Chitral Times

Oct 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اگلے سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا ۔۔وزیراعلیٰ محمود خان

شیئر کریں:

پشاور( چترال ٹائمز رپورٹ ) زیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ اگلے سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا اور پہلے سے موجود ٹیکسوں میں اصلاحات کی جائیں گی، مشکل مالی صورتحال کے باوجود ترقیاتی بجٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے سلسلے میں جو وعدہ کیا گیا ہے وہ پورا کیا جائے گا۔ یومیہ اُجرت پر کام کرنے والوں کی کم سے کم اُجرت پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور اس مقصد کیلئے ڈویژنل سطح پر ٹاسک فورس قائم کی جائے گی ۔ سابقہ قبائلی اضلاع کا انضمام موجودہ صوبائی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ صحت کارڈ پلس اسکیم کی صوبے کی سو فیصد آبادی تک توسیع ، بی آر ٹی اور سوات موٹروے فیز ون کی تکمیل اور رشکئی اکنامک زون کا افتتاح موجودہ حکومت کی دیگر اہم کامیابیوں میں شامل ہیں۔


ان خیالات کااظہار اُنہوںنے پیر کے روز نئے بجٹ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ایک غیر رسمی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ صوبائی وزراءتیمور سلیم جھگڑا، اکبر ایوب، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی کامران بنگش، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری خزانہ عاطف رحمان اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو نئے بجٹ کی نمایاں خصوصیات اور پچھلے بجٹ کی کامیابیوں کے بارے میں تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے نئے بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔


وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں متعدد میگا ترقیاتی منصوبے میچور ہو چکے ہیںاور اگلے دو تین مہینوں کے اندر ان منصوبوں پر عملی کا م کا آغاز کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں ڈی آئی خان موٹروے ، سوات موٹروے فیز ٹو، دیر ایکسپریس وے ، چشمہ رائٹ بینک کینال، درابن اکنامک زون کے علاوہ صوبے کے مختلف اضلاع میں اکنامک زونز اور مواصلات کے دیگر میگا منصوبوں پر پیشرفت جاری ہے اور صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ اسی دور حکومت میں ان میگا منصوبوں پر عملی کام کا آغاز کیا جائے ۔ اُنہوںنے کہا کہ 300 میگاواٹ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ،توانائی کے شعبے میں صوبے کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جو سنگ بنیاد کیلئے تیار ہے اور عنقریب وزیراعظم خو د اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھیں گے ۔


ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کا ترقیاتی بجٹ 24 ارب روپے سالانہ سے بڑھ کر 60 ارب ہو گیا ہے ۔ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت اپنے وعدوں کے مطابق این ایف سی میں اپناحصہ ضم شدہ اضلاع کیلئے دے رہی ہیں لیکن باقی کوئی وفاقی اکائی اپنا حصہ نہیں دے رہی جس کیلئے وہ ہر دستیاب فورم پر بھر پور آواز اُٹھا رہے ہیں ۔ اُنہوںنے دیگر صوبوں پر زور دیا کہ گزشتہ دور حکومت میں ضم اضلاع کو فنڈز کی فراہمی کے سلسلے میں جو وعدہ کیا گیا تھا اسے پورا کیاجائے تاکہ ضم اضلاع کی تیز رفتار ترقی کو یقینی بناکر وہاں کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکے۔ انہوںنے کہاکہ صوبائی حکومت کے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت ضم اضلاع میں آبادی کے تناسب اور لوگوں کی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبے پلان کئے جاتے ہیں۔ محمود خان نے کہاکہ صحت کار ڈ پلس اسکیم صحیح معنوں میں صوبائی حکومت کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے اس طرح کا عوام دوست منصوبہ زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں جس کے تحت صوبے کی تمام آبادی کو سالانہ دس لاکھ روپے تک علاج معالجے کی مفت سہولیات دستیاب ہیں۔


وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں صحت کے نظام کو مزید مستحکم کرنے کیلئے کئی ایک اہم منصوبوں پر کام جاری ہے جن کے نتائج اگلے پانچ سے چھ مہینوں کے دوران سامنے آنا شروع ہو جائیں گے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ مشکل مالی صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نجی شعبے کے تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسوں میں رعایت دینے پر غور کر ے گی جبکہ کورونا وباءکی وجہ سے بے روزگار ہونے والے صحافیوں کو روزگار دینے کیلئے صحافیوں کی باہمی مشاورت سے کوئی لائحہ عمل ترتیب دینے پر کام کرے گی ۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن صوبائی اسمبلی میں عوامی مسائل اور قوانین سازی پر بات کرنا چاہتی ہے تو وہ چوبیس گھنٹے اسمبلی میں بیٹھنے کیلئے تیار ہیں لیکن اگر کوئی اپنے ذاتی مسائل اسمبلی کے فلور پر اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو اسمبلی اس مقصد کیلئے نہیں ہے ۔ اُنہوںنے واضح کیا کہ صوبہ بھر میں غیر قانونی تجاوزات ، تعمیرات اور قبضوں کے خلاف مہم بھر پور طریقے سے جاری رہے گی اور غیر قانونی تجاوزات کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کی جائے گی ۔
<><><><><><><><><>

دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی ہدایت پر صوبہ بھر میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف انتظامیہ کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا آپریشن وزیر اعلی کے آبائی ضلع سوات میں جاری ہے جہاں پر غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن کے پہلے مرحلے میں تحصیل بحرین میں دریائے سوات کے کنارے اور دیگر عوامی مقامات پر کئی سالوں قائم غیر قانونی عمارتوں اور دیگر انفراسٹرکچرز کو مسمار کردیا گیا۔ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوسرے مرحلے میں تحصیل بابوزئی کے مختلف علاقوں کے علاوہ دریائے سوات کے کنارے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک دریائے سوات کے کنارے کئی سالوں سے غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ بڑی عمارتیں مسمار کر کے 120 کنال سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی جبکہ مزید کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔سرکاری زمینوں، دریاو ¿ں کے کناروں اور دیگر عوامی مقامات پر غیر قانونی قبضوں اور تجازات کے خلاف آپریشن میں ضلعی انتظامیہ ، پولیس ، محکمہ آبپاشی اور دیگر محکموں کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صوبہ بھر میں تجاوزات ، غیر قانونی تعمیرات اور سرکاری اراضی پر قبضوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ بلا امتیاز جاری رہے گا اور کسی کو عوامی مقامات اور سرکاری املاک پر قبضے جمانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دریاو ¿ں کے کناروں پر تجاوزات سے سیلاب کے دوران مقامی آبادی اور سرکاری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کے علاوہ قیمتی انسانی جانوں کا بھی ضیاع ہوتا ہے اس لئے دریاو ¿ں کے کناروں کو ہر قسم کی تجاوزات سے پاک کیا جائے گا۔
<><><><><><>


شیئر کریں: