Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایف ایل آئی کی مقامی تنظیموں نے کھوار تحریر کو معیاری بنانے کیلئے اقدامات کا آغازکردیا

شیئر کریں:

چترال ( چترال ٹائمز رپورٹ ) ایف ایل آئی نے چترال کی مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر کھوار زبان کیلئے معیاری تحریر کا نظام ترتیب دینے کے کام کا آغاز کردیا ہے، مدرٹنگ انشی ٹیوز فار ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (میئر) اور انجمن ترقی کھوار کے ساتھ شروع کئے جانے والے ایک سہہ روزہ پروگرام کا آغاز آج چترال ٹاون میں کردیا گیا ہے جس میں کھوار زبان کی مطبوعہ کتابوں اور رسالہ جات سے بیس ہزار الفاظ کو جمع کیا گیا جنہیں کمپیوٹر اور موبائل سے آئیندہ کیلئے یکسانیت سے لکھنے کا بندوبست کیا جارہا ہے۔ اس پروگرام میں آگے چل کر کھوار الفاظ کی تحریر میں سابقہ و لاحقہ کیلئے بھی ہجے متعارف کئے جائیں گے جبکہ بعد ازاں چالیس ہزار الفاظ جمع کئے جائیں گے اور ان کو کمپیوٹر اور موبائل پر تحریر کے دوران لکھنے والوں کیلئے ہجے درست کرنے کا خودکار نظام دستیاب بنانے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ پروگرام میں میئر تنظیم سے وابستہ فرید احمد رضا، جاوید اقبال جبکہ ایف ایل آئی سے افسر علی خان اور فخرالدین اخونزادہ اور کھوار زبان کے معروف محقق اور مصنف پروفیسر ممتاز حسین حصہ لے رہے ہیں۔


پروگرام کا مقصد کھوار زبان کیلئے دیگر بڑی زبانوں کے طرز پر تحریر کا ایک متفقہ اور یکساں نظام متعارف کرانا ہے۔ اس پروگرام میں کھوار زبان کے زیادہ سے زیادہ الفاظ کو جمع کرکے ڈیجیٹل پلیٹ فارم میں یکساں انداز میں ضبط تحریر میں لایا جائے گا اور ہجے درست کرنے کا نظام فعال کردیا جائے گا جس سے تمام لکھنے والوں کو کھوار کا کوئی لفظ ایک ہی انداز میں لکھنے کا موقع فراہم ہوگا اور ہجے میں اختلاف اور املا کی غلطیوں کا سدباب ہوجائے گا۔


یاد رہے کھوار زبان میں پہلی کتاب 1921ء میں طبع ہوگئی تھی لیکن املا کا ارتقاء لسانی اصولوں کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے کھوار زبان کی تحریر کا کوئی متفقہ اور یکساں نظام ترتیب نہ پاسکا جس کا نتیجہ کھوار زبان میں ہجے اور املاء کا معیار نہ بننے کی صورت میں سامنے آیا اور یوں دیگر زبانوں کے مقابلے میں کھوار تحریر کو ترقی نہ مل سکی۔


کھوار زبان کی تحریر کا نظام درست اور معیاری بنانا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ صوبہ خیبر پخونخوا کی حکومت نے کھوار زبان کو سرکاری سکولوں میں بطور مضمون شامل کرلیا ہے اور تاحال پانچویں جماعت تک پڑھائی جارہی ہے، کھوار زبان کی تحریر معیاری نہ ہونے کی صورت میں طالب علموں اور دیگر کھوار پڑھنے والوں اور لکھنے والوں کو مستقبل میں مسائل درپیش ہوسکتے ہیں۔ ادھر گلگت بلتستان میں بھی کھوار زبان کو سکول نصاب کا حصہ بنانے کا امکان ہے ۔


کھوار زبان صوبہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں رہنے والے تقریبا چھ لاکھ لوگوں کی مادری زبان ہے جس میں سینکڑوں کتب، رسالے اور اخبارات شائع ہوچکے ہیں۔

chitraltimes FLI khowar workshop chitral

شیئر کریں: