Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کی انتظامی تقسیم اور اشتراکی باؤنڈس‎ …….تحریر صوفی محمد اسلم۔

شیئر کریں:

چترال رقبے کے لحاظ سے خیبر پختوں خواہ کے سب سے بڑا ضلع ہونے کی وجہ حکومت کو  انتظامی امور کی انجام دہی میں مشکلات پیش آرہی تھی۔ نظام  کی درستگی ، انصاف اوراختیارات کونچھلے سطح تک احسن طریقے سے فراہمی کیلۓ ابادی و رقبے کی بنیاد پر ریاست کو صوبہ، ڈیویژن ، ضلع ، یونین کونسل اور ویلج کونسل  وغیرہ میں تقسیم کر کے جغرافیائی حدوداد مختص کرتی ہے جوکہ جمہوری حکومت کی بہتریں پالیسی مانی جاتی ہے۔ اس پالیسی کےتحت حال ہی میں چترال کو دو اضلاع یعنی بالائی اور زیرین چترال میں تقسیم  کرکے انتظامی امور منتقل کی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ تقسیم حقیقت میں چترال کو تقسیم کیا ہے۔ کیا یہ تقسیم چترال کو  تاریخ، جغرافیہ، ثقافت ، ادب اور رہن سہن  کے لحاز سے بھی تقسیم کرسکتا ہے؟ کیا یہ تقسیم چترالیوں کے سوچوں میں بھی تفریقی احساسات پیدا کر سکتی ہے؟جس کی عوامی حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔


 تاریخ  چترال کے اوراق میں اگرچہ اس خطے (متحد چترال)کا مختلف ادوار میں مختلف نام درج ہیں ۔ان ناموں میں سے ایک نام چترال بھی ہے جسے کھوار زبان میں “چھترار” کہا جاتا ہے جو کہ بروغل سے لیکر ارندو تک کا علاقہ ہے۔ چترال میں اباد اقوام (کھو اور کالاش) بنیادی طور پر ارین ہیں جو کہ مختلف ادوار میں یہاں اکر آباد ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان کے تہزیب میں چند اختلاف پائی جاتی ہے ۔ محقیقین اس کی وجہ باہمی روابط اور میل جول میں کمی بتاتے ہیں۔ چترال میں جتنی بھی نظریاتی یا سیاسی ردوبدل ہوئی ہیں دونوں اضلاع میں یکسانیت پاتی جاتی ہیں۔ مشترکہ دارالحومت کے زیر علم جنگین لڑی ہیں۔جتنی بھی تعمیرات  ہوۓ ہیں، چترالیوں کی مشقت کشی کی سمر ہیں مثلاً نغور چترال و نغور مستوج۔  لہزا دونوں اضلاع کے تاریخ ایک ہے اس لحاظ سے یہ انتظامی تقسیم حقیقی تقسیم نہیں ہے ۔ 


 جغرافیائی لحاز سے اگر دیکھا جائے تو چترال پہاڑوں کے دامن میں ایک وادی ہے جہاں ایسےمقامات ہیں جس کی وجہ سے چترال کو عالمی شہرت حاصل ہے، جیسے ریچ میر ، شندور، لواری(رولیے)، کالاش ثقافت،بروغل، قاق لشٹ ، زیوار گول ، چترال گول ،شہریشام ، ایون، بونی، گرم چشمہ ، دریاہ چترال ہیں جو بالائ اور زیریں چترال سے بلاتر ہو کر ایک ہی چترال کے ساتھ منسوب ہیں۔ ان مقامات کو بالائ اور زرین چترال کے ساتھ منسوب کر علحیدہ پہچان  نہیں دیا سکتا۔ اسی طرح  نغور  چترال نغور مستوج و شاہی مسجد چترال ان فرضی حدوداد سے آزاد  سیر و سیاحت اور متحد چترال کے تاریخی مراکز ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چترال جغرافیائ تقسیم کرکے چترال کی وجہ شہرت کو قائم نہیں رکھ جاسکتا۔


چترال میں  کالاش و کھو  اقوام اباد ہیں۔ انہیں علاقائی زبان میں “بومکی” بھی کہتے ہیں۔ محقیقیں انہیں ایک قوم یعنی آرین اور ان کے ثقافت کو بھی بنیادی طور پر ایک سمجھتے ہیں۔ پورے چترال کے تقریباً 90فیصد ابادی پر مشتمل ہیں۔ یہ اقوام یہاں زمانہ قدیم سے اباد ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے ثقافت میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئے ہیں۔ کھو تہزیب اور کھوار زبان کو  چترالی مقامی تہزیب  اور مقامی زبان کا درجہ حاصل ہے۔  چترال کے ہر کونے میں یہ ہی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ موسیقی اور تہوار دونوں ضلعوں کے ایک ہی ہیں۔ لوگوں کے روزمرہ زندگی کے بنیادی عوامل اور طور طریقے یکسان ہیں۔ جوائینڈ فیملی اور گرام وغیرہ جیسے اتحادی معاشرتی نظام  میں رہنے کے عادی ہیں۔ اکثر ارینج میریج پر اکتفا کرتے ہیں۔ فوتگی و قرابت داری کے رسومات یکساں ہیں۔ دور کے تبدیلی کے باوجود بھی دونوں اضلاع میں یکسان مرغوب غذائیات و مشروبات ہیں جیسےنمکین چاۓ، چمبروغ ، غلمندی، لاژیک، شوشپ وغیرہ۔   بَیپش و راتینی ختان، سر پر چترالی ٹوپی ( کاپوڑ) ، شوقا اور کھیلوں میں  پولو اور بوڈی دیک پورے چترال کے ثقافتی کھیل ہیں۔ لہزا یہ تقسیم  چترالی ثقافت پر کوئی مسبت یا منفی اثر نہیں کرسکتا ہے۔ 


چترال کے تاریخی،  سیاسی ،سماجی  اور ادبی شخصیات بھی دونوں حلقوں میں یکسان شہرت رکھتے ہیں ۔جیسے غفران،بابا سیار ،پروفیسر عنایت اللہ فیضی،عنایت اللہ اسیر صاحب، پرفیسر اسرار الدیں ، مولا نگاہ نگاہؔ ، پروفیسر ممتاز ،ذاکر زخمی، ناجی خان ناجی ، شہزادہ محی الدیں،  شہزادہ سکندر، رحمت عزیز چترالی، منصور شباب ، انثار الہٰی وغیرہ ہمارے مشتریکہ شہ پارے ہیں یہ کسی بالائ یا زیریں چترال کے نہیں کوئی تفریق نہیں کرسکتا۔  اس اعتبار سے یہ انتظامی تقسیم اس اشتراکیت کو پامال نہیں کرسکتا۔
چترالیوں کے مزاج اور رویہ بھی  قریب ایک ہی ہیں ۔امن پسندی، اصلاح ، خوش اخلاقی ،نظم نسق کی پابندی، بردباری، نرم کلامی، مہمان نوازی ، آمیزگاری، برداشت، قناعت ، ہمدردی اور انصاف پسندی سارے چترالیوں کے مشتریکہ اوصاف ہیں۔ مزاج میں یکسانیت کی وجہ سے دونوں اضلاع کے عوام  ایک دوسرے سے کسی نہ کسی سے رشتے میں منسلک ہیں۔ کئ دھائیوں سے بالائی چترال سے لاکھوں تعداد میں لوگ ہجرت کر زریں چترال میں آباد ہوئے ہیں ،اسی طرح زیریں چترال سے بھی لوگ اپر چترال میں آباد ہیں۔مغاشرتی مشابہت اور ذہنی یگانگت کی وجہ سے مغاشرے میں ایڈجسٹ ہونے میں بھی کوئی مشکلات پیش نہیں اتی ہے۔ اس وجہ سے بھی یہ انتظامی تقسیم کوئ اہمت کی حامل نہیں۔


یہ بات واضح  ہے کہ ہم ناقابل تقسیم قوم ہیں۔ تقسیم چترال کوئ نظریاتی یا قومی تقسیم نہیں  بلکہ ایک انتظامی تقسیم ہے جو ہمارے ضروریات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اس تقسیم کی وجہ سے ہمارے ذہنوں میں  بالائی اور زیریں چترال کی تفرق نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے تاریح، ثقافت، ادب اور قومیت ایک ہیں جو کہ انتہائی مضبوط بندھن ہے ۔یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ تقسیم لوگوں میں خلاء پیدا کرسکتی ہے۔مگر ہمیں ایسے تفررقات کو نظر انداز کر کے باہمی یک چہتی کو فروع دینا ہوگا ۔وما علینا الاالبلاع۔


شیئر کریں: