Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلی خیبرپختونخوا، چیف انجینئرمحکمہ ایریگشن ، ضلعی انتظامیہ اپر چترال سے اپیل

شیئر کریں:

یہ بات عاجزانہ طور پرآپ کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں۔ کہ پچھلے سال (اگست 2020) کے سیلاب میں ہمارے گاؤں میں آبپاشی کی نہریں بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے سیلاب نے زئیت اپر چترال کو بے حد نقصان پہنچایا اور گاؤں زئیت کے 120 گھروں سمیت پورے علاقے کو پانی کی فراہمی بند ہے اس کے علاوہ ریشون کے تمام آبپاشی چینل اُس وقت سے متاثر ہیں اور کئی دیہاتیوں کی کاشت شدہ زمین کو پانی کی فراہمی میں مشکلات درپیش ہیں ۔


محترم چیف منسٹر صاحب اس وقت ریشن کا دور کرتے ہوئے ایمرجنسی پیکچ کاعلان کیا تھا ابھی تک اس کا کچھ پتہ نہیں چلا ہے اور ساتھ اُس وقت سیلاب متاثرین کو کسی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا وہ بے یار و مددگار آسمان تلے حکومت کی راہ دیکھ رہے ہیں ۔


ستم ظریفی ہے کے حکومت کے پاس کئی اراضی سرکاری زمین ہونے کے باوجود ان بیچاروں کو دوبارہ سیلاب کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا ہے


لہذا ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں ایک نوٹیفیکیشن کرکے ان ان بیچاروں کو کسی دوسری محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور جس پیکچ کا اعلان ا چیف منسٹر صاحب ریشن آکر کیا تھا اس پر بھی فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے بصورت دیگر اگر دوبارہ سیلاب آیا تو بہت بڑی تباہی کا خدشہ ہے اس کی تمام ذمہ داری موجودہ حکومت پر ہوگی۔

شہزاد احمد برائے متاثرین سیلاب زئیت و ریشن اپر چترال


شیئر کریں: