Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

رواں سال سٹرکوں کے زیادہ تر منصوبے چترال میں ہیں,وزیرخزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس

شیئر کریں:

پشاور (چترا ل ٹائمز رپورٹ) ترقیاتی فنڈز یکم جولائی کو ہی جاری کر دیں گے۔ بجٹ غریب دوست، ملازمین کو سب سے زیادہ ریلیف ملا۔ وزیر صحت و خزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس
خیبرپختونخوا کی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ دیا ہے۔ 371 ارب روپے پر مشتمل سالانہ ترقیاتی پروگرام کل بجٹ کا 33 فیصد ہے۔ حکومت ترقیاتی فنڈز مالی سال کے آغاز پر ہی ریلیز کر دے گی۔ بجٹ میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی کے پہلے سے زیادہ فنڈز رکھے ہیں۔ غریب دوست بجٹ عام عوام کے لیے منصوبے رکھے گئے ہیں۔ زیادہ تر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 37 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ، سیکریٹری خزانہ عاطف رحمان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ تیمور جھگڑا کا اس موقع پر مالی سال2021-22 کے بجٹ کے حوالے سے مختلف امور کو اجاگر اور صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ صوبائی بجٹ سے متعلق عوامی آراء خوش آئند ہیں اور غریب دوست بجٹ کو سراہا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ محکمہ بلدیات میں ٹی ایم ایز کا بجٹ 9 ارب روپے سے بڑھا کر 15 ارب روپے کردیا گیا ہے۔ یہ اس لئے بڑھایا گیا کہ ترقیاتی کاموں کے لیے مختص رقم تنخواہوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

بجٹ میں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار حقیقت پر مبنی ہیں جبکہ اخراجات اور محصولات کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جا چکی ہیں۔ خالص بجلی منافع کے حوالے سے صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سے بجلی منافع کی ادائیگی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ہر ماہ 3 ارب روپے مل رہیں۔ اس مد میں 36 ارب کے بقایاجات بھی جلد ملنے کی توقع ہے۔ ضم شدہ قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے صوبائی حکومت خاطرخواہ فنڈز جاری کررہی ہے کیونکہ وہ اضلاع بھی ہمارے ہیں۔ ضم شدہ اضلاع میں ریکارڈ فنڈز ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے ہیں۔ ان علاقوں میں لیویز اہلکاروں کو مستقل کر دیا ہے جبکہ پراجیکٹ ملازمین کو بھی مستقل کریں گے۔ اسی طرح حال ہی میں ضم اضلاع میں 3 سو ڈاکٹرز بھرتی کر کے مختلف ہسپتالوں میں تعینات کر دیئے ہیں۔ ان علاقوں کے صحت مراکز پر 50 کروڑ روپے خرچ کررہے ہیں تاکہ ان کا معیار بہتر ہو۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ اس سال اپنا صوبائی محاصل کا ہدف 75 ارب روپے مقرر کیا ہے اور اسے حاصل کریں گے۔ ٹیکسوں کی شرح میں کمی اور کئی ایک ٹیکسوں کو ضم کر کے ایک یا دو ٹیکس کرنے سے ٹیکس کلچر کو فروغ حاصل ہورہا ہے اور شفافیت کے ساتھ ساتھ محصولات میں اضافہ ہوا ہے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے حوالے سے تیمور جھگڑا کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ ریلیف ملازمین کو ملا ہے اور زیادہ تر ملازمین کی تنخواہوں میں 37 فیصد سے زائد اضافہ ہوگا جو کہ وہ تنخواہ آنے پر دیکھ لیں گے۔ کسی بھی ملازم کی حق تلفی نہیں ہو گی اگر کسی کی تنخواہ نہ بڑھی جبکہ وہ اس کا حق دار ہوا تو ایسے معاملات کے حل کے لیے کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ طبی عملے کی قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی تنخواہوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے اور دور افتادہ علاقوں میں فرائض سر انجام دینے والے طبی عملے کو مزید مراعات ملیں گی۔ اس موقع پر تیمور جھگڑا نے اعلان کیا کہ یہ تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ ہم آئندہ مالی سال کے پہلے روز یکم جولائی کو ہی پورے سال کے ترقیاتی فنڈز جاری کر رہے ہیں جس سے عوامی فلاحی منصوبے جلد مکمل ہونے کی امید ہے۔

قرضوں کے حوالے سے صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے لیے جانے والے قرضے طویل مدتی ہیں جن کی ادائیگی کل بجٹ کی صرف دو فیصد بنتی ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ پہلے سے جاری منصوبوں کو مکمل کرنے پر ہے اور جو منصوبے براہِ راست عوام کو سہولت پہنچا سکتے ہیں، کو ترجیحاً شروع اور مکمل کرنے کا پلان ترتیب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال سٹرکوں کے زیادہ تر منصوبے چترال میں ہیں جن کے مکمل ہونے پر وہاں کی عوام کو سہولت میسر آئے گی اور سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ شہاب علی شاہ نے کہا کہ ضم اضلاع میں زراعت کے فروغ کے لیے سمارٹ اور چیک ڈیمز بنا رہے ہیں۔


شیئر کریں: