Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مافیاز کون ہیں؟ میں وہی ملک وہی ہے تو ہے وہی ….خالد محمود ساحر

شیئر کریں:

افلاطون کے مطابق مملکت افراد کے مجموعے کا نام ہے اور یہ ناممکن ہے کہ برے شہریوں سے اچھی مملکت بنے یا اچھے شہریوں سے بری مملکت بنے. افلاطون کے نذدیک ہر ریاست کے تین عناصر بہت اہم ہیں, حاکم طبقہ؛ جو ملک کے نظم و نسق کا ذمہ دار ہوتا ہے, فوجی طبقہ؛ جو ملک کو بیرونی اور اندرونی حملہ آوروں سے محفوظ رکھتا ہے اور تیسرا اہم طبقہ مزدوروں,کسانوں اور ہنرمندوں کا ہوتا ہے ,یہ طبقہ ریاست کے تمام افراد کیلئیے ضروریات زندگی مہیا کرتا ہے .


افلاطون کا خیال ہے کہ ہم ان طبقات میں تفریق ختم کرسکتے ہیں کیونکہ حاکموں اور محافظوں کی اگر درست انداز میں اصلاح ہوجائے تو تو تیسرا طبقہ خود بخود اپنی اصلاح کرلے گا.  اس نظریے کے مطابق حکمران طبقہ فہم و ادراک کا حامل ہے جبکہ فوجی طبقہ مزاحمت و مدافعت کا. ان تینوں طبقات میں توازن سے ہی منصفانہ جمہوری نظام کا قیام ممکن ہے اور ان طبقوں کے اپنے اپنے مختص فرائض ہیں اور ان کا آپسی تفرقہ اس پورے نظام کو درہم برہم کردیتا ہے.


اقتدار کی تقسیم وہ واحد عنصر ہے جو ان طبقوں کو جوڑنے اور توڑنے کا کردار ادا کرتی ہے. پاکستان ایک جمہوری ملک  ہونے کے باوجود بھی اس میں  منصفانہ جمہوری نظام کا قیام ممکن نہیں ہوا. کیا اس کی وجہ اقتدار کی جنگ ہے؟


پاکستان میں ان تین طبقوں کے علاوہ چوتھا طبقہ جسے مافیا کہا جاتا ہے موجود ہے.بقول افلاطوں اگر ان تین طبقوں میں ہم آہنگی ہو اور یہ اپنے فرائض میں بھرپور ہوجائیں تو مثالی ریاست کا قیام ممکن ہے بالکل اسی طرح پاکستان کو ترقی سے روکنے والے اس چوتھے طبقے( مافیاز) کے موجدوں کی بیخ کنی کی جائے تو منصفانہ جمہوری نظام کا قیام ممکن ہے.


اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مافیاز ہیں تو یہ کون ہیں؟کیا یہ نیا طبقہ پہلے کے دو طبقوں کا ایجاد کردہ ہے؟ یہ کس کی پیداورا ہیں؟  حکومت کی یا فوج کی. کہیں یہ طبقہ ( مافیا)  اس نظام سے تنگ مزدوروں,کسانوں,تاجروں,سرمایہ داروں کا تو نہیں جو پہلے کے دو فریقوں کے جنگ (اقتدار کی جنگ) میں پس جاتے ہیں؟


اگر یہ مافیاز حکومت اور فوج کے ایجاد کردہ ہیں تو اس صورت میں یہ جنگ کبھی بھی نہیں تھم سکتی کیونکہ بظاہر حکومت اور فوج ان مافیاز کے خلاف صف آرا نظر آتے ہیں لیکن حقیقاً یہ تینوں ایک ہی صف میں ہوتے ہیں.ملکی مفادات اور ملک کی عوام اس برائے نام جنگ کی بھینٹ چڑتے رہتے ہیں حتی کہ ان طبقوں کے مفادات ایک دوسرے سے تصادم کرجائیں اور یہ آپس میں ایک دوسرے کے مقابل و مخالف آجائیں. ایسی صورت میں تیسرے طبقے کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اس نظام کو روندھ ڈالے اور نئے نظام کی بنیاد رکھے. یہ موقع انقلاب کا موقع ہوتا ہے.


پاکستان کی تاریخ ایسے بہت سے واقعات کا شاہد ہے جن میں حکومت اور فوج کی آپسی چپقلش ملکی مفاد کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے.ملکی نظام کو پیروں تلے روندھ دیتی ہے اور ہر دفعہ تیسرا طبقہ محض تماشائی کا کردار ادا کرتی ہے. 


 مافیاز اور کرپشن کا تعاقب کرتے کرتے جب عمران اقتدار تک پہنچ گئے تو ملکی تاریخ میں پہلی دفع بحیثیت حکمران انھوں نے کرپش اور مافیاز کے خلاف جنگ کا نقارہ بجایا اور ڈھائی سالوں سے کرپشن اور مافیاز کے خلاف نبرد آزما ہیں. عمران خان نے مافیاز کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہوئے قوم کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس جنگ میں سرخرو ہونگے اور یہ بھی یقین دلایا ہے اس معاملے میں ان کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے.


جب سے اس جنگ کا نقارہ بجا ہے ملک بد استحکامی کا شکار ہوگیا ہے. ملک میں ایک عجیب سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے لیکن یہ وقت فیصلہ کن وقت ہے اور یہ جنگ فیصلہ کن جنگ ہے.یہ ملکی تاریخ کی وہ فیصلہ کن جنگ ہوگی جس میں مافیاز کے ڈھکے چہروں سے پردہ ہٹے گا. جب یہ جنگ شدت اختیار کریگی تو یہ مافیاز بے نقاب ہوکر میدان جنگ میں اپنے بقا کی جنگ لڑتے نظر آئیں گے اور ان کا کردار سب پر واضح ہوگا. 


اگر اس جنگ کے خاتمے تک فوج اور حکومت کا اتحاد قائم رہتا ہے تو مافیاز سابق حکمرانوں کے صفوں سے باہر نکلیں گی اور اگر یہ اتحاد ٹوٹ جاتا ہے تو ان دونوں کی لڑائی پھر اس نظام کو تباہی کے دہانے پر لے جائی گی. پھر کوئی دوسرا آکر جنگ کا نقارہ بجائے گا اس عزم کے ساتھ کہ وہ اس جنگ میں سرخرو ہوگا چاہے ملک کا سر اونچا رہے یا جھک جائے. 


شیئر کریں: