Chitral Times

Oct 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حکومتی عدم توجہ اور غفلت کےنتیجے سڑک سمیت ریشن کے کئی خاندان بے گھر ہو گئے۔امیراللہ

شیئر کریں:

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) پاکستان پیپلز پارٹی اپر چترال کے صدر امیراللہ اور نائب صدر ابواللیث رامداسی نے کہا ہے ۔ کہ حکومتی عدم توجہ اور غفلت کےنتیجے میں دریاے مستوج کے کٹاوسے ریشن کے کئی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں ۔ اور مین چترال مستوج روڈ دریابرد ہوکر کئی دن بند رہا ۔ اب جن متاثرین کے کچھ زمینات بچ گئے ہیں ۔ ان کے گھروں کے ساتھ کھیتوں میں متبادل روڈ تعمیر کیا گیا ہے ۔ جس کی وجہ یہ دوہرے نقصان سے دوچار ہوگئےہیں ۔ اب ان کے گھر بالکل ہی رہنے کے قابل نہیں رہے ہیں ۔ اس کے باوجود حکومت کی طرف سے سوائے فوڈ آئٹم کے ان کو کسی قسم کی امداد نہیں دی گئی ہے۔ جو کہ قابل افسوس ہے ۔ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ کہ ریشن کیلئے یہ بہت بڑا سانحہ ہے ۔ کہ کئی گھر مختصر عرصے میں دریا بردگی کی وجہ سے صفحئہ ہستی سے مٹ گئےہیں ۔ لیکن حکومت یہ نقصان ہوتے دیکھتی رہی ۔ جو کہ حکومتی بے حسی کا واضح ثبوت ہے ۔ انہوں نے پر زور مطالبہ کیا ۔ کہ فوری طور پر سالم نقصان والے متاثرین کی مالی مدد کی جائے ۔ تاکہ ان کو سہارا مل سکے ۔

امیر اللہ نے کہا ۔ کہ موجودہ متبادل روڈ کی تعمیر کی وجہ سے جو افراد جزوی طور پر نقصان ہو چکے ہیں ۔ وہ اب اس مقام پر مزید رہنے کے قابل نہیں رہے ہیں ۔ اس لئے ان کی بھی مالی مدد کی جائے ۔ کہ وہ اپنے مکانات متبادل محفوظ جگہوں میں تعمیر کر سکیں ۔ اسی طر ح شادیر سےاڑیان میں زرعی زمینات جو کٹاو کا شکار ہو چکے ہیں ۔ ان زمین مالکان کو معاوضہ ادا کیا جائے ۔ انہوں نےکہا ۔ کہ اس علاقے کو مزید دریا بردگی سے بچانے کیلئے مضبوط حفاظتی پشتوں کی ضرورت ہے ۔ جن پردریا کے پانی کی کمی کے ساتھ کام کا آغاز کیا جائے ۔ امیر اللہ نے کہا ۔ کہ آغا خان ایجنسی فار ہبیٹاٹ ( آکاہ) نے اپر چترال کے کئی مقامات میں کئی منصوبوں کیلئے ٹینڈر طلب کئے ہیں ۔ لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے ۔ کہ ریشن جیسے متاثرہ ایریا میں کوئی ایک بھی حفاظتی بند نہیں رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے ادارے سے اس توقع کا اظہار کیا ۔ کہ آکاہ ریشن کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ایمرجنسی بنیادوں پر حفاظتی پشتے منظور کرکے کام کا آغاز کرے گا ۔ تاکہ لوگوں کے گھروں ، زمینات اور باغات کو محفوظ بنایا جاسکے ۔ ان کی طرف سے متاثرین میں صرف خوراک تقسیم کرنا کافی نہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی ۔ کہ حکومت اور آکاہ ان کے مطالبات پر ضرور توجہ دیں گے ۔


شیئر کریں: