Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کا ایک کالاش فنکار جس نے معذوری کو اپنی مغاش کی راہ میں حائل ہونے نہیں دیا

شیئر کریں:

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کا ایک کالاش فنکار جس نے معذوری اور بیماری کو اپنی معاش کی راہ میں حائل ہونے نہیں دیا.وہ ایک بہترین مجسمہ ساز ہیں۔ ان کے بنائے گئے مجسموں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ انسان کے ہاتھ سے نہیں بلکہ کسی کمپیوٹرائز ڈ مشین سے بنائی گئی ہو۔

kalash rahmat wali designed chitral4

رحمت ولی کا تعلق چترال کے خوبصورت گاؤں رومبور کالاش ویلی سے ہے۔ بچپن میں پولیو کا شکار ہونے کی وجہ سے ٹانگوں سے مغذور ہے مگر وہ اس مغذوری کو اپنی مغاش کی راہ میں حائل نہ ہونے دیا، آپ ایک بہتریں مجسمہ ساز ہیں، اس کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی بھی چیز کی تصویر دیکھنے کے بعد اسے لکڑی سے ترش کر بنا سکتا ہے۔ حکومتی سرپرستی مل جائے تو ایسے ہنر مند افراد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

kalash rahmat wali designed chitral3

رحمت ولی کا تعلق چترال کے خوبصورت وادی گاؤں رومبور کالاش ویلی سے ہے۔ بچپن میں پولیو کا شکار ہونے کی وجہ سے ٹانگوں سے مغذور ہے مگر وہ اس مغذوری کو اپنی مغاش کی راہ میں حائل نہ ہونے دیا، آپ ایک بہتریں مجسمہ ساز ہیں، اس کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی بھی چیز کی تصویر دیکھنے کے بعد اسے لکڑی سے ترش کر بنا سکتا ہے۔ حکومتی سرپرستی مل جائے تو ایسے ہنر مند افراد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

kalash rahmat wali designed chitral2

دیار کے سخت لکڑی سے تراشے ہوئے مجسمے کو ذرا ملاحضہ کیجیے ۔ایک ہاتھ سے یہ شاہکار بنانے والا معذور فنکار سب کی داد کا مستحق ہے

kalash rahmat wali designed chitral


داد کا مستحق اس لیے بھی ہے کہ ایک ہاتھ اور دونوں ٹانگوں سے معذور ہونے کے باوجود محنت کرکے کما رہا ہے کسی سے بھیک نہیں مانگ رہا اور نا معاشرہ میں بگاڑ کا باعث بن رہا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اسے ایسے ٹیلنٹ سے نواز ہے آپ حیران رہ جائیں گے یہ تمام شاہکار اس نے بغیر مشین کے ہاتھوں سے بنائی ہے

kalash rahmat wali designed chitral1

رحمت ولی کے فن کا خاصہ یہ ہے کہ یہ سب ان اپنی زہن کا احتراع ہے جس نے کسی کے ساتھ شاگردی اختیار کئے بغیر اور وادی سے باہر قدم رکھنے بغیر اس درجے کا کمال فن پیدا کر لیا ہے کہ ان کے تخلیقات کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مجسمہ سازی کالاش مذہب کا حصہ ہے جس میں لکڑی سے دیوتاؤں کے مجسمے تراش کر تیار کئے جاتے ہیں لیکن رحمت ولی کا اپنا انداز ہے۔وہ دیوتاؤں کے مجسموں سے آگے بڑھ کر جنگلی حیات اور خصوصاً برفانی چیتے کو اس طرح تراشتے ہیں کہ اصل کا گماں ہونے لگتا ہے۔

kalash rahmat wali designed chitral5

اگرحکومت، متعلقہ محکمے اور غیر سرکاری ادارے اسطرح کے فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کریں گےتو ان کےکام میں مذید نکھار پیدا کرنے کے ساتھ بہت سے بے روزگارنوجوانوں کو بھی اس کام سے منسلک کیا جاسکتا ہے ۔

تصاویربشکریہ ایف بی ایف فرینڈ


شیئر کریں: