Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کا اجلاس۔۔۔۔نثار احمد

شیئر کریں:

چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ وہاٹس ایپ گروپ کے چترال میں موجود ممبران کی ایک اہم بیٹھک محترم سردار ایوب صاحب کی رہائش گاہ (بلچ چترال) میں لگی۔ ممبران گھنٹوں تک سر جوڑے اس ایک نکاتی ایجنڈے پر غور و خوض اور تبادلہ خیال فرماتے رہے کہ کس طرح اور کن خطوط میں چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کو مزید فعال و منظم کیا جا سکتا ہے۔ اس بابت معزز و مکرم شرکاء مجلس کی جانب سے انتہائی وقیع اور اہم تجاویز سامنے آئیں۔


ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان اور وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی وزیر زادہ نے چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کی طرف سے انجام پذیر بہترین سرگرمیوں کا اعتراف کرتے ہوئے نہ صرف اِسے چترال کی ضرورت قرار دیا بلکہ اپنی طرف سے ہر ممکن علوی کا یقین بھی دلایا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لوئر چترال حیات شاہ ، ڈی ایم او منہاس الدین، کسٹم آفیسر تنویر احمد اور ایس پی محمد خالد نے گروپ کے دائرہ ء اثر و عمل کو بڑھانے کے لیے نہایت وقیع تجاویز کی فراہمی کے ساتھ ساتھ گروپ کو درپیش داخلی انتظامی مسائل پر سیر حاصل گفتگو بھی فرمائی اور اپنے حصے کی زمہ داری بحسن وخوبی نبھانے کا عزم بھی کیا۔
شاہی خطیب مولانا خلیق الزمان صاحب نے اپنے جذبات کو خوبصورت الفاظ کی زبان عطا کرتے ہوئے فلاحی کاموں میں جُڑنا گروپ ممبران کے لیے فوز و فلاح اور سعادت مندی کی علامت قرار دیا۔سینئر ایڈمنز فضل الرحمن شاہد اور محمد علی مجاہد نے انسانیت کی خدمت کو بہترین عبادت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ

“تئیس مارچ دو ہزار انیس کو “خدمتِ انسانیت” کی بنیاد پر اسلام آباد میں گروپ کی عمارت اُس وقت اٹھائی گئی تھی جب کورونا دھیرے دھیرے پاکستان کے ہر باسی کو کسی نہ کسی طرح متاثر کر رہا تھا۔ ابتدائی طور پر گروپ کی تشکیل کا محرّک یہی ایک نیک جذبہ تھا کہ کورونا کی وجہ سے چترال سے باہر پھسے چترالیوں کو ریلیف دینے کی کوئی صورت نکالی جائے بالخصوص مزدوری سے محروم اپنے گھروں سے دور غریب الدیار چترالیوں کو راشن وغیرہ مہیا کرنے کی کوشش کی کوئی سبیل نکالی جائے۔ اسی طرح جو چترالی اپنے گھروں کو لوٹنا چاہتے ہیں انہیں بآسانی گھروں تک رسائی میں مدد فراہم کی جائے۔ بعد ازاں لوگ آتے گئے کارواں بنتا گیا کے مصداق گروپ کا دائرہ ہی نہیں، دائرہء کار بھی بڑھ گیا”

آغا خان ایمرجنسی فار ہیبیٹیٹ کے منیجر محمد ولی یفتالی نے کسی بھی ایمرجنسی حالات میں میں اپنی طرف سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
اسی طرح اے کے آر ایس پی کے سابق ار پی ایم محترم سردار ایوب، بی او کے ریجنل منیجر ارشاد یفتالی، چترال ٹائمز کے سیف الرحمن عزیز، محترم رحمت حبیب، ریڈیو پاکستان چترال کے پروڈیوسر جاوید اقبال جاوید، اے کے ایچ ایس ایس کے عطا حسین اطہر اور فخر اعظم نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔


ایک قابلِ غور نکتہ گروپ کو رجسٹریشن کے مراحل سے گزار کر اس کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنے کا جائزہ تھا۔ مجلس میں موجودگروپ کے زیادہ ترممبران نے گروپ کو رجسٹرڈ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے لیے مستقل اکاؤنٹ بنانے پر بھی زور دیا تاہم چند زیرک شرکاء مجلس کی رائے اس کے برعکس رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرڈ کر کے اکاؤنٹ کھولنے کی صورت میں رواں ترتیب کے ساتھ کام نہیں ہو سکے گا۔ بہرحال اس پر حتمی فیصلہ پشاور، کراچی اور دیگر شہروں میں موجود ممبران کی وقیع آرا آنے تک مؤخر رکھا گیا۔

جیسا کہ پہلے بھی میں نے لکھا تھا کہ کہنے کو تو چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ ایک وہاٹس ایپ گروپ ہے لیکن دائرہ ء اثر اور افادیت کے لحاظ سے کسی بھی منظّم جماعت سے کم نہیں۔یہ اتنا بہترین اور بے نظیر پلیٹ فارم ہے کہ چترال کی تاریخ میں اس کی نظیر و مثیل نہیں ملتی۔ اہلِ چترال کے گوں نا گوں مسائل سے نمٹنے کے لیے تراشے گئے اس شاہکار پر جتنی ستائشی خامہ فرسائی کی جائے، میرے خیال میں کم ہی ہے۔


ماشاءاللہ “سی آئی اے ایچ” کا ہر فرد پورے اخلاص کے ساتھ گروپ کے ساتھ منسلک ہی نہیں ، اپنے دائرہء اختیار و عمل میں کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ بالخصوص مختلف محکموں میں تعینات چترال کے قابلِ فخر بیوروکریٹس کی تگ و دو کے بطن سے چترال کے لیے بہتری اور بھلائی ہی تولد پا رہی ہے۔ اللہم زد فزد۔


حقیقت یہ ہے کہ چترال کی ترقی اور چترالیوں کی بہتری ایک ایسے پلیٹ فارم سے ہی وابستہ ہے جو جماعتی تفریق اور فرقہ ورانہ خلیج سے بھی پاک ہو اور معاشرے کے تمام بااثر فریقوں پر بھی مشتمل بھی ہو۔ چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ کی صورت میں ایسا پلیٹ فارم اب کونپلیں نکال چکا ہے بس اسے برگ و بار لانے اور تناور درخت بننے کی دیر ہے۔ اس کے بعد ان شاءاللہ مثبت تبدیلی خود کو منواتی سبھی کو نظر آئے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی گھنی چھاؤں سے مستفید ہونے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔


شیئر کریں: