Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

“نن تاتن خیال اژیلین سوری اژیلین خیال داربوختو”‎……..تحریر :صوفی محمد اسلم

شیئر کریں:

یہ محاورہ معاشرے میں صرف والدیں کے زبان سے ہی سنتے ائے ہیں ۔ جب تک اولاد صاحب اولاد نہیں ان کے منہ سے شاید ہی کوئ یہ محاورہ سنا ہوگا۔اس محاورے کا اسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ والدیں اولاد کے بارے میں سوچتے ہیں اور اولاد مادی دنیا کی فکر میں مگن رہتے ہیں۔ “دار بوخت” سے مراد یہاں مال دولت ہے۔ جس کی تلاش میں اکثر اپنے والدیں کو بھول ہیں جاتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ کوئ سفید بالوں والی و سفید داڑھی والا اس کی راہ تَک رہے ہیں۔ اس کی چہرے کی مسکراہٹ اور چند بولیاں سننے کیلئے ترس رہے ہیں۔ یہاں والدیں اپنے اولاد کی اس بے نیازی کی شکایت کرتے ہیں یعنی ہم والدیں ہمیشہ اس کے بارے میں سوچتے ہیں مگر ان کو ہمارے احساس ہی نہیں ہماری طرف دھیاں ہی نہیں دیتے ہیں، ہمارے دکھ انہیں نظر ہی نہیں اتے ہیں۔ والدیں کا یہ کہنا ہے جس طرح وہ اولاد کے بارے میں بیقرار رہتے ہیں تو ان کا بھی حق بنتا ہے کہ کم از کم دنیاداری کو ان سے زیادہ اہمیت نہ دی جائے بلکہ انہیں بھی وقت دیا جائے،ان کی تنہائ اور بڑھاپے کا سہارا بنے۔ ۔


چند دن پہلے کی بات ہے کہ میرے ایک دوست نو دس سال بیرون ملک میں گزار نے کے بعد اپنے نئے تعمیر کردہ گھر میں شفٹ ہورہا تھا۔ اس پروگرام میں ُمیں،بھی مدعو تھا۔ادھر جاکے دیکھا جشن کا سما ہے لوگ اتے ہیں اور مبارک باد دیتے ہیں۔ گھر میں داخل ہوا تو دوست مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے گلے ملے بہت خوش تھا۔ اس کی خوشی دیکھ کر میں مبارک باد دیدیا، وہ بھی پر جوش انداز اور بلند اواز میں خیر مبارک کہا۔ ساتھ ہی اس کے والد بھی کھڑا تھا، بظاہر خوش لگ رہا تھا۔ مگر مجھے اس کے چہرے میں دل کی اداس کیفیت صاف دکھائ دیرہی تھی۔اس کی یہ حالت دیکھ کر میں درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ماما یہ نیا گھر اپ کو بھی بہت مبارک ہو۔ میرے الفاظ سن کر دھیمی اواز میں مسکرانے کی انداز میں خیر مبارک کہا ۔ اس کا دل رکھنے کیلئے میں کہا کہ ماما خوشی اس بات کی ہے کہ اج آپ ایک خاندان سے نکل کر دو خاندان بن گئے ہو۔ اج کے بعد اپ ایک گھر کی نہیں بلکہ دو خاندان کے مالک ہیں۔ اس بات پر اس نے کہا بیٹا اس عمر میں والدیں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اولاد کم از کم شام کو اکر اسے ملے اس کا چہرہ دیکھ کر دل کو تسلی ہوتی ہے ۔تب وہ اس محاورے کو دہرایا اور آبدیدہ سا ہوگیا۔ دوست کو والد کی اس دکھ کا احساس ہی نہیں تھا وہ اپنے نئے گھر کی خوشی میں مست تھا۔ والد جس انداز سے دیکھ رہاتھا شاید اس انداز سے دیکھنے کیلئے اس کے پاس وہ صلاحیت ہی نہیں تھا۔ 


والدیں کو اولاد کی خوشی کا خیال اس کے پیدایش سے پہلے شروغ ہوتی ہے۔ اس کی پیدایش پر ہنستے مسکراتے خوشیاں مناتے ہیں۔ بچے کی پہلی اواز پر، سکول جانے پر، پہلی روزہ رکھنے پر،  پہلی اشکار سے لیکر شادی تک ہزاروں ایسے مواقع اتے ہیں جہاں والدیں اپنے اولاد کے خاطر جشن مناتے اور میٹھایاں تقسیم کرتے ہیں۔ اس کے خوشی میں خوب شریک ہوتے ہیں۔ رات بھر اس کی جھوٹے رونے پر  پریشانیاں سہلیتے ہیں۔ دن بھر اس کے نخرے برداشت کرتے ہیں۔ اس کی ہر تلخی کو معصومیت سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔ اس کے ہر ضد کے سامنے ہار مانتے ہیں۔ خود سوکھی روٹی کھاتے ہیں ان کے سامنے” چھمانی” بہتریں کھانا رکھتے ہیں۔ جب اولاد گھر سے نکلتا ہے تو والدیں دعا دیکر رخصت کرتے ہیں۔ والدیں کی نظریں اور دعائیں اسکا پیچھا کرتے ہیں۔  والدیں اس کے خبر  سفر بخیریت کے منتظر رہتے ہیں۔ واپسی پر والدیں کی نظریں دروزے میں ٹک جاتی ہیں۔ اتے ہی ہر لمحہ کی خبر پوچھتے ہیں۔ مثلا” کہاں کہاں گیا،  کیسے گیا سفر میں کوئ تکلیف تو نہیں ہوئ،  کھانا کہاں کھایا، کیا کھایا، ارام کہاں کیا اور یہاں تک گرمی سردی کے بارے میں بھی پوچھتے ہیں اور اولاد سے بھی کچھ اس طرح کے توقعات رکھتے ہیں۔ اولاد کیلئے یہ سب بیسود ہیں مگر والدیں کو اولاد کے معاملے میں یہی باتیں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔  


اولاد والدیں کے اکثر معاملات میں کوتاہیاں کرتے ہیں۔ وہ ایسے چھوٹے چھوٹے باتوں میں جھنجھلاہٹ محسوس کرتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ والدیں کو یہ چھوٹے چھوٹے واقعات بتانے سے کیا فائیدہ ۔ اولاد اس میں بھی خودغرضی دیکھاتی ہے ایسے مواقع پر بھی اپنے ہی فائدے اور نقصان کے بارے میں سوچتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم نہیں کہ  والدیں انہیں اب بھی بچہ ہی سمجھتے ہیں۔وہ ان کے گفتگو سے لطف اندوز ہوتے ہیں، ان کے خوشی میں مسکرانا چاہتے ہیں۔ اکثر اولاد والدیں کو یا تو بہت بڑی خوشی میں شریک کرتے ہیں یا بڑے غم میں۔ اس کے بیچ میں سارے معاملات سے والدیں بے خبر رہتے ہیں۔ اس میں بھی اولاد کی خودغرضی اسے اکساتی ہے کیونکہ انکو پتا ہے دنیا نہ تو اس کی خوشی میں خوش ہیں نہ غم میں دکھ۔ اس کی خوشی میں سب سے زیادہ خوش اور غم میں سب سے غمگیں ہونے والے صرف اور صرف اس کے والدیں ہیں۔ اسے معلوم ہے کہ مصیبت کے وقت اس کے حق میں اٹھنے والا والد کے ہاتھ اور ماں کی جھولی ہی کافی ہیں۔


 میں نے دیکھا ہے والدیں اولاد کی اک نظر دیکھنے کیلئے اشکبار ہوتے ہوئے۔ اس کی یاد میں تڑپتے ہوئے۔ میں کھبی کسی کو اپنے حیات والدیں کی یاد میں انسو بہاتے ، ان کے محبت میں اشک بار ہوتے نہیں دیکھا۔ جس انداز سے والدیں اپنے اولاد کے بارے میں سوچتے ہیں اولاد اس انداز سے اس کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتے۔ وہ جس شفقت کی نظر سےاولاد کو دیکھتے ہیں اولاد کے پاس وہ نظر ہی نہیں ہے۔اولاد اپنے مستقبل کے خواب انکھوں میں سمائے گھومتے رہتے ہیں اور والدیں اپنے اولاد کے صورت اس کی خوشی اپنے دل و دماغ میں بسائے رکھتے ہیں۔ اگر اولاد چاہے تو  اپنے چھوٹے چھوٹے خوشیوں کو والدیں کے ساتھ شیر کر کے،خود کو انکے وجود کا حصہ تسلیم کرکے ان کے ساتھ وقت گزار کر اس تفرق کم کیا جاسکتا ہے۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی اس مبارک ارشاد یعنی اپنے والدیں کے سامنے “اُف” تک نہ کہنے کی حکم پر عمل کرتے ہوئے اس خلا کو کم کیا جاسکتا ہے۔ بیشک نیکیوں کا خزانہ اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔


وماعلینا الاالبلاع۔
تحریر :صوفی محمد اسلم۔


شیئر کریں: