Chitral Times

Jun 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

روالپنڈی رنگ روڈ معمہ اور اپوزیشن کی بد نیتی۔۔۔۔۔۔۔محمد آمین

شیئر کریں:

موجودہ تحریک انصاف حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کرپشن کے خلاف جہاد کرنا اور ابھی تک بہت سے کامیابیاں بھی سامنے اچکے ہیں جن میں سے ڈھائی سال کے دوران 450 ارب کے لگ بھگ نیب کو ادائیگی (recovery)شامل ہے جو کہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔عمران خان کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بد عنوان لیڈرنہیں ہے اورکسی بھی کرپش کو برداشت نہیں کر سکتا،جس کی ذندہ مثال یہ ہے کہ نہ خان صاحب کے پاکستان سے باہر جائیداد ہیں اور نہ بینک اکاونٹ اور اگر پاکستان میں کچھ ہیں وہ شوکت خانم میموریل ہاسپتل،نمل یونیورسٹی اور عمران خان فاونڈیشن ہیں جو پاکستانیوں کی فلاح و ترقی کے لیئے بنے ہوئے ہیں۔اور زیادہ پاکستانی اس بات سے بخوبی واقع ہیں کہ یہ درویش صفت انسان اپنی دن رات پاکستانیوں کے لیئے وقف کر رہا ہے۔لیکن جب سے پی ٹی آئی کی حکومت ائی ہے ماضی کے حکومرانوں نے اس کے خلاف نت نئے سازشی حربے استعمال کر رہے ہیں تاکہ حکو مت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکیں۔اور اپنے کیئے ہوئے ہوئے کرپشن کو چھپائیں۔


حال ہی میں روالپنڈی رنگ روڈ میں جو بے قاعدگیان (irregularities) سر ذد ہوئی وہ بھی تحریک انصاف کے کھتے پر ڈالنے کی پوری کوشش کی گئی تاکہ حکومت پر دباو بڑھا کر اس کو مجبور کیا جائے کہ تحریک انصاف خود کرپشن میں ملوث ہے اور وہ دوسروں سے صرف بدلہ لینے کے لیئے نیپ کواستعمال کر رہی ہے۔روالپنڈی رنگ روڈ کا ڈیزائن 2016ء میں مکمل ہوا تھا اور ڈیزائن کا کام نیسپاک (NESPAK)نے کیا تھا۔ابتدائی طور پر یہ روڈ 26 کلومیٹر پر محیط تھا جو کہ روات (ریڈیو اسٹیشن) سے لیکر جی ٹی روڈ سے ہوتے ہوئے ترنول تک تھا۔بعد میں زیرک نام کی ایک کانسلٹنٹ کمپنی نے اس کا دوبارہ سروے کیا اور چھبیس کلومیٹرسے بڑھا کر 66 کلومیٹر تک کا اضافہ کیا گیا اور اس کی اختتامی پوائنٹ اسلام اباد لاہور موٹر مقرر کی گئی۔اس نئے (realignnment)کے تحت اٹک،ٹیکسلا اور اسلام اباد کے علاقے بھی اس میں شامل ہوئے۔چونکہ نئے الائنمنٹ کے مطابق زمینین خریدی گئی جس سے کچھ پراپرٹی مالکان مستفید ہوئے اور اٹک میں زمین حصولی کے مد تقریبا2.3 روپے زمین مالکان کو ادا کی گئی۔یہان یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ جب رنگ روڈ کی ری الائنمنٹ کی سروے زیرک نامی ادارے سے کی گئی تو اس نئے ڈیزائن کو نیسپاک نے نہ صرف سراہا بلکہ منظوری بھی دی کیونکہ اس سے بہت سے موڑ میں کمی اسکتی تھی اور دوسرے گاڑیاں 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اسانی سے سفر طے کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں اور مذید علاقے اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔


رنگ روڈ کی وسعت اور دوبارہ سے ڈیزائن حکومت وقت کی جانب سے کوئی بد دیانتی نہیں تھا لیکن اس میں کچھ بے قاعدگیان ضرور واقع ہوئی جس کی شفاف تحقیق لازمی ہے۔لیکن اپوزیشن جماعتون خاص کر نون لیگ نے اس میں غیر ضروری طور پر شور مچانے شروع کیے اور براہ راست وزیر اعظم کے معاون خصوصی ذولفی بخاری اور وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور کو اس میں ملوث قرار دیا بلکہ اس حد تک گئے کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان اور وزیر اعظم پاکستان بھی اس بے قاعدگی میں ملوث ہیں۔اسی دوران وزیر اعظم کے حکم پر دو الگ تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ وزیر اعظم کے دفتر ارسال کیئے اور کسی رپورٹ میں بھی معاون خصوصی ذولفی بخاری کو ملوث نہیں ٹھرائے۔لیکن اس سارے معمہ میں ذولفی بخاری نے اخلاقیات کا اعلی میعار قائم کیا وہ یہ تھا کہ اس نے اپنے سارے ذمہ داریوں سے اس وقت تک مستعفی ہونے کا اعلان کردیا جب تک کہ وہ اپنی معصومیت کو ثابت نہ کرسکیں اور مذید یہ کہ حکومت کا حصہ بن کر شفاف تحقیق میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو سکیں۔ذولفی بخاری کا قصور صرف اتنا ہے کہ اس کے کچھ عزیز اس ری الائنمنٹ سے استفادہ ہوئے ہونگے،اور قیاس کے بنیاد پر یہ پروپگنڈا کرنے لگے کہ اپنے عزیر توقیر شاہ کو فائدہ دینے میں ذولفی بخاری نے اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا گیا اور بس اپوزیشن اور حکومت مخالف میڈیا کو ایسے من گھڑت خبرون کی تلاش تھی اور بدقسمتی سے معاون خصوصی ہمیشہ ان کی ریڈار میں موجود رہتاہے کیونکہ وہ عمران خان کے نہایت قریبی اور با اعتماد ساتھی سمجھا جاتا ہے۔لیکن جس طریقے سے ذولفی بخاری نے اپنے اپ کو شفاف تحقیقات کے لیئے پیش کردیا وہ یہ کہ نہ صرف اپنے اعلی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا بلکہ ایک اعلی پیمانے کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا بھی مطالبہ کردیا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔یہ اس کی بڑھاپن اور اپنے کپتان کی سیاسی فلاسفی پر یقین کا نام ہے اور یہ بھی اعلان کردیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک وہ پاکستان میں رہے گا۔


یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کے نہایت قریبی ساتھی ہونے کے بناء بہت سے لوگوں سے اس کی سیاسی کامیابی ہضم نہیں ہوتی ہے اور اس سے مختلف الجھنوں میں پھانسانے کی کوشش کیجاتی ہے لیکن ہر مرتبہ وہ کامیاب و کامران ہوتا نظر اتا ہے بحیثیت معاوں خصوصی ا ٓپ نے بیرون پاکستانیوں اور سیاحت کے حوالے سے نہایت شاندار خدمات سرانجام دیا ہے اور نہایت مختصر سیاسی سفر میں بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔اگر چہ کپتان نے اس سے استعفی دینے سے منع کیا تھا لیکن شفاف تحقیقات کے خاطر اس نے اپنے عہدے بھی قربان کردیا اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے مثالین بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں، یہیں چیزین سیاسی اخلاقیات (political moral norms) ہوتے ہیں جن کی پاکستان میں ہمیشہ فقدان رہا ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے بے بنیاد الزامات سے بھرا ہوا ہے کیونکہ اپوزیشن کو کبھی بھی اپنی گریبان میں چھونک کر دیکھنے کا موقع بہت کم ملتا ہے کہ ان کے ماضی کیا بنے تھے۔


شیئر کریں: