Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایک عہد تمام ہوا……….. تحریر: ثمر خان ثمر

شیئر کریں:


ایک سرکاری ملازم کے لئے مدت ملازمت مکمل کرکے باعزت سبکدوشی سے بڑا اعزاز دوسرا نہیں ہو سکتا۔ یہ خواب ہرسرکاری ملازم اپنی ملازمت کے پہلے دن سے دیکھنے لگتا ہے اور خوش بخت لوگوں کو یہ پُرمسرت لمحہ دیکھنا  نصیب ہوتا ہے۔ ایسے کتنے سرکاری اہلکار ہوں گے جو یہ خواب آنکھوں میں سجائے منوں مٹی تلے جا سوئے اور ایسے کتنے ملازم ہوں گے جو عمر کے اس مرحلے میں پہنچ کر مختلف ہسپتالوں اور گھروں میں بستروں سے جا لگے ہوں گے۔ کتنے ہی اہلکار بدعنوانی اور دو نمبری کا داغ رسوائی ماتھے پہ  لگوا کر منہ چھپاتے پھر رہے ہوں گے۔  ایسے کئی سرکاری ملازموں سے واقف ہوں جو اپنی ملازمت کا طویل سفر طے کرتے کرتے عین منزل کی دہلیز پر پہنچ گئے اور  ادھر زندگی تمام ہوئی۔ حسرتوں ، تمناؤں اور آرزوؤں  کا جنازہ ایک ساتھ نکل گیا۔ یہ اللہ تعالی کا اپنے بندے  پر احسان عظیم ہے ، لطف و کرم ہے  کہ صحت اور عزت کے ساتھ مدت ملازمت کی تکمیل کا موقع بخش دیتا  ہے۔ حاجی عبدالمنان صاحب ، پرنسپل ہائی اسکول گیال داریل اپنی تین دہائیوں پر مشتمل ملازمت سے مورخہ 24 جون 2021 کو سبکدوش ہوگئے۔  ان کی ملازمت کا دورانیہ  قریباً چھتیس برسوں پر محیط رہا۔ اس دوران اُنھوں نے مختلف اداروں میں مختلف عہدوں پر فائز رہ کر خدمات سرانجام دیں۔ اُنھوں نے ایک بےداغ ، صاف شفاف  ، شاندار ، جاندار اور یادگار عہد گزارا۔ ان کا ایک ادنی شاگرد ہونے کے ناطے ان کی سحرانگیز شخصیت پر چند کلمات رقم کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔


مجھے ان کی شاگردی کا شرف حاصل رہا ہے۔ جب استاد تھے تو نہایت مشفق ، مہربان اور ہمدرد تھے۔ اُس زمانے کے روایتی مدرسین سے منفرد تھے۔ اُس وقت مدرس ڈکٹیٹر ہوتا تھا ، طبیعت میں درشتی ، کرختگی اور سختی نمایاں وصف ہوا کرتی تھی۔ کئی کئی مدرس ایسے بھی تھے جن کی ایک جھلک دیکھ کر محاورتاً نہیں ، حقیقاً بچوں کا ” پیشاب” نکل آتا تھا ، لیکن یہ ان سب میں سب سے منفرد تھے۔  شائستگی ، بشاشت اور ہمدردی ان کے مزاج  میں شامل تھی۔ وہ بچوں کے ساتھ آمرانہ نہیں ، دوستانہ سلوک رکھتے تھے۔  کامیاب مدرس کی پہچان یہ ہے کہ بچے اس کی جماعت میں آمد کے منتظر رہیں ، مجھے یاد ہے ، ہمیں ان کی آمد کا بےچینی سے انتظار رہتا تھا۔ وہ ہمیں سائنس پڑھاتے تھے ، پڑھاتے کیا تھے ؟ دماغ کی تختی پر اُتار دیتے تھے۔  زندگی کا بےلگام پہیہ گھومتا رہا ، میں طالب علم سے معلم بن گیا اور پھر وہ وقت بھی آگیا کہ اپنے مرشد کے زیر سایہ  فرض منصبی بجا لانے کا موقع مل گیا۔  جس طرح موصوف روایتی مدرسین سے جدا تھے ، اسی طرح روایتی ” آقاؤں” سے  منفرد تھے۔ اُنھوں نے  عملاً یا قولاً کبھی “باس” ہونے کا احساس نہیں دلایا۔  ان کے زیر سایہ  سات سال کا طویل عرصہ گزارا ،  وہ حقیقی معنوں میں میرکارواں تھے۔ اپنی ٹیم کو ساتھ لے کر چلنے کا فن انھیں بہ خوبی آتا تھا۔  اسکول کا  ہر چھوٹا بڑا مسئلہ شئیر کرتے  ، اساتذہ کی رائے طلب فرماتے  اور اپنا فیصلہ سناتے۔  جب شاگرد تھا تو بحیثیت استاد اور جب مدرس بنا تو بحیثت پرنسپل حاجی صاحب کو مثالی پایا۔  وہی بشاشت  ، وہی شگفتگی  ، وہی تازگی  آج بھی مزاج کا حصہ تھی جو برسوں قبل پائی جاتی تھی۔ 


اُنھوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 5 مئی 1986 کو پرائمری اسکول تھک کوٹ سے کیا۔ 1986 میں شروع ہونے والا طویل سفر 2021 کو اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران مختلف تعلیمی اداروں میں بحیثیت مدرس اور سربراہ ادارہ خدمات سرانجام دیں۔ درمیان میں کچھ عرصہ ماسٹر ٹرینر کے طور پر اساتذہ کی تربیت کا بیڑا اُٹھایا۔ لگ بھگ تیرہ سال  اے ڈی آئی رہے اور شاندار دور گزارا۔   2013 کو ہیڈ ماسٹر ہائی اسکول گیال کا منصب سنبھالا۔ یہ ان کا یادگار دور رہا۔  ان کی سرکردگی میں اسکول نے دن  دو گنی رات چوگنی ترقی کی۔ اگر میں کہوں کہ ادارے کو اپنی اعلی صلاحیتوں کے بل بوتے پر فرش سے عرش پر پہنچا دیا تو بےجا ہرگز نہیں ہوگا۔ اپنی ٹیم کو ساتھ لے کر چلنا آسان کام نہیں ہوتا۔ یہ فن ہر کسی کو نہیں آتا،  خال خال لوگوں میں یہ خوبی پائی جاتی ہے۔ حاجی صاحب اس معاملے میں یدطولی رکھتے تھے۔ محض تیرہ اساتذہ نے ہائی اسکول چلایا اور نہ صرف چلایا بلکہ 2017 میں گلگت بلتستان کا بہترین اسکول ہونے کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا۔ 


حاجی عبدالمنان صاحب کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔ ان کے قبلہ محترم مولانا عبدالرحیم مرحوم تمام عمر امامت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ آج اپنے قبلہ محترم کی مسند ان کے فرزند مولانا عبدالحلیم صاحب نے سنبھال رکھی ہے۔ یہ چھے بھائی ہیں ، دو بھائیوں نے دینی تعلیم سے رشتہ جوڑ رکھا ہے ۔ مولانا عبدالحلیم اور مولانا عبدالخلیل صاحب کا شمار وقت کے جید علمائے کرام میں ہوتا ہے۔ عبدالخبیر صاحب ڈی ڈی زراعت اور عبدالغفار صاحب دیامیر کے معروف نجی اسکول “کرونی” کے پرنسپل ہیں۔ دینی اور عصری تعلیم کے میدان میں اس خاندان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اس خاندان نے دینی و عصری تعلیم کے لئے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ جہاں سے عبدالمنان صاحب کی عملی زندگی کا اختتام ہوا،  وہیں سے ان کی شریک حیات کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ہوا۔ ان کی زوجہ محترمہ برسوں سے سیپ پراجیکٹ کے زیر اہتمام چلنے والے گرلز پرائمری اسکول کی استانی رہی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ملازمت مستقل کر دی گئی اور اب وہ مستقل استانی کے طور پر قوم کی بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہی ہیں۔ غالباً  اپنی والدہ محترمہ کے بعد انھیں داریل کی دوسری استانی ہونے کا شرف حاصل رہا ہے۔ داریل میں بچیوں کی شرح تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اُمید ہے آئندہ چند برسوں میں تعلیم نسواں کے میدان میں انقلاب برپا ہوگا۔


حاجی عبدالمنان صاحب باغ و بہار قسم کے انسان ہیں۔سات سالہ رفاقت کے دوران کبھی ان کے چہرے پر خزاں کے آثار دکھائی نہیں دیے۔ ہشاش بشاش،  ہنس مکھ،  ملنسار۔ مزاج میں ظرافت اور بزلہ سنجی کا عنصر نمایاں ہے۔وہ محفل کی جان ہیں، زندہ دلی میں بے مثال ہیں۔ بڑی جادوئی اور سحرانگیز شخصیت کے مالک ہیں۔ اللہ  نے قوت گویائی سے مالامال کر رکھا ہے۔ ان کی آواز بڑی توانا ہوتی تھی۔ ان کی الوداعی تقریب کو یادگار بنانے کے لئے ڈی ڈی او شپ گیال کے جملہ اسٹاف نے شبانہ روز محنت کی۔ جب تمام تر انتظامات مکمل ہوئے،  مہمان مدعو ہوئے،  مویشی ذبح ہوئے،  پنڈال اور کرسیاں لگ گئیں،  تب وہ دلدوز واقعہ رونما ہوا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ داریل کے اکلوتے مسیحا،  داریل کا عظیم سرمایہ،  ڈاکٹر عبدالقدیم صاحب حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے راہی ملک عدم ہوئے۔ یہ جانکاہ خبر بجلی بن کر گری اور ہمارے سبھی خوابوں کو چکناچور کر گئی۔ انسان سوچتا کچھ ہے، ہوتا کچھ اور ہے۔ وادی داریل سوگ کی کیفیت میں مبتلا ہوگئی اور تقریب انتہائی سادگی اور اختصار کے ساتھ منانی پڑی۔ خود ڈاکٹر مرحوم اس تقریب میں مدعو تھے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ 


اس سب کے باوجود کثیر تعداد میں محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیداران ، دیگر محکموں کے اعلی آفیسران اور عوام کا جم غفیر اُمنڈ آیا۔ مقررین نے زبردست خراج تحسین پیش کیا اور تحائف کا انبار لگا دیا۔ مجھے حقیقی معنوں میں ایک “معلم” کا سماج کے اندر پائی جانے والی عزت و توقیر کا ادراک ہوا۔  مجھے معلوم ہوا کہ ایک استاد کو اپنا مقام سبکدوشی کے بعد معلوم پڑتا ہے۔ بڑے بڑے سرکاری ملازم ریٹائرڈ ہوتے ہیں لیکن قوم جس شاہانہ اور والہانہ انداز میں ایک مدرس کو الوداع کہتی ہے،  اس کی نظیر نہیں ملتی۔ یہ زندہ قوموں کا شعار ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو زبردست انداز میں یاد رکھتی ہیں۔ مجھے لوگوں کا والہانہ پن اور وارفتگی دیکھ کر رشک آیا۔ بظاہر مدرس سماج کا پچھڑا طبقہ تصور ہوتا ہے،  خود مدرسین بھی احساس کمتری کا شکار ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ایک مدرس کے پاس آفیسری کا رعب و دبدبہ ہوتا ہے نہ شاہانہ دفتر،  نوکر چاکر ہوتے ہیں نہ پرتعیش گاڑی ، اس کے باوجود بھی عوام کے دلوں میں مقام و مرتبہ ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ عوامی شعور و احساس ابھی زندہ ہے۔ میں بذریعہ تحریر اپنے ہم پیشہ احباب سے مخاطب ہوں کہ پہلے خود کو حقیقی معنوں میں معلم کے سانچے میں ڈھال کر تو دیکھیں،  دنیا دیکھے گی کہ سماج کیسے سر پہ بٹھاتا ہے، اور کیسے عزت و احترام سے نوازتا ہے؟ جب معلم،  معلم ہی نہ رہے،  محض پیسہ بنانے والی مشین بن کر رہے،  پھر سماج سے شکوہ کیا اور شکایت کیسی؟ حقیقی عزت وہ ہے جو بےلاگ،  بےلوث اور بےغرض ہو اور یقیناً یہ ایک مدرس کے حصے میں آتی ہے لیکن مدرس کا حقیقی معنوں میں مدرس ہونا لازمی ہے۔


ایک سرکاری ملازم کے لئے مدت ملازمت مکمل کرکے باعزت سبکدوشی سے بڑا اعزاز دوسرا نہیں ہو سکتا۔ یہ خواب ہرسرکاری ملازم اپنی ملازمت کے پہلے دن سے دیکھنے لگتا ہے اور خوش بخت لوگوں کو یہ پُرمسرت لمحہ دیکھنا  نصیب ہوتا ہے۔ ایسے کتنے سرکاری اہلکار ہوں گے جو یہ خواب آنکھوں میں سجائے منوں مٹی تلے جا سوئے اور ایسے کتنے ملازم ہوں گے جو عمر کے اس مرحلے میں پہنچ کر مختلف ہسپتالوں اور گھروں میں بستروں سے جا لگے ہوں گے۔ کتنے ہی اہلکار بدعنوانی اور دو نمبری کا داغ رسوائی ماتھے پہ  لگوا کر منہ چھپاتے پھر رہے ہوں گے۔  ایسے کئی سرکاری ملازموں سے واقف ہوں جو اپنی ملازمت کا طویل سفر طے کرتے کرتے عین منزل کی دہلیز پر پہنچ گئے اور  ادھر زندگی تمام ہوئی۔ حسرتوں ، تمناؤں اور آرزوؤں  کا جنازہ ایک ساتھ نکل گیا۔ یہ اللہ تعالی کا اپنے بندے  پر احسان عظیم ہے ، لطف و کرم ہے  کہ صحت اور عزت کے ساتھ مدت ملازمت کی تکمیل کا موقع بخش دیتا  ہے۔ حاجی عبدالمنان صاحب ، پرنسپل ہائی اسکول گیال داریل اپنی تین دہائیوں پر مشتمل ملازمت سے مورخہ 24 جون 2021 کو سبکدوش ہوگئے۔  ان کی ملازمت کا دورانیہ  قریباً چھتیس برسوں پر محیط رہا۔ اس دوران اُنھوں نے مختلف اداروں میں مختلف عہدوں پر فائز رہ کر خدمات سرانجام دیں۔ اُنھوں نے ایک بےداغ ، صاف شفاف  ، شاندار ، جاندار اور یادگار عہد گزارا۔ ان کا ایک ادنی شاگرد ہونے کے ناطے ان کی سحرانگیز شخصیت پر چند کلمات رقم کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔


مجھے ان کی شاگردی کا شرف حاصل رہا ہے۔ جب استاد تھے تو نہایت مشفق ، مہربان اور ہمدرد تھے۔ اُس زمانے کے روایتی مدرسین سے منفرد تھے۔ اُس وقت مدرس ڈکٹیٹر ہوتا تھا ، طبیعت میں درشتی ، کرختگی اور سختی نمایاں وصف ہوا کرتی تھی۔ کئی کئی مدرس ایسے بھی تھے جن کی ایک جھلک دیکھ کر محاورتاً نہیں ، حقیقاً بچوں کا ” پیشاب” نکل آتا تھا ، لیکن یہ ان سب میں سب سے منفرد تھے۔  شائستگی ، بشاشت اور ہمدردی ان کے مزاج  میں شامل تھی۔ وہ بچوں کے ساتھ آمرانہ نہیں ، دوستانہ سلوک رکھتے تھے۔  کامیاب مدرس کی پہچان یہ ہے کہ بچے اس کی جماعت میں آمد کے منتظر رہیں ، مجھے یاد ہے ، ہمیں ان کی آمد کا بےچینی سے انتظار رہتا تھا۔ وہ ہمیں سائنس پڑھاتے تھے ، پڑھاتے کیا تھے ؟ دماغ کی تختی پر اُتار دیتے تھے۔  زندگی کا بےلگام پہیہ گھومتا رہا ، میں طالب علم سے معلم بن گیا اور پھر وہ وقت بھی آگیا کہ اپنے مرشد کے زیر سایہ  فرض منصبی بجا لانے کا موقع مل گیا۔  جس طرح موصوف روایتی مدرسین سے جدا تھے ، اسی طرح روایتی ” آقاؤں” سے  منفرد تھے۔ اُنھوں نے  عملاً یا قولاً کبھی “باس” ہونے کا احساس نہیں دلایا۔  ان کے زیر سایہ  سات سال کا طویل عرصہ گزارا ،  وہ حقیقی معنوں میں میرکارواں تھے۔ اپنی ٹیم کو ساتھ لے کر چلنے کا فن انھیں بہ خوبی آتا تھا۔  اسکول کا  ہر چھوٹا بڑا مسئلہ شئیر کرتے  ، اساتذہ کی رائے طلب فرماتے  اور اپنا فیصلہ سناتے۔  جب شاگرد تھا تو بحیثیت استاد اور جب مدرس بنا تو بحیثت پرنسپل حاجی صاحب کو مثالی پایا۔  وہی بشاشت  ، وہی شگفتگی  ، وہی تازگی  آج بھی مزاج کا حصہ تھی جو برسوں قبل پائی جاتی تھی۔ 


اُنھوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 5 مئی 1986 کو پرائمری اسکول تھک کوٹ سے کیا۔ 1986 میں شروع ہونے والا طویل سفر 2021 کو اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران مختلف تعلیمی اداروں میں بحیثیت مدرس اور سربراہ ادارہ خدمات سرانجام دیں۔ درمیان میں کچھ عرصہ ماسٹر ٹرینر کے طور پر اساتذہ کی تربیت کا بیڑا اُٹھایا۔ لگ بھگ تیرہ سال  اے ڈی آئی رہے اور شاندار دور گزارا۔   2013 کو ہیڈ ماسٹر ہائی اسکول گیال کا منصب سنبھالا۔ یہ ان کا یادگار دور رہا۔  ان کی سرکردگی میں اسکول نے دن  دو گنی رات چوگنی ترقی کی۔ اگر میں کہوں کہ ادارے کو اپنی اعلی صلاحیتوں کے بل بوتے پر فرش سے عرش پر پہنچا دیا تو بےجا ہرگز نہیں ہوگا۔ اپنی ٹیم کو ساتھ لے کر چلنا آسان کام نہیں ہوتا۔ یہ فن ہر کسی کو نہیں آتا،  خال خال لوگوں میں یہ خوبی پائی جاتی ہے۔ حاجی صاحب اس معاملے میں یدطولی رکھتے تھے۔ محض تیرہ اساتذہ نے ہائی اسکول چلایا اور نہ صرف چلایا بلکہ 2017 میں گلگت بلتستان کا بہترین اسکول ہونے کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا۔ 


حاجی عبدالمنان صاحب کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔ ان کے قبلہ محترم مولانا عبدالرحیم مرحوم تمام عمر امامت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ آج اپنے قبلہ محترم کی مسند ان کے فرزند مولانا عبدالحلیم صاحب نے سنبھال رکھی ہے۔ یہ چھے بھائی ہیں ، دو بھائیوں نے دینی تعلیم سے رشتہ جوڑ رکھا ہے ۔ مولانا عبدالحلیم اور مولانا عبدالخلیل صاحب کا شمار وقت کے جید علمائے کرام میں ہوتا ہے۔ عبدالخبیر صاحب ڈی ڈی زراعت اور عبدالغفار صاحب دیامیر کے معروف نجی اسکول “کرونی” کے پرنسپل ہیں۔ دینی اور عصری تعلیم کے میدان میں اس خاندان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اس خاندان نے دینی و عصری تعلیم کے لئے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ جہاں سے عبدالمنان صاحب کی عملی زندگی کا اختتام ہوا،  وہیں سے ان کی شریک حیات کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ہوا۔ ان کی زوجہ محترمہ برسوں سے سیپ پراجیکٹ کے زیر اہتمام چلنے والے گرلز پرائمری اسکول کی استانی رہی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ملازمت مستقل کر دی گئی اور اب وہ مستقل استانی کے طور پر قوم کی بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہی ہیں۔ غالباً  اپنی والدہ محترمہ کے بعد انھیں داریل کی دوسری استانی ہونے کا شرف حاصل رہا ہے۔ داریل میں بچیوں کی شرح تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اُمید ہے آئندہ چند برسوں میں تعلیم نسواں کے میدان میں انقلاب برپا ہوگا۔


حاجی عبدالمنان صاحب باغ و بہار قسم کے انسان ہیں۔سات سالہ رفاقت کے دوران کبھی ان کے چہرے پر خزاں کے آثار دکھائی نہیں دیے۔ ہشاش بشاش،  ہنس مکھ،  ملنسار۔ مزاج میں ظرافت اور بزلہ سنجی کا عنصر نمایاں ہے۔وہ محفل کی جان ہیں، زندہ دلی میں بے مثال ہیں۔ بڑی جادوئی اور سحرانگیز شخصیت کے مالک ہیں۔ اللہ  نے قوت گویائی سے مالامال کر رکھا ہے۔ ان کی آواز بڑی توانا ہوتی تھی۔ ان کی الوداعی تقریب کو یادگار بنانے کے لئے ڈی ڈی او شپ گیال کے جملہ اسٹاف نے شبانہ روز محنت کی۔ جب تمام تر انتظامات مکمل ہوئے،  مہمان مدعو ہوئے،  مویشی ذبح ہوئے،  پنڈال اور کرسیاں لگ گئیں،  تب وہ دلدوز واقعہ رونما ہوا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ داریل کے اکلوتے مسیحا،  داریل کا عظیم سرمایہ،  ڈاکٹر عبدالقدیم صاحب حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے راہی ملک عدم ہوئے۔ یہ جانکاہ خبر بجلی بن کر گری اور ہمارے سبھی خوابوں کو چکناچور کر گئی۔ انسان سوچتا کچھ ہے، ہوتا کچھ اور ہے۔ وادی داریل سوگ کی کیفیت میں مبتلا ہوگئی اور تقریب انتہائی سادگی اور اختصار کے ساتھ منانی پڑی۔ خود ڈاکٹر مرحوم اس تقریب میں مدعو تھے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ 


اس سب کے باوجود کثیر تعداد میں محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیداران ، دیگر محکموں کے اعلی آفیسران اور عوام کا جم غفیر اُمنڈ آیا۔ مقررین نے زبردست خراج تحسین پیش کیا اور تحائف کا انبار لگا دیا۔ مجھے حقیقی معنوں میں ایک “معلم” کا سماج کے اندر پائی جانے والی عزت و توقیر کا ادراک ہوا۔  مجھے معلوم ہوا کہ ایک استاد کو اپنا مقام سبکدوشی کے بعد معلوم پڑتا ہے۔ بڑے بڑے سرکاری ملازم ریٹائرڈ ہوتے ہیں لیکن قوم جس شاہانہ اور والہانہ انداز میں ایک مدرس کو الوداع کہتی ہے،  اس کی نظیر نہیں ملتی۔ یہ زندہ قوموں کا شعار ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو زبردست انداز میں یاد رکھتی ہیں۔ مجھے لوگوں کا والہانہ پن اور وارفتگی دیکھ کر رشک آیا۔ بظاہر مدرس سماج کا پچھڑا طبقہ تصور ہوتا ہے،  خود مدرسین بھی احساس کمتری کا شکار ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ایک مدرس کے پاس آفیسری کا رعب و دبدبہ ہوتا ہے نہ شاہانہ دفتر،  نوکر چاکر ہوتے ہیں نہ پرتعیش گاڑی ، اس کے باوجود بھی عوام کے دلوں میں مقام و مرتبہ ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ عوامی شعور و احساس ابھی زندہ ہے۔ میں بذریعہ تحریر اپنے ہم پیشہ احباب سے مخاطب ہوں کہ پہلے خود کو حقیقی معنوں میں معلم کے سانچے میں ڈھال کر تو دیکھیں،  دنیا دیکھے گی کہ سماج کیسے سر پہ بٹھاتا ہے، اور کیسے عزت و احترام سے نوازتا ہے؟ جب معلم،  معلم ہی نہ رہے،  محض پیسہ بنانے والی مشین بن کر رہے،  پھر سماج سے شکوہ کیا اور شکایت کیسی؟ حقیقی عزت وہ ہے جو بےلاگ،  بےلوث اور بےغرض ہو اور یقیناً یہ ایک مدرس کے حصے میں آتی ہے لیکن مدرس کا حقیقی معنوں میں مدرس ہونا لازمی ہے۔


شیئر کریں: