Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایڈہاک ازم اور نوکرشاہی……پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:


لفظ یڈہاک لاطینی زبان سے نکلا ہے اورمختلف شعبہ ہائے زندگی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ استعمال سرکاری اور قانونی سطح پر کیا جا تا ہے۔عام آدمی کے لیے ایڈہاک کا مطلب عارضی نوکری ہے جس کے مستقل ہونے کی امید پر وہ سالہا سال انتظار کرتا ہے۔پڑھے لکھے طبقے کے لیے ایڈہاک کا مطلب ظلم، استحصال اورناانصافی کی وہ تلوار ہے جس کے زریعے میرٹ کا گلہ کاٹا جاتا ہے۔ ہم نظام کو سیاسی گدھ کی طرح گھورنے اور موقعہ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ جیسے ہی ہماری حکومت اپنی آخری سانسیں لینے لگتی ہے، ہم وہ سارے کام کر گزرتے جنہیں کرنے کی پانچھ سال نہ تو ہماری نیت ہوتی اور نہ ہی ہمت۔عرف عام میں ایڈہاکزم کا مطلب ہے آپ اپنی سیاسی پارٹی کے لوگ ٹرکوں میں بھر کر لائیں اور انہیں سیاسی، سفارشی اور راشی بنیادوں پر مختلف محکمہ جات میں عارضی اسامیوں پر تعینات کروادیں۔ کئی سال تک انہیں اپنے مذموم سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہیں اور جب آپ کو اپنے جانے کا یقین ہو جائے تو اپنے حواریوں کے ساتھ ملکر اس نوکر شاہی کی لاٹ کو غیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے مستقل کرتے جائیں۔

اگر ہم نے ایسے ہی اپنے لوگوں کو ملکی مشنری میں بھرتی کرکے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے تو پھر یہ پی ایس سی اور این ٹی ایس کا ڈرامہ ختم کر دینا چاہیے۔ ان اداروں سے وابسطہ افراد کو کیوں عوام کے ٹیکسوں پر پالا جا رہا ہے۔؟آزادکشمیر میں این ٹی ایس اور پی ایس سی کتنے فعال، شفاف اور غیر جانبدار ہیں یہ سوال کرتے ہی لوگوں کے ہونٹوں سے ہنسی کے فوارے پھوٹنے لگتے ہیں۔ایک طرف ملک بھر میں ہزاروں اعلی تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں جبکہ دوسری جانب حکومت میرٹ کے گلے پر چھر ی پھیرتے ہوئے سیاسی لاٹ کو مستقل کررہی ہے۔ سیاستدانوں کو تعلیم یا نوکری کی سمجھ کب، کیسے اور کیونکر آئے گی؟ وہ خود کون سے اعلی تعلیم یافتہ ہیں جو اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مسائل اور ان کی قابلیتوں اور صلاحیتوں کو سمجھ سکیں۔سیاستدانوں یا ان کی اولاد نے کب نوکری کی یا کرنی ہے جو انہیں پتہ چلے نوکری ہوتی کیا ہے۔

یہ تو عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے پسوں ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کے ایڈہاک سے مستقل ہونے والے ان پڑھ، نالائق یا نااہل ہیں۔ وہ پڑھے لکھے ہیں، لائق ہیں اور اہل بھی ہیں مگر ان کو مستقل کرنے کا طریقہ کار غیر قانونی، غیر آئینی، غیر اخلاقی اور استحصالی ہے۔ ایڈہاک پر کام کرنے والے ملازمین اور ملک بھر کے تمام پڑھ لکھے نوجوانوں کو این ٹی ایس یا پی ایس سی کے امتحانات میں شامل ہونے کا برابر موقعہ دیا جائے۔ ان میں سے جو امتحان پاس کریں انہیں مستقل سرکاری ملازمت سے نوازہ جائے اور جو ناکام ہو جائیں ان کے لیے پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے باہمی اشتراک سے مزید مواقعہ پیدا کیے جائیں یا انہیں ہنر اور کاروبار سے وابستہ کیا جائے۔ وہ ایڈہاک ملازمین جو سرکاری ملازمت کی عمر کی مقررہ حد عبور کر چکے ہیں انہیں عمر کی حد میں نرمی دے کر این ٹی ایس اور پی ایس سی کے کے امتحان میں شریک کیا جائے۔ راجہ جی کی راج نیتی میں سب ممکن ہے۔ ایڈہاکزم کے حکومتی اقدا م نے نہ صرف پڑھے لکھے نوجوان میں غم و غصہ کی لہر پیدا کی ہے بلکہ یہ لہر سونامی کی صورت بھی اختیار کر سکتی ہے۔ اس اقدام نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کی ہے اور انہیں میرٹ، قابلیت، اہلیت اور اپنی صلاحیتوں کے بجائے نوکرشاہی کی پیروی اور غلامانہ سیاسی دم کے ساتھ چمٹنے کا اشارہ دیا ہے۔ غریب لائق، قابل اور اہل نوجوان جس کے پاس نہ تو رشوت دینے کے لیے پیسے ہیں، نہ سفارش ہے، نہ سیاسی پس منظر ہے نہ سیاسی وابستگی راجہ جی آپ نے تو ان کو جیتے جی ہی مار دیا ہے۔یہ استحصالی سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے یہ عتیق کمیشن کے بعد راجہ کمیشن ہے۔

ایڈہاک ملازمین کو مستقل کرنا بنیادی طور پر ان ملازمین کی سیاسی قربانی ہے۔ سابقہ اور موجودہ حکومت ان ملازمین کو ووٹوں کے لیے مستقل کر رہی ہے۔ نہ صرف ووٹ بلکے آنے والے سالوں میں یہی لوگ حکومتی مشنری کے کرتے دھرتے ہوں گے اور سیاستدان ان پر نوکری کا احسان جتا کر انہیں اپنے سیاسی، انتقامی اور مذموم ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کر تے رہیں گے۔ انہی لوگوں کے زریعے فکشن آف گورنمنٹ کو کنٹرول کیا جائے گا اور بیوروکریسی کے زریعے کسی بھی حکومت یا ادارے کو بلیک میل کیا جائے گا۔ ایڈہاک کا مسلہ دراصل اتنا سادہ نہیں  ہے جتنا اسے عام آدمی سمجھتا ہے۔ یہ وہ کینسر ہے جو ہمارے ملک کے نظام، میرٹ، عوامی حقوق اور معاشرتی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دے گا۔ظلم کے اس نظام اور اقدام کے خلاف کھڑا ہونا جہاد ہے۔ ایک اور بات گوش گزار کرتا چلوں۔ تھپڑ مار کر ٹافی دینے والا حکومتی فارمولا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ ایک جانب میرٹ، تعلیم یافتہ نوجوانوں کے منہ پر ایڈہاک کا تھپڑ رسید کیا گیا اور ساتھ ہی گریڈ 7 سے اوپر ملازمتوں کو تھرڈ پارٹی کے زریعے کرنے کا لولی پاپ دے دیا گیا۔ ایس ٹی ایس اور پی ایس سی کی موجودگی میں تھرڈ پارٹی کا کیا مطلب ہے؟ کیا مستقبل میں حکومت این ٹی ایس اور پی ایس سی جیسے قومی اداروں کو بلڈوز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟

اگر ایسا نہیں ہے تو اس کا دوسر ا مطلب ان اداروں کی غیر فعالیت عیاں ہے۔حکومت اپنی مرضی اور اپنے کسی رشتہ دار کی کسی بھی فرم کو اپنی کمیشن کے لیے امتحانات کا ٹھیکہ دے گی اورمرضی تو پھر بھی حکومت کی ہی چلے گی۔ یہ ایک منزم ایڈہاکزم کو لاگو کرنے کی بھر پور تیاری کر رہے ہیں۔ کوئی بھی فرم حکومت کی منشاء کے خلاف کام نہیں کر سکتی جسے حکومت چاہیے گی وہ پاس جسے چاہیے گی وہ فیل ہو گا۔ حکومت یا تو ماں ہوتی ہے یا ہلاکو خاں ہوتی ہے۔ جب چاہیے شفقت کرے اور جب چاہیے گردن اڑا دے۔ حکومتی فیصلہ سرا سر بدنیتی پر مبنی ہے جسے ووٹ حاصل کرنے کے لے استعما ل کیا جا رہا ہے۔ایڈہاک پر لگے 95%افراد سیاسی، سفارشی اور راشی بنیادوں پرلگائے گے ہیں۔ ایسی لاٹ کو بغیر کسی سکروٹنی اور امتحان کے حکومتی مشنری کا حصہ بنانا دوسروں کے پاوں اپنے پاوں کے نیچے رکھ کر کلہاڑ ا چلانے کے مترادف ہے۔یہ میرٹ اور انصاف کا قتل ہے۔ اس وقت دنیا ہنر مندی، کاروبار اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشب کے زریعے بے روزگاری کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہماری حکومت اپنے سیاسی لوگوں کے ٹرک بھر کر سرکاری ملازمتوں میں لگا رہی ہے۔ہمارے نظام کو اس سفارشی، سیاسی، راشی بنیادوں پر بھرتی ہونے والوں نے مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ ساری زندگی اپنے آقا کی وفاداری میں گزارتے ہوئے عام عوام کی زندگیاں اجیرن بنادیتے ہیں۔

پٹواری، فارسٹ گارڈ، کلرک، چپڑاسی، پی اے، اسسٹنٹ وغیر ہ وہ مافیا ہیں جو ناک میں دم کر دیتے ہیں اور انہیں سیاسی پشت پناہی اور شیر باد حاصل ہوتی ہے۔ یہ رشوت دے کر آتے اور مرتے دم تک رشوت ان کی جان نہیں چھوڑتی۔ یہ سفارشی بنیادوں پر بھرتی ہوتے اور ساری زندگی سفارشیں ڈھونڈتے، لگواتے رہتے اور اپنے بعد اپنی اولاد کو ان آقاوں کی خدمت کے لیے پیش کر دیتے۔ سیاسی بوٹ صاف کرنے والے اپنے فریضے کو چھوڑکر سیاسی لوگوں کی دم کے ساتھ چپکے رہتے۔ اگر ہم نے اس کلچر کے خلاف مزاحمت نہ کی تو ہمارے ساتھ ماضی سے بھی بدترین ہونے والا ہے۔عارضی آسامیوں کو مشتہر نہ کرنا بھی پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی اور ظلم عظیم ہے۔ ایڈہاک مافیا کوئی معمولی مافیا نہیں ہے۔ یہ مافیا پوری منصوبہ بندی سے پی ایس سی کے امتحانات پر نہ صرف اثر انداز ہوتا ہے بلکہ ان امتحانات کے خلاف سٹے بھی کرواتا ہے تاکہ اعلی تعلیم یافتہ، لائق، قابل اور اہل نوجوانوں کا راستہ روک کر اپنے سیاسی پٹھو ایڈہاک کے بعد مستقل کروائے جائیں۔ تھوک کے حساب سے ایڈہاک ملازمین کی مستقلی آمدہ حکومت کے لیے شدید مشکلات کو باعث ہوگی ایک لحاظ سے آمدہ حکومت کو بننے سے پہلے ہی مفلوج کر دیا گیا ہے۔ حکومت اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے گروہوں اور مافیاز کو تقویت دے رہی ہے جو مستقبل میں اس کے گلے کی ہڈی بن جائیں گے۔

ہم نے مہاراجہ کے ظلم کے خلاف بغاوت کی اور انصاف کے لیے لڑے اور الگ ہوئے اب راجہ جی بھی اگر انصاف نہیں کریں گے تو پھر ہمارے لیے راجہ اور مہاراجہ دونوں میں کو ئی خاص فرق باقی نہیں بچتا۔ سوائے چند سیاستدانوں اور منی سیاسی پارٹیوں کے علاوہ سب بہتی گنگامیں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ 1992میں بھی پی ایس سی کے بغیر مختلف ادارہ جات میں جریدہ ملازمین کو مستقل کیا گیا تھا جنہیں بعد میں منسوخ کر دیا گیا۔ ایڈہاکزم کے زریعے غیر ریاستی افراد بھی بھرتی کیے گئے ہیں جس کا مطلب ہے آنے والے وقت میں ہمیں غیر مقامی تسلط کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ سیاسی پارٹیاں بالخصوص اپوزیشن کا یہ فرض ہے کہ وہ اس معاملے کو سیاسی اور قانونی سطح پر اٹھائیں۔ مگر سیاسی پارٹیاں شریک جرم ہیں۔ اب یہ پڑھے لکھے نوجوانوں، سول سوسائیٹی، مختلف فورمز، طلبہ تنظیموں اور دیگر سماجی طبقات کا فرض بنتا ہے کہ وہ بار کے ساتھ ملکر ایک جوائنٹ پٹیشن دائر کریں اور ظلم و ناانصافی کے اس سیلاب کو روکیں۔ اگر راجہ جی کی راج نیتی اور شاہ صاحب کی شہنشاہت کو گراں نہ گزرے تو حضور ایسا قانون لے آئیں جس کے زریعے صدر، وزیر اعظم، سپیکر اوراس کے علاوہ جس کو چاہیں مستقل کر دیں ہماری کیا جرت کہ ظل شیطانی کے ساتھ پنگا لیں۔ 


شیئر کریں: