Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی محکمہ معدنیات و معدنی ترقی کا سال 2020-21 میں 3.75 ملین زرمبادلہ کاحدف مقرر

شیئر کریں:

2021-22 میں 4 ملین سے زیادہ زرمبادلہ کا ہدف۔
محکمہ معدنیات رواں سال کان کنوں کی فلاح و بہبود پر 20 کروڑ روپے خرچ کر چکی ہے۔


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے معدنیات و معدنی ترقی کا اجلاس بروز جمعرات اسمبلی کانفرنس ہال پشاور میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کے چیئرمین و ممبر صوبائی اسمبلی عزیز اللہ خان نے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے محکمہ معدنیات عارف احمد زئی کے علاوہ ممبران کمیٹی و اراکین صوبائی اسمبلی زبیر خان، ساجدہ حنیف، عائشہ بی بی، سمیہ بی بی، محمد شعیب، صوبیہ شاھد، نثار احمد جبکہ حمیرہ خاتون اور صاحبزادہ ثناء اللہ کا بطور محرک شرکت سمیت سیکرٹری محکمہ معدنیات و معدنی ترقی نظر حسین شاہ، ڈائریکٹر جنرل فضل قادر، ڈائریکٹر لائسنسنگ فضل واحد اور دیگر متعلقہ افسران سمیت اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل ولایت خان بھی شریک ہوئے۔

اس موقع پر محکمہ معدنیات کے سیکرٹری و ڈائریکٹر جنرل نے چیئرمین و ممبرانِ کمیٹی کو صوبہ بھر میں اور بلخصوص سابقہ قبائلی علاقوں سمیت دیر پائیں، چترال، سوات، اور بونیر میں معدنیات کے ذخائر، ان کی لیز کا طریقہ کار جبکہ محکمے کے عملہ اور ان کی ذمہ داریوں سمیت ضروری اقدامات سے متعلق امور پر تفصیلات سے آگاہ کیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ نے سال 2019-20 میں 2.59 ملین، 2020-21 میں 3.75 ملین زرمبادلہ کی وصولی جبکہ سال 2021-22 میں 4 ملین سے زیادہ زرمبادلہ کا ہدف رکھا ہے جس کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائی جا رہی ہیں۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ محکمہ معدنیات نے رواں سال معدنی ذخائر کے کان کنوں کی فلاح و بہبود جس میں ان کے بچوں کی تعلیمی سکالرشپ و وظیفے شامل ہیں، کی مد میں 20 کروڑ روپے خرچ کر چکی ہے۔کمیٹی کو مزیدبتایا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پائے جانے والی تقریباً 250 مختلف قسم کی معدنیات کیلئے سروے، لیز، کھدائی اور دیگر تمام مراحل کے طریقہ کارحتی کہ مارکیٹ تک رسائی اور قیمتوں کی تفصیل سمیت اراضی مالکان کے تحفظات بآسانی حل کرنے کیلئے محکمہ معدنیات اس جولائی 2021میں ڈیجٹلائزیشن سسٹم متعارف کرنے کیلئے تیاریاں مکمل کر چکی ہے۔ کمیٹی چیئرمین عزیز اللہ خان نے اس حوالے سے کمیٹی کو اگلے اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی تاکید کی۔

اس موقع پر عزیز اللہ خان نے انتظامی افسران کو محکمہ سے متعلق عوامی مسائل و آگاہی کے خاطر صوبے کے تمام اضلاع میں کھلی کچہری کے انعقاد جن میں متعلقہ ایم پی ایز اور ڈپٹی کمشنرز کو بھی دعوت دی جائے، کی ہدایت کی۔اجلاس کے موقع پر بشمول کمیٹی ممبران اور محکمہ معدنیات کے انتظامیہ کا انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور اور جیالوجی ڈیپارٹمنٹ یونیورسٹی آف پشاور کیساتھ خصوصی نشست کرنے اور ان کی ماہرانہ رائے اور معاؤنت حاصل کرنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔ کمیٹی ممبران نے بہتر عوامی مفاد و سہولت کی خاطر محکمہ معدنیات کا دفتر تبدیل کرنے پر بھی زور دیا تاکہ معدنیات کے شعبے سے وابستہ یا دلچسپی رکھنے والے افراد کو آنے جانے میں آسانی ہو۔


شیئر کریں: