Chitral Times

Oct 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دنیا کی سب سے بڑی دولت نیک بیوی…..تحریر: سردار علی سردارؔ

شیئر کریں:

خداوندتعالیٰ نے جہاں انسان کو مال و متاع،دولت اور عزّت جیسی نعمتیں عنایت کی ہیں وہاں زندگی کو  پُرمسرت اور خوشگوار بنانے کے لئے ایک نیک بیوی بھی اُسے عطا فرمایا ہے اور یہ وہ عطیہ رباّنی ہے کہ جس کے لئے انسان اگر خدائے بے نیاز کا لاکھ دفعہ بھی شکر بجا لائے کم ہے کیونکہ پروردگارِ عالم کی طرف سے یہ ایک عظیم تحفہ ہے جسے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے عطا فرمادیتا ہے۔

 دنیا میں خدا کی دی ہوئی نعمتیں اور رحمتیں چاہے دولت کی صورت میں ہویا اولاد کی صورت میں ،سب وقت کے لحاظ سے اچھے ہیں لیکن ان سب پر فضلیت دنیا میں نیک بیوی کو ہی تصّور کیا جاتا ہے باقی چیزیں وقت کے ساتھ ناپید ہوجاتی ہیں صرف نیک عورت کا فائدہ ہی پائدار ہے  جیسا کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ اَلدُنیا َ کُلُہاَ مَتَاعُ وَ خیَرُ مَتَاعِ مَتَاعُ الدُنیاَ الَمرَاءۃُ الَصاَلَحۃُ۔ 

ترجمہ: دنیا کی تمام چیزیں عارضی فائدہ مند ہیں اور دنیا کی بہترین فائدہ اٹھانے کی چیزنیک عورت ہے کہ نیک عورت کا فائدہ پائدار اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔  (مولانا محمد ادریس انصاری۔ مسلمان خاوند ۔ کراچی۔ 1969۔ ص  5)

ماہرین نفسیات کے مطابق بہت سے مسائل شریک حیات کو نہ سمجھنےکی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اُس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے ساتھی کو اچھی طرح سمجھا جائےاور اس کی انفردی خوبیوں اور خامیوں کو جانا جائے۔ اس لئے قرآن مجید میں اچھی زندگی گزارنے کے لئے یہ طریقہ بتایا گیا ہے  وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۔ 19: 4

 ترجمہ: یعنی اُن کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ نیک سلوک یہ ہے کہ پوری زندگی اُن کو اپنے ساتھ لیکر کام کیا جائے اور اُن کو اپنے سے کمتر  یا پست تصّور نہ کیا جائے۔

عورت کا وجود اجالے کا باعث ہوتا ہے۔ جب وہ ماں بنتی ہے تو اپنی ٹھوکروں میں جنت بانٹتی ہے ، بیٹی بنتی ہے تو تقدیس اور پاکیزگی کو جنم دیتی ہے، بہن بن کر بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہوتی ہے، بیوی بن کر شوہر کی زندگی کو بدل دیتی ہے اُس کے سب ہی روپ اُس کی عظمت کی دلیل ہیں ۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جن کی بنا  پر یہ کہا جاسکتا ہےکہ” ہر کامیاب آدمی کے پیچھےایک عورت کا ہاتھ ہے” کہنے میں تو یہ کہاوت بہت آسان ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے عظیم لوگوں کی ترقی کا راز عورت کی کاوش سے ہی ممکن ہوا ہےاور یہ عورت ہی ہے جسے دینِ اسلام نے عزّت سے نوازا ہےاور اُس کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ اگر ایک عورت ماں بن کر جنت کے حصول کا ذریعہ بن سکتی ہے تو کیا وہ بیوی کے روپ میں دنیوی زندگی کو جنت نہیں بناسکتی؟۔ 

لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ دنیا کے روایت پسند  معاشروں نے ہمیشہ مرد کو عورت پر زیادہ فوقیت دے کر افضل قرار دینے کی کوشش کی ہے اوراس مقصد کے لئے قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

 الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ ۔ 4.34 ۔ ترجمہ مرد عورتوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔

اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے حسن الاعظمیٰ حیدر آباد دکنی نے اپنی کتاب شرعی  پردہ میں رقمطراز ہیں  کہ “قوّامون کے لفظی معنی قوّام ہے اور قوّام وہ شخص ہے جو انتظامی معاملات میں اتنا مصروف رہے کہ اسے ایک سکنڈ کے لئے بھی آرام کرنے کو وقت نہ ملے اور وہ اپنی زندگی قیام ہی میں گزاریں۔ ایسی صورت میں مرد کو وقت ہی کہاں ہے کہ وہ حکم ہی چلائے اور خود بیٹھے رہےبلکہ مرد اور عورت دونوں برابر کے شریک ہیں البتہ فرائض کی نوعیت جدا ہے اگر یہ اشتراک نہ ہوتا تو انسانیت ایک قدم بھی آگے نہ بڑھتی بلکہ نوعِ بشر کا وجود ہی مٹ جاتا” ۔

گویا یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ اگر انسانی زندگی سے عورت کو الگ کردیا جائے تو مرد کی زندگی کیا بلکہ پوری کائنات بے رنگ اور بے کیف لگے گی اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے۔

وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کو سوزِ درون۔ 

قرآن مجید اور فرقانِ حمید میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جہاں نیک بیویوں کی تعریف اس انداز سے کی گئی ہے۔ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ ۚ۔4.34.

ترجمہ: تو جو نیک بیویاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر  چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے اُن چیزوں کی حفاظت کرنے والیاں ہیں جن کی حفاظت خدا  نے کی ہے۔

اس آیہ کریمہ مین خداوند تعالیٰ نے نیک بیویوں کی دو اہم خوبیاں بیان فرمایا ہے ۔ اُن میں سے ایک خوبی تو یہ ہے کہ نیک عورت ہمیشہ اپنے شوہر کے حکم کے تابع رہتی ہے ۔ گھریلو تمام کام اگرچہ عورت ہی انجام دیتی ہے لیکن شوہر کے گھریلو معاملات کے بارے میں صلح مشورہ کرنا نیک بیوی کی صفات میں شامل ہے۔ نیک بیوی کی دوسری خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی عصمت ،عفت اور پردے کی حفاظت کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک عورت کو دینِ اسلام اپنی عصمت اور عفت کی حفاظت کرنے کے لئے شادی جیسے اہم رشتے سے منسلک ہونے کا حکم دیا ہےتاکہ شادی کرنے کے بعد اس کی عزّت و آبرو کی حفاظت ہوسکیں۔شادی کرنے کے بعد بھی اگر کوئی عورت اپنی عصمت کی حفاظت نہیں کرتی تو اسے نیک بیوی کا نام دینا حماقت ہوگی ۔

آج کے زمانے میں ایسے بہت سے افراد ہیں جو گھر سے باہر تو بہت ہی خوش مزاج  اور خوش اخلاق ہوتے ہیں لیکن گھر میں داخل ہوتے ہی اُن کے چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے اورغصّے  کی حالت میں اپنی بیوی سے جھگڑا کرکے گھر کے اندر فساد برپا کردیتے ہیں۔ حالانکہ بیوی کا کئی گھنٹوں سے شوہر کے انتظار  میں رہنا اس بات کی ضمانت ہے کہ شوہر کے لئے اس کے دل میں کتنی محبت ہے۔ شوہر کی اچانک آمد اور بلاجواز غصّے کا اظہار اُس کے لئے خوشی کے بجائے پریشانی اور غم کے سوا کچھ نہیں دیتا ۔ اس لئے ایسے شوہروں پر لازم ہے کہ وہ باہر جس انداز سے خوش نظر آتے ہیں گھر کے اندر بھی اُسی طرح  خوش اخلاقی سے پیش آئیں  لیکن ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض خاندانوں  میں شوہر تو بہت خوش اخلاق ہوتے ہیں لیکن چراغ خانہ ہمیشہ نازو نخرے سے پیش آکر شوہر کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے جس سے مرد کی زندگی پریشانی میں گزرتی ہے ۔ سارا دن دفتر یا دیگر کاموں میں مشغول رہ کر جب شوہر سکون کے لئے اپنے گھر کا رخ کرتا ہے تو یہ سکون بد مزاج بیوی کی بد مزاجی اور بد اخلاقی کی وجہ سے پریشانی میں گزرجاتا ہے۔۔ ایسی صورت میں آدمی کا گھر بھی اُس کے لئے غموں کا مسکن بنتا ہے۔ شیخ سعدی ؒ نے کیا خوب فرمایا ہے۔

زنِ بد در سرائے مرد نکو

ہم درین عالم است دوذخ او۔  

ترجمہ: نیک آدمی کے گھر میں اگر ایک بد کردار عورت ہو تو اُس آدمی کے لئے اور بڑا دوزخ نہیں ہوگا بلکہ یہ دنیا ہی اس کے لئے جہنم جیسا ہے۔

خداوندکریم جہاں انسان کو بہترین انداز سے پیدا کیا ہے وہاں اسے اپنے جزبات و احساسات کو ظاہر کرنے کے لئے زبان جیسی نعمت بھی عطا فرمایا ہے۔ اگر اس نعمت کے درست استعمال کو میاں بیوی اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنائیں تو ان کی زندگی کی رونق اور بھی بڑھے گی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں ،مسکراہٹوں اور دلاویز اداؤں سے ہی وہ ایک دوسرے کا دل جیت سکتے ہیں کیونکہ انسان کی زبان ہی وہ تیز دھار ہے جو دن میں کتنی دفعہ ناسمجھی کی وجہ سے دوسرے انسانوں پر وار کرتی ہے ۔ اگرچہ یہ تلوار کی طرح زخم نہیں کرسکتی لیکن کسی بھی انسان کے دل کو اپنی بدگوئی اور بدفعلی کی وجہ سے چیر چیر کر رکھ دیتی ہےپھر وہ زخم تازہ ہونے کا نام نہیں لیتا۔ شہد کی مکھی کو اگر دیکھ لیا جائے کہ خدا نے اس کے اندر دو اہم چیزیں ودیعت کی ہے جہان وہ انسانوں کو شہد  (جس میں ہمیشہ شفا ہی شفا ہے)  دیتا ہے تو دوسری طرف ڈس مار کر زہر دینا بھی وہ خوب جانتا ہے ۔ فطرت کی اس مثال سے سبق لیتے ہوئے میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے وہ شہد بنیں جو پوری انسانیت کے لئے شفا ہو۔

“حقیقت میں خدا کی رحمت بھی اس گھر میں زیادہ ہوگی جہاں میاں بیوی ایک دوسرے کی خوشی میں برابر کے شریک ہوں اور محبت و آشتی سے زندگی گزاریں اور دونوں کی زبان سے شہد جیسا مٹھاس پیدا ہو ۔ کہا جاتا ہے کہ فطرتاََ عورت کی تخلیق ہی میں مہربانی ، حوصلہ مندی اور ایثار کا جزبہ موجود ہوتا ہے ۔ اُس کی مہربان نظروں  سے امید کا نور اور اعتماد کی جھلک دیکھائی دیتی رہتی ہے۔ یہ نظر جہاں بھی پڑے ناامیدوں کے لئے امید اور محبت کرنے والوں کے لئے دلداری کا باعث ہوتی ہے”۔ 

(سعید زوالفقار  علی زیدی  ۔ اسلام میں زوجہ و زوجہ کے حقوق ۔ کراچی ۔1983۔ ص 22)

مختصر یہ کہ عورت پہلے  اپنی حیثیت اور مقام کو سمجھے ۔ آزدواجی رشتے میں منسلک ہونے کے بعد وہ نہ  صرف اپنے شوہر کے دل کو جیت سکتی ہے بلکہ پوری انسانیت کے لئے ایک خوبصورت مثال بن سکتی ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے گھر کے اندر یا باہر اٹھنے والی تمام منفی سوچوں کو دل کے اندر  دباکر مثبت رویہ اختیار کرے  تو کامیابی اس کے قدم چومے گی۔منفی سوچ  پر دھیان دینا  زندگی کے لئے  پریشانی کا باعث ہے۔ مثبت سوچ  اور اعلیٰ اوصاف کے مالک جوڑے اگر زندگی کے ہمسفر  ہوں  تو  اُن کا خاندان دنیا ہی میں مثلِ جنت ہے ۔ پس ہر میاں بیوی  اپنے اپنے اندر ان اوصاف کو پیدا کرکے اس نعمتِ خداوندی کا متحمل ہوکر اپنی زندگی کو خوشگوار بنانا چاہیئے۔


شیئر کریں: