات ان کے آبائی ضلع سوات سے کی جائیں تاکہ پرندوں اور دیگر نایاب جنگلی حیات کی افزائش نسل کو فروغ دے کر صوبے کے قدرتی حسن کو دوبالا کیا جاسکے۔ انہوں نے پرندوں کی افزائش نسل کے لئے موزوں جگہوں پر نجی شعبے کی شراکت سے منصوبے تیار کرنے جبکہ صوبے میں مزید نیشنل پارکس کے قیام کے لئے مجوزہ منصوبوں پر کام کی رفتارتیز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو صوبے کے مختلف اضلاع میں قائم نیشنل پارکس اور گیم ریزورز کے بہتر انتظام و انصرام اور ان کے تحفظ کے لئے بھی ایک جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔وہ گزشتہ روز صوبے میں نیشنل پارکس اور جنگلی حیات کے تحفظ کے سلسلے میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ چیف کنزرویٹروائڈلائف کے علاوہ محکمہ جنگلی حیات کے دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے حکام کو عمارتی لکڑیوں اور نایاب نسل کے پرندوں کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے کے لئے صوبہ بھر میں مستقل بنیادوں پر محکمہ ہائے جنگلات اور جنگلی حیات کی مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کرنے کے لئے بھی ضروری اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔


اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں پروٹیکٹڈ ایریا نیٹ ورک کو بڑھانے اور ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے متعدد نئے نیشنل پارکس تجویز کیے گئے ہیں جن میں 5236 ہیکٹر اراضی پر مشتمل نظام پور نیشنل پارک، 1896 ہیکٹر کمال بن، 2773 ہیکٹر رکھ ٹوپی، 8085 ہیکٹر ملکنڈی، 79515 ہیکٹر کوہ سلیمان 3036 ہیکٹر غسارہ نیشنل پارک شامل ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ بائیو ڈائیورسٹی کو محفوظ بنانے اور اسے فروغ دینے کے لیے بائیو اسفیئر ریزرو تجویز کیے گئے ہیں جن میں 20380 ہیکٹر پر مشتمل منکیال ( سوات) ، 27056 ہیکٹر کمراٹ ( دیر) اور 95521 ہیکٹر پالس ( کوہستان) شامل ہیں۔

اسی طرح صوبے میں جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ان کی افزائش نسل کو بڑھانے کے لیے صوبے میں نئے گیم ریزرو کا قیام تجویز ہے جن میں ضلع بونیر میں 317 ہیکٹر پر مشتمل پارشالئی اور ضلع ہنگو میں 335 ہیکٹر اراضی پر مشتمل دالان گیم ریزرو شامل ہیں۔ٹین بلین ٹری منصوبے کے تحت وائلڈ لائف کے شعبے میں جاری اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے میں تیتر کی افزائش نسل کے لیے 6 بریڈنگ سنٹرز قائم کیے جا چکے ہیں جبکہ کئی نئے پرندے بھی خریدے گئے ہیں۔ اسی طرح وائلڈ لائف کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے 125 کمیونٹی واچرز ہائیر کر لیے گئے ہیں۔ صوبے میں جنگلی جانوروں کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کے لیے اب تک چار وائلڈ لائف چیک پوسٹیں قائم کی جا چکی ہیں جبکہ مزید پر کام جاری ہے۔اس کے علاو ہ پرندوں کی بیرونی ممالک غیر قانونی طور پر منتقلی کو روکنے کے لیے چترال اور پشاور ائیر پورٹس پر کنٹرول سنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔اجلاس کو ضلع سوات میں چڑیا گھر کے قیام پر پیشرفت کے حوالے سے بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی ہو چکی ہے جبکہ دیگر امور پر بھی پیشرفت جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے خصوصی احکامات پر ریسکیو1122 نے ہائی کورٹ بینچ مینگورہ ( دارالقضاء) میں موبائل ہسپتال قائم کردیا اور ضروری عملہ تعینات کر دیا گیا۔ اس موبائل ہسپتال کے قیام سے کسی بھی ہنگامی صورت حال میں وکلاءسمیت عدالت آنے والے سائلین کو علاج معالجے کی مفت سہولیات بروقت میسر ہوں گی۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن مینگورہ بینچ کے وفد نے ایسو سی ایشن کے صدر سعید خان کی قیادت میں وزیر اعلیٰ محمود خان سے ملاقات کرکے انہیں پشاور ہائی کورٹ کے مینگورہ بینچ میں وکلاءاور سائلین کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا تھا جس پر وزیر اعلیٰ نے ان مسائل کے حل کے لئے موقع پر ہی احکامات جاری کئے تھے۔ وفد نے وزیر اعلیٰ سے بینچ میں ایک موبائل ہسپتال فوری طور پر قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ موبائل ہسپتال کے قیام پر ایسوسی ایشن کے صدر سعید خان ایڈووکیٹ نے وزیر اعلیٰ محمود خان کا شکریہ ادا کیا ہے۔


شیئر کریں: