Chitral Times

May 23, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی بجٹ ایک متوازن، عوام دوست اور تاریخی ہے جس میں تمام شعبوں پر توجہ دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ

شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبائی بجٹ برائے مالی سال 2021-22 کو ایک متوازن ، عوام دوست اور ایک تاریخی بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے جس میں تمام شعبوں پر بھر پور توجہ دی گئی ہے اور اس بجٹ پر عمل درآمد سے صوبے میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا اور عوام کی زندگیوں میں نمایاں مثبت تبدیلی رونما ہو گی ۔ اُنہوںنے کہاکہ یہ ایک ٹیکس فری بجٹ ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ، کئی ایک ٹیکسوں کو ختم کردیا گیا ہے ، متعدد ٹیکسوں میں اصلاحات کی گئی ہیں اور مختلف شعبوں میں تاریخی ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا ہے کہ مشکل مالی صورتحال کے باوجود ترقیاتی منصوبو ں پر سمجھوتہ نہیں کیا گیا ، بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 370 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جو مجموعی بجٹ کا 33 فیصد بنتا ہے، وسیع تر عوامی مفاد کے جاری ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام بلاتاخیر ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیںاور اس مقصد کیلئے ترقیاتی بجٹ کا 80 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے ۔


مالی سال 2021-22 کے صوبائی بجٹ کے حوالے سے یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے بجٹ کو صحیح معنوں میں ایک غریب پرور بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں عام آدمی کو خاطر خواہ ریلیف دیا گیا ہے جس میں ملازمین کی تنخواہوں میں تاریخی اضافہ، مزدوروں کی کم سے کم ماہانہ اُجرت میں ساڑھے تین ہزار روپے کا اضافہ اور آئمہ مساجد کیلئے ماہانہ وظائف ، عوام کو سستے آٹے کی فراہمی کیلئے سبسڈی ، مستحق افراد کیلئے فوڈ باسکٹ پروگرام اور دیگر تاریخی اقدامات شامل ہیں۔عوام کو سستے آٹے کی فراہمی اور مستحق افراد کو فوڈ باسکٹ کی فراہمی کیلئے 20 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے ۔


وزیراعلیٰ نے کہاکہ سماجی شعبہ شروع دن سے ہی پاکستان تحریک انصاف حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست رہا ہے اور نئے بجٹ میں صحت، تعلیم، پینے کے پانی اور دیگر سماجی شعبوں کے بجٹ میں تاریخی اضافہ کیا گیا ہے ۔ صحت کارڈ پلس اسکیم کو صوبائی حکومت کا ایک فلیگ شپ منصوبہ اور صوبے کے عوام کیلئے ایک بڑا تحفہ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ اس بجٹ میں صحت کارڈ پلس اسکیم کو مزید جامع بنانے کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں جن میںجگر کی پیوندکاری جیسے مہنگے علاج کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ بلڈ ٹرانسفیوژن کو بھی اس اسکیم میں شامل کرنے پر کام ہو رہا ہے ۔ علاوہ ازیں ضم اضلاع کے عوام کیلئے صحت کارڈ پلس اسکیم کی سالانہ کوریج کو چھ لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے ۔محمود خان نے کہاکہ کورونا کی وجہ سے درپیش مشکل مالی صورتحال کے باوجودپچھلے مالی سال کے بجٹ کے مقابلے میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کے بجٹ میں 24 ارب روپے ، صحت کے بجٹ میں 22 ارب روپے ، پولیس کے بجٹ میں 12ارب روپے ،سیاحت اور کھیلوں کے بجٹ میں 11 ارب روپے جبکہ بلدیات کے بجٹ میں چھ ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے ایک تاریخی اور بہترین بجٹ پیش کرنے پر وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا اور اُس کی پوری ٹیم کو مبارکباد دی ہے ۔
َِِ<><><><><><><>


دریں اثنا وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے جمعہ کے روز صوبائی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ممبران صوبائی اسمبلی اور کابینہ ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی اسمبلی میں ایک پر امن ماحول میں بجٹ پیش کرنے اور پورے بجٹ سیشن میں اسمبلی میں خوشگوار ماحول کو برقرار رکھنے کے لئے لائحہ عمل پر گفتگو ہوئی۔ اجلاس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ پی ٹی آئی بجٹ سیشن میں پر امن ماحول اور صوبے کی پارلیمانی روایات کو برقرار رکھنے کی بھر پور کوشش کرے گی اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال پیدا کرنے سے مکمل اجتناب کیا جائے گا۔ انہوں نے ممبران صوبائی اسمبلی اور کابینہ اراکین پر زور دیا کہ وہ بجٹ سیشن کے دوران اسمبلی میں اپنی حاضریوں کو یقینی بنائیں، بجٹ کے حوالے سے بھر پور تیاری کرکے اسمبلی آئیں اور بجٹ اجلاس کو ہر لحاظ سے بامقصد بنائیں۔


شیئر کریں: