Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

امام اعلی مقام علی رضا کی مرتبت اور کرامت….محمد آمین

شیئر کریں:

چند دنوں قبل ایک نجی ٹی وی چینل پر تواسل اور شریعت میں اس کی گنجائیش کے حوالے سے ایک پروگرام نشر ہو رہی تھی جس میں مختلف مکتب فکرسے تعلق رکھنے والے جید علماء شامل گفتگو تھے پروگرام کے درمیان امام علی رضا ؑکی کرامت اور فضلیت کے حوالے سے تما م علماء نے تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالے اور یہ پروگرام مجھے اتنا اچھا لگا کہ میں نے سوچھا کہ میں امام آہلبیت اطہار کے حوالے سے کچھ ہدیہ پیش کر کے ان سے اپنی مودد کا اظہار کروں کیونکہ قرآ ن مجید و حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے،، کہ اے نبیﷺ ان سے کہدیں کہ میں اپنے دعوت کے سلسلے میں اپ لوگوں سے کچھ نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے اقربا ء سے مودد کر،،مفسریں قرآن نے مودد کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ محبت سے بڑھ کر ہوتا ہے کیونکہ مودد میں انساں اپنی مال اور دولت دونوں قربان کر دیتا ہے اور ان ہستیوں سے محبت ہماری ایمان کا حصہ ہے۔آپؑ نبی اقدس کے خاندان کے اعظیم چشم و چراغ تھے۔


امام علی مقام مدینہ منورہ میں 770 ؁ء پیدا ہواتھا اورشہادت 825 ؁ء کو طوس میں خراسان کی سرزمین میں ہواتھا اور اپ کی قبر مطہر ایران کے شہر مشہد میں واقع ہے آپ شعیہ اسلام کے اٹھویں امام تھا اور امام موسی کاظم کا فرزند تھا۔آپ کی اعلی صفات کے بناء پر اپ کو کئی القاب سے نوازا گیا جن میں صابر (ازمائیشوں پرصبر کرنے والا)،ذاکی (پاکیزہ اخلاق والا)،وفی (لین دین میں دیانتدار)،ولی تھے،لیکن آپؑ جس لقب سے زیادہ مشہور تھا وہ،،رضا،،تھا اس مبارک لقب کی کئی وجوہات تھے یعنی اپ اللہ اوراللہ کے رسول کے شریعت پر اپنے ظاہر و باطن سے راضی ہوچکے تھے،اللہ بھی اپ سے راضی تھا اور لوگ بھی خوش تھے،موافق و مخالف یعنی مجموعی طور پر سب لوگ اپ سے راضی و خوش تھے۔جہان اپ اعلی نصب تھے وہاں اپ بلند پایہ عالم،صاحب فضلیت اور وقت کے امام تھے۔آپ نوجوانی کے ایام ہی سے مسجد نبوی میں فقی مسائل پر لیکچر دیا کرتا تھا۔اپ کے دست مبارک سے کئی اہم اشخاص مشرف بہ اسلام اسلا م ہوچکے تھے جن میں معروف کرخی کا نام قابل ذکر ہے جو تصوف کے جلیل قدر شیخ اور مرجع خلائق ہستی تھا۔امام علی رضا نے قرآن و حدیث اور ائیمہ آہل بیت کے تعلیمات کی روشنی میں اسلام کی صحیح معنوں میں نمائیندگی کی اور ان تعلیمات کو پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا۔اپ سے بہت سے لوگوں نے احادیث نقل کیئے ہیں جن میں آدم بن ابی ایاس،نصر بن علی اور محمد بن رافع قشیری وغیرہ قابل ذکر ہیں۔جس طرح آپؑ کو حدیث بنوی کی تحصیل و اشاعت میں رغبت تھی وہان تفسیر قرآن پربھی اپکو عبور تھا،اور آیات کی بہت عمدہ اور عام فہم تفسیر بیان فرماتا تھا۔


ایک مرتبہ امام علی مقام نیشاپور تشریف لائے اور اپنے خچیر پر سوار تھا۔جب بازار میں داخل ہوئے تو دو محدثین جناب ابو زرعہ رازی اور محمد بن اسلم طوسی بے شمار طلباء،اصحاب حدیث اور حضرات فقہا کے ساتھ اپکی خدمت اقدس میں پیش ہوئے،اپ اس وقت بند پالکی میں تشریف فرماتھے دونوں محدثین نے نہایت اداب سے درخواست کی کہ اے اہل بیت کے جاننیشن:حاضریں کو اپنے رخ انوار کی زیارت کرادجیے اور اپنے ابائی سلسلہ سے کوئی حدیث بھی روایت فرمائیں۔اپنے سواری ٹھرانے اور خدام کو پردہ اٹھانے کا حکم دیا۔لوگوں کے جم غفیر نے اپ کے چہرہ انوار کی زیارت سے انکھیں ٹھندی کیئے،عقیدت و محبت کی یہ کیفیت تھی کہ لوگوں کی آہین تھمتھی نہ تھے،نالہ و بکاء رکتے نہ تھے،کچھ لوگ مٹی میں لوٹ پوٹ ہو رہے تھے اور کچھ بے خودی میں سواری کے پاوں چوم رہے تھے اور

بقول شاعر
پڑے ہیں تیرے کوچہ میں لاکھوں مجروح و مقتول،مذبوح و بسمل
آٹھویں پشت میں حسن نبوی کی جھلک کا یہ اثر تھا،تصور کیجیے خود حسن نبوی کا کیا حال ہوگا۔
علماء و مشائخ پکار رہے تھے لوگو ں خاموش ہو جاو اور اپنے لیے نفس بخش کلام سنو اور امام علی مقام سے حدیث بیا ن کرنے کی درخواست کیے


اپ نے فرمایا،، مجھے حدیث بیا ن کی میرے والد موسی کاظم نے اپنے والد ماجد جعفر صادق سے،انہوں نے اپنے والدماجد محمدباقرسے،انہوں نے اپنے والدماجد ذین العابدین سے،انہوں نے اپنے والدماجد حسین ابن علی سے،انہوں نے اپنے والد ماجد،علی ابن ابی طالب سے اور انہوں نے فرمایا کہ مجھے رسول خدا نے یہ ارشاد فرمایا کہ مجھے جبرائیل نے بیان کیا کہ میں نے رب العزت کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لا الہ اللہ میرا قلعہ ہے،جس نے یہ کلمہ پڑھا وہ میرے قلعے میں داخل ہو گیاوہ میرے عذاب سے بچ گیا،،۔


اللہ تعالیٰ نے اپکو بہت سی فضلیتوں اور عظمتوں سے نوازا تھا اور نہایت بلند وشان مقام عطا فرمایاتھا،اپ خاندان آہلبیت اطہار کی جلیل قدر،صاحب فضل و کمال ہستی اور محبوب زمانہ شخصیت تھے،لوگوں کی دلوں میں اپ کے لیے بڑی عقیدت تھی۔آپ اپنے زمانے میں بنی ہاشم کے سرداراور بزرگ ترین شخصیت کے تعارف سے جانے جاتے تھے،بلکہ اپ کے زمانے میں اپ پرہیز گاری اور تقوی کا اعلی نمونہ تھا،علم دینداری اور صفت قیادت میں اپ اپنی مثال اپ تھے اور امیرولمومنین بنے کی ساری صفاتیں اپ میں موجود تھی۔جب مامون رشید نے اپکو ولی عہد بنایا تو بنو عباس کے کچھ لوگوں نے اس پر اعتراض کیے اس پر ماموں نے ان کے سامنے امام علی رضا کے عظمت و فضلیت بیان کرتے ہوئے کہا،اس وقت روئے زمین پر اپ سے زیادہ فضلیت والا،زیادہ عفت والا،زیادہ تقوی والا،زیادہ ذہداور عوام و خواص میں آپ سے زیادہ محبوب کوئی شخصیت نہیں ہے۔


معروف عالم دین جناب مولانا طارق جمیل اپنی مشہور کتاب گلدستہ آہل بیت میں جناب امام علی رضا کی کرامت کا کے حوالے سے لکھتا ہے


ایک دفعہ اپ ایک ایسی جگہ تشریف لے گئے جہاں ہر طرف درندے ہی درندے تھے،اپ ان کے درمیاں چلتے پھلتے رہے،مگر کسی درندے نے اپکو کچھ نہیں کہا بلکہ اپ کودیکھ کر وہ سب اپنی دموں کے بل وہیں زمین پر بیٹھ گئے۔اپ فردا فردا ان میں سے ہر ایک کے پاس گئے،حیرات کی بات یہ ہے کہ جب اپ ان میں سے کسی کے پاس جاتے تو اپکو دیکھ کر ایسے دم ہلانے لگتا جیسے پالتو جانور اپنے مالک کو دیکھ کر دم ہلاتا ہے۔اور یہ ہوتے ہیں آہل بیت اطہار کے کرامت جو اللہ رب العزت کی طرف خاص عنایت ہوتے ہیں۔امام علی مقام کے وفات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اپؑ کو زہر دیا گیا جسے اپکی شہادت واقع ہوئی۔آپ کو ایران کے شہر مشہد میں دفنایا گیا جہان لاکھوں کی تعداد میں زائرین ہر سال اپنی عقیدت کا اظہار کرنے کے واسطے جاتے ہیں۔


شیئر کریں: