Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بزمِ درویش۔۔۔۔۔۔ملاوٹ۔۔۔۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

شیئر کریں:

شیخ صاحب بیس سال بعد مُجھ سے ملنے آئے تھے میری اِن سے پہلی ملاقات بیس سال پہلے کوہ مری میں ہوئی تھی جب یہ اپنی جوانی کے جوبن پر تھے مری میں قیام کے دوران مو سم گرما میں پاکستان بھر سے مہمان موسلا دھار بارش کی طرح ہم لوگوں پر برستے تھے شیخ صاحب میرے دوست کے گھر مری کا خوشگوار ٹھنڈا موسم انجوائے کرنے آتے تھے میں اُن دنوں پامسٹری علم الاعداد کے اسراروں میں الجھا ہوا تھا حضرت انسان کا مطالعہ پورے جوبن پر تھا ابتدا میں ہی میر ے کُچھ تکے لگ گئے تھے میرا تعارف کامیاب پامسٹ اور روحانی عامل کے طور پر ہو چکا تھا اِس لیے رہائشی کالونی میں جس کے گھر بھی مہمان آتا وہ میرے پاس ضرور آتا جب شیخ صاحب اپنی بیگم اور دو بیٹیوں کے ساتھ مری میں آئے تھے میرے دوست نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ یار تم عجیب و غریب لوگوں کی تلاش میں رہتے ہو تو یہ شیخ صاحب جو اُس وقت تیس سال سے اوپر کے ہو چکے تھے اِن کے بار ے میں بتایا کہ شیخوں کی اصلی خوبی کنجوسی کا یہ بلامقابلہ شہنشاہ ہے اور پیسے کمانے میں کوئی اِس کا ثانی نہیں ہے کاروباری اسرار و رموز کا اِس قدر ہو شیار ماہر ہے کہ کاروباری حلقوں میں اِس کو شیخ کمپیوٹر کے نام سے جانا جاتا ہے کہ چیزوں کو کامیابی سے بیچنا کاروباری معاملات کو چالاکی مہارت سے لاکھوں روپے ہر ماہ کامیابی سے کمارہا ہے

کاروبای حلقوں میں یہ گرو کمپیوٹر کے نام سے پہچانا جاتا ہے لوگ اِس سے مشورہ لے کر کام کرتے ہیں میرے دوست نے شیخ صاحب کی بہت زیادہ تعریفیں کر دیں کہ یہ انسان نہیں پیسے کمانے والی اے ٹی ایم مشین ہے جودن رات پیسے کمائی جا رہی ہے شیخ صاحب پیٹرول پمپ اور سپر سٹور کا کام کرنے کے ساتھ تھوک کا کام بھی کرتے تھے یعنی باقی کے پیٹرول پمپوں اور دوکانوں کو اناج دیتے تھے اپنے کامیاب کاروبار اور کمائی کی وجہ سے شیخ صاحب بیس سال پہلے ہی کروڑ پتی بن چکے تھے کیونکہ شیخ صاحب نے بہت سارا مال اکٹھا کر لیا تھا اِس لیے اب ان کو اولاد نرینہ کی کمی بہت محسوس ہو تی تھی ان کی دوبیٹیاں تھیں جو پرایا مال تھا انہوں نے شادیوں کے بعد پرائے گھر چلے جانا تھا اِس لیے شیخ صاحب بیٹے کی خواہش کے لیے میرے پاس آئے کہ میں حساب زائچہ نکال کر ان کو خوشخبری سناؤں شیخ صاحب دل چسپ کریکٹر تھے

اِس لیے میں بھی دل دچسپی سے اُن کا مشاہدہ کر نا چاہتا تھا شیخ صاحب میرے پاس آکر بیٹھ گئے میرے پاس بیٹھنے سے پہلے جب انہوں نے دوست سے یہ پوچھا کہ اِس حساب کے کتنے پیسے دینے ہونگے اور میرے دوست نے جب یہ بتایا کہ نہیں یہ سہولت آپ کو مفت میں مل رہی ہے آپ نے پیسے بلکل نہیں دینے تو اور بھی خوشی سے میرے پاس بیٹھ گئے بات چیت شروع ہو ئی تو شیخ صاحب نے اپنی مدح سرائی شروع کر دی کہ میں پچھلے کئی سالوں سے انتہائی کامیابی سے کاروبار کر رہا ہوں میں نے زندگی میں جو کچھ چاہا وہ حاصل کیا میں تو حیران ہو تاہوں کہ کاروبار میں نقصان کیسے اور کن لوگوں کو ہو تا ہے میں عقل مندی ذہانت اور کاروباری اونچ نیچ دیکھ کر کاروبار کرتا ہوں مجھے تو کبھی بھی نقصان نہیں ہوا وہ اپنی تعریفیں کئے جا رہے تھے درمیان میں ایک بار میں بولا کہ یہ سب خدائے بزرگ و برتر کے انعامات ہیں ورنہ انسا ن تو غلطی کا پتلہ ہے لیکن شیخ صاحب اپنی بات پر ڈٹ گئے کہ اگر انسان دماغ اور ہو شیاری سے کاروبار کرے تو نقصان نہیں ہو تا نقصان بے وقوفوں کو ہوتا ہے جو وقت پر کاروباری فیصلے نہیں کرتے اگر آپ بر وقت فیصلے کر لیں تو آپ کو کبھی نقصان نہیں ہوتا .

شیخ صاحب اپنی کاروباری کامیابیوں کو خدا کا فضل سمجھنے کی بجائے ذاتی خوبی قرار دے رہے تھے جب شیخ صاحب خوب بول چکے تو میں بو لا شیخ صاحب آپ جو پیٹرول تیل اور غذائی اجناس میں ملاوٹ کر کے لوگوں کی نظروں کو دھوکا دے کر اپنے بزنس کو کا میاب بنا رہے ہیں یہ کوئی کارنامہ نہیں ہے بلکہ ملاوٹ تو اسلام میں سرا سر حرام ہے جو ملاوٹ کرتا ہے ایک دن خدا کی لاٹھی حرکت میں آتی ہے پھر ساری چالاکیاں خاک میں مل جاتی ہیں میری بات سن کر شیخ صاحب شرمندہ ہو نے کی بجائے ڈھٹائی سے بولے آپ کس دور کی باتیں کر رہے ہیں آج کل کون ملاوٹ نہیں کر رہا یہاں تو ہر بندہ ہی ایسے کام پر لگا ہوا ہے ملاوٹ کے بغیر آپ منافع کما ہی نہیں سکتے بلکہ عوام کو خالص چیزوں کی عادت ہی نہیں رہی اگر لوگوں کو خالص چیزیں دیں تو اُن کے معدے خراب ہو جاتے ہیں اب شیخ صاحب نے ملاوٹ پر الفا ظ کی جادوگری شروع کر دی وہ اپنی گفتگو سے ملاوٹ کو درست قرار ردینے پر تلے ہوئے تھے جبکہ میں اُن کی بات ماننے پر بلکل بھی تیار نہیں تھا میں نے مہذب طریقے سے اُن کو بہت سمجھایا کہ ملاوٹ کر کے آپ قدرت کے ساتھ پنگا لینے کی کو شش کر تے ہیں اور قدرت سے پنگا کسی بھی دور کے فرعون کو برباد کر دیتا ہے لیکن طاقت جوانی اور دولت کے خمار میں شیخ صاحب ہار ماننے کو تیار نہیں تھے.

بہر حال شیخ صاحب مہمان تھے میں نے گفتگو کو تلخی سے دور رکھا شیخ صاحب کو ایک خواہش کہ مجھے بیٹا ہو گا کہ نہیں تو میں نے کہا اللہ تعالی آپ کو انشاء اللہ اولاد نرینہ سے نوازے گا پھر جب شیخ صاحب جانے لگے تو میں نے پھر کہا شیخ صاحب خدا کے ساتھ چالاکی اور اُس کی مخلوق کے ساتھ ملاوٹ نہ کریں ورنہ خدا آپ کے ساتھ ملاوٹ کر دے گا تو شیخ صاحب تمسخرانہ مسکرا کر بات ٹال گئے پھر چند دن رہ کر چلے گئے اور ماضی کا حصہ بن گئے پھر میں لاہور آگیا قافلہ روز و شب چلتا رہا کہ بیس سال گزر گئے اور یہ میرے پاس آئے پہلے تو میں نے بلکل بھی نہیں پہچانا تو انہوں نے میرے مری والے دوست کا حوالہ دیا اپنا نام شیخ کمپیوٹر بتایا تو ماضی کے دھند کلے چھٹ گئے میں اِن کو اندر لے آیا شیخ صاحب نے لمبی داڑھی رکھ لی اب پچاس سال سے زیادہ ساٹھ سال کے لگ رہے تھے انہوں نے بولنا شروع کیا پروفیسر صاحب بیس سال پہلے آ پ نے مجھے بہت روکا کہ میں ملاوٹ نہ کروں لیکن میں طاقت دولت جوانی کے نشے میں فرعون بنا انکار کرتا رہا آپ سے ملنے کے ایک سال بعد اللہ نے مجھے بیٹا عطا کیا جو نا مکمل تھا نہ مرد نہ عورت یہ میری ملاوٹ کی پہلی سزا تھی وہ بڑا ہوا تو بلڈ کینسر کا شکار ہو گیا اللہ نے اُس کے خون میں ملاوٹ کر دی میں دنیا جہاں کے ملکوں میں گیا اپنی ساری دولت لگا دی لیکن اُس کو نہ بچا سکا خدا نے مجھے میری ملاوٹ کی سزا دی اب میں توبہ کر چکا ہوں مری سے آپ کا ایڈریس لے کر آپ سے ملنے آیا ہوں اور اقرار کر تا ہوں کہ کاش میں اُس وقت آپ کی بات مان لیتا تو آج میرا بیٹا میرے پاس ہوتا لیکن میں نے اُس کی مخلوق سے ملاوٹ کی اللہ نے میرے ساتھ ملاوٹ کر دی پھر شیخ صاحب خوب رو کر چلے گئے اور میں خدا کے نظام پر حیران کہ وہ کس طرح حرکت میں آکر حساب چکا دیتا ہے۔


شیئر کریں: