Chitral Times

Nov 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ویکسین پر عالمی طاقتوں کی کھیچا تانی….تحریر :محمد نفیس دانش

شیئر کریں:

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ کرونا وائرس وبائی مرض ہے جو پاکستان سمیت اکثر ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جہاں احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے جن میں اجتماعات اور میل جول سے گریز، ماسک کا استعمال شامل ہے، وہیں ویکسین لگانے سے اس وائرس سے محفوظ رہنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔


اس وقت دنیا کے 45 ملکوں سے زائد میں کرونا وائرس کے خلاف ویکسینیشن شروع ہو چکی ہے، اور اب تک تقریباً تین کروڑ سے زائد لوگوں کو اس وائرس کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔


یہ واضح رہے کہ کرونا ویکسین کوڈ 19 سرنج(ٹیکے) کی مدد سے بازو پر لگائی جاتی ہے۔ مستند ڈاکٹر کی نگرانی میں ویکسینیشن سینٹروں پر ماہر طبّی عملہ یہ کام انجام دیتا ہے۔
امریکہ، برطانیہ، جرمنی، چین، روس، اسرائیل، سعودی عرب اور کویت جیسے ملکوں کو ویکسینیشن کا عمل کرتے دیکھ کر اب بہت تیزی سے پاکستان اور بھارت سمیت بحرین، اومان، گنی، کوسٹا ریکا، سربیا، چلی اور ارجنٹائن جیسے ملکوں نے بھی ویکسینیشن کی مہم کو تیزی سے شروع کر چکے ہیں۔

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اس وقت دنیا کے سینکڑوں ادارے اور کمپنیاں کرونا وائرس جیسے مہلک مرض کو دور کرنے کی دوڑ میں جٹی ہوئی ہیں، اور چین، برطانیہ، امریکہ اور بھارت اپنی اپنی ویکسینیں بنا کر منظور کروا چکے ہیں۔ آج کی تاریخ میں نو ویکسینیں دنیا کے مختلف ملکوں میں منظور کی جا چکی ہیں، جن کی مختلف قیمتیں ہیں اور ان کی کامیابی کی شرح بھی مختلف ہے۔

منظور شدہ ویکسینیں یہ ہیں:
امریکہ موڈرنا/بائیون ٹیک
امریکہ موڈرنا
برطانیہ ایسٹرا زینیکا/آکسفورڈ
چین کین سائنو بائیولاجکس
چین سائنو فارم
چین سائنوویک بائیوٹیک
روس سپوتنک وی
روس ایپی ویک کرونا
بھارت کوویکسین

کچھ ممالک نے بڑی تعداد میں ویکسین کی خوراکیں حاصل کر کے اپنی آبادی کے ایک بڑے حصے کو فراہم کر دی ہیں مگر کئی ممالک اب بھی ویکسینز کی پہلی کھیپ پہنچنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
ویکسینیشن کے ابتدائی مرحلوں میں زیادہ تر ممالک مندرجہ ذیل گروہوں کو ترجیحی بنیادوں پر ویکسین فراہم کر رہے ہیں:
ساٹھ سے زیادہ عمر کے افراد
طبی عملے کے ارکان
طبی طور پر خطرے کی زد میں موجود افراد


اسرائیل اور برطانیہ جیسے ممالک میں اس بات کے حوصلہ افزا اشارے مل رہے ہیں کہ ویکسینز کی وجہ سے ہسپتالوں میں داخلے، اموات اور ایک شخص سے دوسرے میں وائرس کے پھیلاؤ کے واقعات میں کمی آئی ہے۔


امریکی اخبار بلوم برگ کے مطابق اس وقت ویکسین کی آٹھ ارب 35 کروڑ خوراکوں کے معاہدے ہو چکے ہیں، جو دنیا کی آبادی سے زیادہ ہیں۔ البتہ یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ کین سائنو کے علاوہ باقی تمام ویکسینیں دو خوراکوں کی شکل میں دی جائیں گی، اس لیے خوراکوں کو دو پر تقسیم کر کے کل لوگوں کی تعداد حاصل کی جا سکتی ہے۔
چین کی وبا پر قابو پانے میں کامیابی نے اس کے لیے ویکسین کے بڑے پیمانے پر تجربات مشکل بنا دیے ہیں اور محض چند ممالک نے اس کی حامی بھری ہے۔


صرف متحدہ عرب امارات، کینیڈا، برازیل، انڈونیشیا اور میکسیکو نے ٹرائلز کی حامی بھری ہے جبکہ نہ تو یورپ کے کسی بڑے ملک اور نہ ہی امریکہ نے چین کی ویکسینز میں دلچسپی دکھائی ہے جو اپنے پراجیکٹس پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
ماضی کے ویکسین سکینڈلز کی وجہ سے چین کو دنیا کو مطمن کرنا پڑے گا کہ اس نے تمام حفاظتی اور کوالٹی کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
لیکن چین کے ’کمانڈ اکانومی‘ طریقہ کار، یعنی جس کے تحت حکومت اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ کیا تیار کیا جائے اور کیا نہیں، کے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔


حکومت کے زیر اثر کام کرنے والی ایک کمپنی نے چند مہینوں میں ویکسین کے دو پلانٹ ’جنگی بنیادوں‘ پر مکمل کیے۔
چینی فوج کا میڈیکل ریسرچ یونٹ ایک نجی بائیو ٹیک کمپنی ’کینسینو‘ کے ساتھ مل کر ویکسین تیار کر رہا ہے۔
مغرب کی صنعت کو چیلنج کرتے ہوئے چین اس وقت ویکسین کی تیاری کے 19 امیدواروں میں سے آٹھ کی حمایت کر رہا ہے جو اس وقت انسانوں پر تجربات کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ ان میں سینو ویک کی تجرباتی ویکسین اور فوج اور نجی کمپنی ’کینسینو‘ کے تعاون سے تیار کی گئی ویکسین سب سے آگے ہے۔


چین کورونا وائرس کے علاج کے لیے ویکسین بنانے کی دوڑ میں آگے نکل رہا ہے۔ مقامی بائیو ٹیک کمپنی ’سینوویک‘ کے ساتھ مل کر تیار کی جانے والی تجرباتی ویکسین چین کی دوسری اور دنیا کی تیسری ویکسین ہو گی جو اس ماہ کے آخر میں ٹیسٹنگ کی آخری سٹیج پر پہنچ جائے گی۔
چین جہاں سے یہ وبا پھوٹی تھی، اپنی حکومت، فوج اور نجی سیکٹرز کو وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے آگے لے آیا ہے۔ اس وبا سے اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔


خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ سمیت بہت سے دیگر ممالک ویکسین بنانے کی دوڑ جیتنے کے لیے نجی شعبوں کے ساتھ مل کر اسے تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ چین کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔
دراصل چین کی توجہ ایسی ان ایکٹیویٹڈ ویکسین ٹیکنالوجی پر ہے جو وبائی زکام اور خسرے جیسی بیماریوں کی ویکسین تیار کرنے کے لیے جانی جاتی ہے اور اس سے کامیابی کے امکانات اور زیادہ ہو سکتے ہیں۔


اس کے برعکس امریکہ کی کمپنی ’موڈرنا‘ اور جرمنی کی ’کیور ویک‘ اور ’بائیو این ٹیک‘ نئی ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہیں جسے ’مسینجر آر این اے‘ کہا جاتا ہے جس کے ذریعے ابھی تک ایسی کوئی پراڈکٹ تیار نہیں کی گئی جسے ریگولیٹرز نے منظور کیا ہو۔
امریکی ریاست فلاڈیلفیا میں بچوں کے ہسپتال کے ویکسین ایجوکیشن سنٹر کے ڈائریکٹر پاؤل اوفٹ نے چین کی طرف سے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے بارے میں کہا کہ یہ ایک اچھی حکمت عملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر مجھے کسی محفوظ ویکسین کا انتخاب کرنا پڑے تو وہ یہی ہوگی۔
چین میں انسانوں پر تجربات کے مراحل سے گزرنے والی چار ویکسینز ان ایکٹیویٹڈ ٹیکنالوجی سے تیار کی گئی ہیں جن میں ’سینو ویک‘ اور چین کے نیشنل بائیو ٹیک گروپ کی تیار کردہ ویکسینز شامل ہیں۔


اس وقت دو تجرباتی ویکسینز فائنل فیز 3 کے ٹرائلز سے گزر رہی ہیں۔ ایک ’سینو فارم‘ کمپنی کی ہے اور دوسری ’آسٹرا زینیکا‘ اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی ہے، جبکہ ’سینو ویک‘ گزشتہ مہینے سے تیسری ہوگئی ہے ۔
چین نے اس کے پروسیس کو تیز کرنے کے لیے سینو فارم اور سینو ویک کو فیز 1 اور فیز 2  کے ٹرائلز کو اکٹھا کرنے کی اجازت دی ہے۔
بحرحال چین کو ویکسین کی کوالٹی اور اس کے انسانوں کے لیے محفوظ ہونے جیسے تحفظات بھی دور کرنا ہوں گے کیونکہ اسے گذشتہ چند برسوں میں غیر معیاری ویکسین بنانے کے کئی سکینڈلز کا سامنا کرنا پڑا تھا۔


اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل ویکسین انسٹیٹیوٹ کے سربراہ جیرومی کِم کا کہنا ہے کہ ’چین کی نیشنل ریگولیٹری اتھارٹی اس حوالے سے بہتری لا رہی ہے۔’
چین نے ویکسین کی صنعت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک قانون متعارف کروایا ہے جس کے تحت غیر معیاری یا جعلی ویکسین تیار اور فروخت کرنے پر بھاری سزائیں دی جائیں گی۔


الحمدللہ پاکستان میں مرحلہ وار کووڈ 19 کی ویکسینیشن جاری ہے۔ ملک بھر میں اضلاع اور تحصیل کی سطح پر مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں مفت ویکسین لگائی جا رہی ہے، لیکن ویکسینیشن سے متعلق لوگ خدشات کا شکار بھی ہیں۔
لہٰذا ویکسین اور ویکسینیشن سے متعلق بعض افواہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی غیرمصدقہ خبریں اور غیر مستند معلومات کی حقیقت کچھ بھی نہیں ۔ تاہم متعلقہ سائنس داں اور ماہرین ویکسینیشن کو مؤثر اور محفوظ عمل قرار دیتے ہیں۔


شیئر کریں: