Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بزمِ درویش۔۔۔۔۔راجہ صاحب۔۔۔۔تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

شیئر کریں:

سورج آسمان سے آگ کے گولے برسا برسا کر زمین کو دہکتا ہوا تنور بنا چکا تھا زمین گرمی آگ سے آتش فشاں کی طرح پھٹ رہی تھی گرمی کی اِس شدت میں رانی بیٹی راولپنڈی سے لاہور آئی تھی اللہ کرے خیر ہو سہی۔میں تیزی سے اپنے کتابوں کے حجرے سے نکل کر مین دروازے پر پہنچا جہاں پر رانی بیٹی ایک بلکل ہی مختلف روپ میں سر سے پاؤں تک عبائے میں خود کو ڈھانپے کھڑی تھی رانی کا یہ روپ میرے لیے بہت ہی حیران کن تھا رانی تو زندگی کے شوخ رنگوں سے بھرپور تھی جو بات بات پر قہقہے لگاتی تھی لیکن دروازے پر تو حسرت و یاس کی تصویر بنی دکھوں کی ماری رانی کھڑی تھی مجھے دیکھتے ہی رانی نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹایا تاکہ میں اُس کو پہچان سکوں وہ کافی سالوں بعد میرے پاس آئی تھی میں رانی کو پچھلے بیس سالوں سے جانتا تھا وہ بارہ سال کی بچی تھی جب سے اپنے والد راجہ صاحب کے ساتھ میرے پاس آتی تھی رانی کے ساتھ اُس کا پانچ سالہ بیٹا بھی تھا جو حیران نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا آسمان سے مسلسل آگ برس رہی تھی

میں فوری طور پر رانی اور اُس کے ننھے پیارے بچے کو لے کر اپنے حجرے میں آگیاجو مسلسل اے سی کے چلنے سے ٹھنڈا اور خوشگوار احساس لیے ہمارا منتظر تھا کو کمرے میں آتے ہی میں نے رانی اور اُس کے بیٹے کو فالسے کا شیریں ٹھنڈا مشروب شیشے کے گلاسوں میں انڈیل کر پیش کیا جو دونوں گرمی کی شدت اور پیاس کی وجہ سے فوری پی گئے تو میں نے پیار سے دوبارہ گلاس بھر کر پیش کر دئیے تاکہ گرمی اور پیاس کی شدت کو کم کیا جاسکے جب دونوں نے ٹھنڈے شربت کو معدوں میں اتار لیا تو میں نے ٹھنڈے صحت مند لذیذ رس بھرے آلو بخاروں کا باؤل بچے کے سامنے کیا تاکہ اُس کی پیاس کے بعد اب اُس کی بھوک بھی کم ہو سکے ساتھ ہی گھر والوں کو چائے کے ساتھ لوازمات کا کہا تاکہ دونوں کی بھوک کو مٹایا جا سکا رانی میری بیٹیوں جیسی تھی میں اِس کو بیٹی اور یہ مجھے بابا جان کہتی ماہ و سال گزرتے رنگوں کی تبدیلیاں رانی کے چہرے سے نظر آرہی تھیں

اب وہ جوانی کے اگلے دور میں داخل ہو گئی تھی لیکن بچپن کا بھولا پن معصومیت ابھی بھی رانی کے چہرے کا خاص رنگ تھا مجھے رانی کا بچپن اور راجہ صاحب یاد آگئے جس کے ساتھ یہ معصوم بچی مری کی خوشگوار سہانی وادیوں میں گھوما کرتی تھی یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں قیا م مری کے دوران کو چہ فقر میں داخلہ لے چکا تھا ذکر اذکار مراقبہ جات تذکیہ نفس کی پراسرار پرپیچ گھاٹیوں سے گزر رہا تھا فقری درویشی صوفی ازم عشق الٰہی راہ سلوک کی مسافتیں اسرار و رموز سے آگاہی اور مقام حیرت کا مسافر تھا ذکر کی لذت اور جنون میں مبتلا تھا۔ میرا کالج اور گھر پہاڑ کی ڈھلوان پر تھے جس کے عین سامنے سے روڈ مقامی سڑک گزرتی تھی جس پر مقامی لوگوں کی بہت کم ٹریفک گزرتی تھی اِس علاقے میں موسمی لوگوں کے بنگلے زیادہ تر تھے ایسے موسمی لوگ جو سارا سال پاکستان کے مختلف علاقوں میں زندگی گزارتے ہیں لیکن موسم گرم کے آغاز کے ساتھ ہی یہ مری کا رخ اختیار کر تے ہیں اِن آنے والوں میں مختلف قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک تو جو زیادہ دولت مند نہیں ہو تے لیکن اِس قابل ہو تے ہیں کہ گرمی کا موسم گزارنے کے لیے کوہ مری میں آکر کرائے کے مکانات لے کر موسم کو خوب انجوائے کر تے ہیں دوسرا گروپ ان لوگوں کا ہو تا ہے جو زیادہ دولت مند ہونے کی وجہ سے کرائے کے گھروں کی بجائے اپنی پسند کی لو کیشن پر خوبصورت گھر بنا لیتے جہاں پر وہ آکر گرمیاں گزارتے ساتھ ہی ایسے تعلقات کو بہتر استوار کر نے کے لیے دوستوں رشتہ داروں کو بھی چند دن مری میں مفت قیام کی آفر کرتے‘ راجہ صاحب ان لوگوں میں شامل تھے

جنہوں نے مری میں اپنا چھوٹا سا خوبصورت گھر بنایا ہو اتھا ویسے وہ راولپنڈی کے رہائشی تھے لیکن جوانی اور روزگار کے سلسلے میں پندرہ سال یورپ میں گزارنے کے بعد اب جیسے ہی گرمی کا موسم آتا وہ مری آجاتے شروع میں تو کرائے کے مکانوں میں رہتے رہے پھر اپنا مکان بنالیا راولپنڈی میں چند دوکانیں اور بڑا ہال تھا ساتھ میں کچھ خاندانی زرعی زمینیں بھی تھیں اِس لیے معاشی تنگیوں سے عازم آرام دہ پرآسائش زندگی گزارتے تھے شروع کے چند سال گزارنے کے بعد اب یہ صرف برفباری کے موسم میں ہی راولپنڈی جاتے تھے باقی سارا سال کو ہ مری کا موسم اور سڑکیں تھیں جہاں پر اپنی بیٹی کے ساتھ واک کرتے تھے میرا گھر جس روڈ پر تھا وہ نیچے سے اوپر مین مری بازار کی طرف تقریباً دو کلومیٹر راستہ تھا واک کے شوقین حضرات نیچے سے اوپر کی طرف شام سے پہلے اپنی واک کا آغاز کر تے اوپر مال روڈ پر چھوٹی موٹی خریداری کر کے واپس آجاتے اِسطرح چار پانچ کلومیٹر کی واک بھی ہو جاتی میرا اکثر یہ معمول تھا کالج سے آکر کھاتا وغیرہ کھا کر تھوڑا آرام کر تا پھر اپنے گھر کے لان میں کنارے پر آکر تسبیح ہاتھ میں پکڑ کر کبھی بیٹھ جاتا کبھی چلنا شروع کر دیتا اِس دوران روڈ پر آنے جانے والوں سے اشاروں میں زبان سے سلام دعا کا سلسلہ بھی جارہی رہتا راجہ صاحب اپنی بارہ سالہ رانی بیٹی کے ساتھ شام سے پہلے اِس روڈ سے گزرتے ہاتھ میں چھڑی سر پر ہیٹ سجائے دوسرے ہاتھ میں رانی کا ہاتھ تھاما ہوا شروع میں اشاروں میں پھر بآواز سلام دعا کا تبادلہ شروع ہو گیا

راجہ صاحب نے جب میرے ہاتھ میں تسبیح دیکھی تو ایک دن رک گئے اور بولے جناب پڑھتے ہیں تو میں نے اللہ کے نام بتائے تو بہت خوش ہوئے اور ساتھ ہی بولے میرے پاس صندل کے موٹے دانوں والی تسبیح ہے جو میرے والد صاحب کے مرشد نے دی تھی اگر آپ اجازت دیں تو کل آپ کو پیش کروں اِس طرح میرے والد صاحب کو ثواب ملے گا میں نے مسکرا کر اجازت دی تو اگلے دن راجہ صاحب خوبصورت مہکتی ہو ئی صندل کے دانوں والی تسبیح عطر کی شیشی جائے نماز اور کھجوریں لے کر حاضر ہوئے کہ آپ جب جائے نماز پر عبادت کریں گے تو میرے والد صاحب کی روح خوش ہو گی یہ میرا راجہ صاحب سے پہلا باضابطہ تعارف تھا اِس کے بعد راجہ صاحب سے آتے جاتے سلام دعا شروع ہو گئی ایک دن میں نے چا ئے پکوڑے تیار کرائے اور باہر بیٹھ کر لطف اٹھانے لگا راجہ صاحب کو پہاڑی چڑھتے دیکھا تو ان کو بھی بلا لیا رانی بیٹی نے پکوڑے بہت شوق سے کھائے باتوں باتوں میں جب میں نے راجہ صاحب کی فیملی کے بارے میں پوچھا تو علم الاعداد کے تحت چند باتیں بھی کر دیں راجہ صاحب کا ایک بیٹا بھی تھا جو اُن دنوں اعلی تعلیم کے لیے برطانیہ گیا ہوا تھا میری علم الاعداد کی تکا بازی سے بہت زیادہ متاثر ہوئے بلکہ مجھے کوئی نیک ولی ٹائپ بندہ سمجھنا شروع ہوگئے

راجہ صاحب کا سارا خاندان نسل در نسل اولیاء کرام سے محبت عقیدت رکھنے والا تھا میری میں کیونکہ تصوف کا رجحان رکھنے والے لوگ بہت کم تھے جب میں ملا تو انہیں بہت اچھا لگا انہوں نے مجھے مختلف بزرگوں مزارات پر حاضریوں کے بارے میں بتایا اُن کے والد صاحب کے مرشد غزنی سے تشریف لائے تھے ان کی بہت ساری کرامات کا ذکر کرتے میں تو کوچہ تصوف میں نووارد تھا اِس لیے راجہ صاحب کی باتیں غور شوق سے سنتا اب راجہ صاحب نے اکثر اپنے گھر پر جو قریب ہی تھا میری دعوت کر نا شروع کر دی میں ان دنوں پر ہیز جمالی جلالی میں پھنسا ہوا تھا دا ل چاول ہی کھاتا تھا جو راجہ صاحب شوق سے بنواتے وہاں پر خوب باتیں ہوتیں راجہ صاحب اپنی نیک بیوی اور رانی بیٹی کے ساتھ وہاں رہتے اب انہیں میری شکل میں دوست نما انسان مل گیا تھا راجہ صاحب کبھی کبھا ر مشروب مغرب سے دل بہلا لیا کرتے تھے ان کی بیگم نے مجھے خاص طور پر کہا کہ یہ دل کے مریض ہیں خدا کے لیے ان سے شراب کی لت چھڑائیں اب میں موقع کی تلاش میں تھا کہ کس طرح راجہ صاحب کو را ہ فقر کی طرف لاؤں اور اِ ن کومشروب مغرب سے نجات دلاؤں آکر وہ دن آگیا۔ (جاری ہے)


شیئر کریں: