Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کوشٹ آر سی سی پل کی تعمیر کا باقی مندہ کام ہنگامی بنیادوں پرکروایاجائے۔ ۔۔عوام موڑکہو

شیئر کریں:

2015 کی تباہ کن سیلاب کیوجہ سے کوشٹ کا پل دریاہ برد ہوگیا تھا۔حکومت نے عارضی طور پر امداوفت کوبحال رکھنے کیلئے ایک ناقص پل out datedاسٹیل کے ٹکڑون کو جوڑ کر بنائی تھی۔جوشروغ سے ہی Defectiveتھا اس کی شکایت اہل علاقہ نے متعدد بار ڈپٹی کشمنر چترال، بونی بیسڈ ایڈ منسٹر یشن اور محکمہ C&W سے با لمشافہ کر چکے تھے۔مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور با لا آخر یہ ناقص بل منہدم ہوگیا۔یہ کسی بھی افات سماوی یعنی سیلاب اور زلزلے کی وجہ سے دن کے ڈیڑھ بجے منہدم نہیں ہوا بلکہ صرف اور صرف غیرمعیاری تعمیر کی وجہ سے پل دھڑم گر گیا۔ جس کے نتیجے میں تین قیمتی جانون کا ضائع ہوا۔بنا پر آن اپر چترال کے لوگون کی طرف سے سخت احتجاج کیاگیا۔اس ریکارڈ احتجاج کیوجہ سے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر جناب اسامہ وڑائچ (مرحوم) نے 07افراد کو 3MPOکے تحت ایک مہنے کی سزا سنا کر چترال اور بنو ں کی جیلون میں بھیجدیا ان نڈر، بہادر اور علاقے کی فلاح و بہبود کیلئے قربانی دینے والوں کے اسما گرامی (۱)مختار احمد بونی (۲) پرویز لال بونی (۳) رحمت سلام بونی (۴)حمید جلال وریجون (۵) عبداللہ جان ممباغ کوشٹ (۶) محمد نادر کوشٹ (۷)میر ایوب موردیر
اس سخت احتجاج کیوجہ سے حکومت نے Disaster Managementکی مد میں کوشٹ میں کنکریٹ کا پختہ پل تعمیر کر نے کی منظوری دیکر اسی پر کام کی شروغات بھی کروا دی۔مگر بد مسمتی سے کام کی رفتار انتہائی سست رہی اور متعدد Intervals کے ساتھ جاری رہی اس کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے، کہ پل پر کام کی شروغات تقریبا ساڑھے چار سال کا عرصہ گز نے کے باوجود پل کی تعمیر مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔پل کی تعمیر کی تقریبا 80فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور پچھلے دو مہنے سے کام بند پڑا ہے۔بحولہ محکمہ C&Wبونی اپر چترال متعلقہ ٹھکیدار کو اس کے کام کی پیشرفت کی بنیاد پر ادائیگی الریڈی ہو چکی ہے اور بامیمندہ کام کی پیشرفت اور تکمیل کے بعد ادائیگی ہوگی۔


مذکورہ حالات و وقعات کی روشنی میں اپر چترال کے عوام کی طرف سے صوبائی حکومت محکمہ Disaster Managementوفاقی اور صوبائی نمائیدون متعلقہ محکمے اور اپر چترال کے ضلعی ایڈمنسٹر یشن سے پرزوراپیل اور مطالبہ ہے کہ کوشٹ پل پر کام کی دوبارہ شروغات ہنگامی بنیادوں پرکروایا جائے اور اس کی تعمیر کو جلد از جلد مکمل کروا کر امدورفت کیلئے کھولا جائے۔یہ لوگون کا بنیادی حق ہے،متعلقہ محکمے اور ضلعی ایڈمنسٹریشن لا پرواہ ٹھکیدار کو Boundکر ے کہ وہ باقی مندہ تعمیر کا کام بعیر Intervalکے جلد از جلد مکمل کرئے۔بصورت دیگر اپر چترال کے عوام کی طرف سے مذکورہ بالا احتجاج کی طرز پر سخت احتجاج متوقع ہے۔

میر ایوب موردیر
عوام اپر چترال۔


شیئر کریں: