Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت بلتستان کے مذہبی اور سماجی مشترکات …..خاطرات: امیرجان حقانی

شیئر کریں:

میں نے اپنے قارئین سے وعدہ کیا تھا کہ گلگت بلتستان  میں قیام امن ،سماجی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے متعلق اپنے تحقیقی پروجیکٹ کے مختلف حصے شیئر کرتا رہا ہونگا۔آج کی محفل میں مختصرا  گلگت بلتستان کے تمام مسالک و اضلاع اور عوام کے درمیان پائے جانے والے مشترکات پر بات ہوگی۔


مشترکات کا مفہوم
مشترکات دینی بھی ہیں اور سماجی بھی۔ اہل سنت والجماعت اور دیگر مکاتب فکر میں کئی مذہبی مشترکات ہیں اسی طرح صدیوں سے ایک علاقے میں رہتے ہیں تو سماجی اعتبار سے مشترکات کی بہتات ہے۔ ان مشترکات کو مدنظر رکھ کر علاقے میں قیام امن سے رہا جاسکتا ہے۔ہر مکتب فکر کے لیے ان مذہبی و سماجی امور میں دوسروں کا بھرپور خیال رکھیں جو سب میں مشترک ہیں تو بڑی حد تک امن اور بین المسالک ہم آہنگی ممکن ہوسکتی ہے۔


مشترکات کی مشروعیت
بین المذاہب والمسالک مشترکات کی مشروعیت ثابت ہے۔اللہ کا ارشاد ہے:قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شیئا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْن  (ال عمران/64)” آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالٰی کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں  نہ اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں  پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں۔”


گلگت بلتستان کے مسالک کے مشترکات 
گلگت بلتستان کے مذہبی ،سماجی اور عصرحاضر کے مشترکات یہ ہیں۔


1: مذہبی مشترکات
گلگت بلتستان میں چار فرقوں کے لوگ موجود ہیں۔ان میں بہت ساری مذہبی مشترکات ہیں،ان تمام مشترکات میں توضیحی اعتبار سے کچھ اختلافات بھی ہیں۔بعض اصولی مسائل میں اختلاف کے ساتھ فروعی مسائل میں بھی اختلافات کافی ہیں، لیکن ہمارے پیش نظر مشترکات ہیں۔ان تمام مشترکات کا  بالاستیعاب ذکر کے  بجائے چند اہم مشترکات کا ذکر کیا جائے گا۔


1۔تصور خدا (توحید الہی)
خدا کا تصور دنیا کے تمام مذاہب میں ہے۔ یہودیت اور عیسائیت میں بھی خدا کا تصور ہے اسلام میں بھی اللہ کا تصور ہے۔   اللہ خالق و مالک ہے۔ اللہ اکیلا ہے۔ ابراہیمی ادیان میں خدا کا تصور، اس کے قادر مطلق ہونے اور اس کی توحید پر اتفاق ہے۔قرآن کریم بھی اس کا مدعی اور مبین ہے۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ (ال عمران/ 64)”آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالٰی کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں۔”یہی تصور گلگت بلتستان کے  تمام مسالک و مذاہب میں بھی پایا جاتا ہے۔اس میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ۔ یہ مذاہب اور مسالک کا ایک خاص مذہبی مشترکہ وصف ہے۔تمام کا یہی ماننا ہے کہ خدا خالق حقیقی ہے۔اکیلا ہے۔احد ہے۔مختارکل ہے۔اور اسی خدا نے انسان کو فاعل مختار بنایا ہے۔اور تمام تر تخلیقات اسی کے گرد گھومتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور اللہ کی ربوبیت، الوہیت ، خالقیت،مالکیت غرض تمام توحیدات پر سب کا اتفاق ہے۔اس کے ساتھ کوئی شریک و سہیم نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کسی کی عبادت کی جاسکتی ہے۔


2۔عقیدہ نبوت
انبیاء علہیم السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں۔ ان پر ایمان لانا جملہ مذاہب و مسالک کی تعلیمات کے مطابق ان پر لازم ہے۔ اسی طرح محمد ﷺ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔آپ ﷺ کی ختم نبوت پر بھی تمام مکاتب فکر کو کوئی اشکال نہیں۔ انبیاء پر ایمان اور ختم نبوت پر ایمان کی بحث مسالک کے تعارف میں ہوچکی ہے۔آپ ﷺ کی ختم نبوت پر تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور مذہبی زعماء نے مل کر تحریک چلائی ہے۔یہ بھی ایک مشترکہ مذہبی وصف ہے۔ محمد ﷺ کا نام ہی ایسا بابرکت نام ہے جس پر پوری دنیا کے مسلمان اور تمام مکاتب فکر کے پیرو کار ایک نکتہ پر جمع  ہوتے ہیں۔ کسی قسم کا اختلاف نہیں ہوتا۔


3: اہل بیت عظام
اہل بیت عظام کی عظمت پر سب متفق ہیں۔ کسی بھی مکتب فکر کو ان پر اعتراض نہیں۔ اہل سنت اہل بیت کو عظیم درجہ دیتے ہیں۔ آپ ﷺ کے گھر والوں کی اور ال عیال کی توہین و تضحیک کرکے کوئی مسلمان بھی نہیں  رہ سکتا۔ یہ بھی مشترکات میں سے ایک اہم وصف ہے۔


4: اسلام بطور آفاقی دین
اس بات کا کسی میں اختلاف ہے ہی نہیں کہ اسلام آفاقی دین ہے۔اسلام کی بنیادی تعلیمات آفاقی ہیں۔اسلام نہ کسی زمانے کے ساتھ خاص ہے  نہ کسی علاقے کے ساتھ، اسلامی تعلیمات زمان و مکان کے قیود سے آزاد ہیں۔ پوری انسانیت کے لیے ہیں۔اسلام دین فطرت ہے۔ اسلام کا کوئی حکم فطرت الہی کے خلاف نہیں۔عقل کے خلاف نہیں۔ عام فہم کے خلاف نہیں۔اسلام کے متعلق یہ تصور سب میں عام ہے کہ وہ رائے کی آزادی کا قائل ہے۔اور دین میں جبر و ظلم کی اجازت نہیں دیتا۔”لا اکراہ فی الدین” اسلام کا واضح بیانیہ ہے۔غرض اسلام کی آفاقیت ، حقانیت اور سچا مذہب ہونے پر کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں۔ جملہ مکاتب فکر کے لوگ اس حقیقت سے آشنا ہیں۔یہ بھی ایک مشترک رائے اور بیانیہ ہے۔اہل سنت والجماعت اور اہل تشیع کے مابین بہت سارے دینی امور میں اتحاد و اشتراک ہیں۔ دونوں ان امور پر یقین رکھتے ہیں ۔اصول وفروع میں  متفق علیہ مسائل پربحث کافی مفصل ہے۔اختلافی مسائل کی بھی بہتات ہے تاہم مشترکہ اعتقادات اور عبادات کی وجہ سے معاشرے میں قیام امن ممکن بنایا جاسکتا ہے۔محمد آصف محسنی نے 42 مشترک مسائل و اعتقادات ذکر کیے ہیں۔(تفصیل کے لیے،محسنی، محمد آصف، اتحاد امت، مترجم، سید عباس موسوی (مولانا)، البلاغ المبین اسلامی و تحقیقاتی ادارہ اسلام آباد،مئی 2006، ص/34 تا 38 میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے)


2:  عصر حاضر کے مشترکات
1۔ مغربی استعمار کے خلاف مشترک سوچ و فکر
استعماری قوتوں کے خلاف سب متحد ہیں۔ اقوام متحدہ  سے سب کو شکایت ہے اور لیگ آف نیشنز سے سب کو شکایت تھی۔ معیشت اور میڈیا یہودیوں کے نرغے میں ہے۔عالم اسلام کے جملہ مسلمانوں کی استعمار کے متعلق ایک رائے ہے۔ کوئی اختلاف نہیں کرتا۔اس وقت عالم اسلامی اپنی استقلال اور عزت اور علمی وقار کے لیے کمربست ہونا چاہتا ہے لیکن استعماری اور استیصالی قوتیں ایسا نہیں ہونے دیتی۔اور ان کے اندر رخنہ ڈالتی ہے۔ یہی رائے عالم اسلام کے بڑے دانشوروں کی ہے۔یہی سوچ گلگت بلتستان میں بھی پائی جاتی ہے۔یہ بھی ایک مشترک سوچ ہے۔اس سوچ کو بھی پذیرائی مل سکتی ہے اگر واضح خطوط متعین کرکے کام کیا جائے۔


2۔ سی پیک کی وجہ سے چینی ثقافت کا نفوذ
چائنہ پاکستان اکنامکس کوریڈر کا گیٹ وے گلگت بلتستان ہے۔ گلگت بلتستان کے باشعور افراد اس خدشے کا اظہار کرچکے ہیں کہ سی پیک کی وجہ سے گلگت بلتستان کی ثقافت اور تہذیب و تمدن ختم ہوجائے گا۔چینی صرف اکنامکس پلان لے کر نہیں آرہا ہے بلکہ ایک ثقافتی یلغار ہوگی جس کا مقابلہ بہر صورت انسانی سے کرنا ممکن نہیں۔ یہ ایک مشترک سوچ ہےجو گلگت بلتستان کے تمام مکاتب فکرکے اہل علم اور سنجیدہ حضرات میں پائی جاتی ہے۔سی پیک کے ثقافتی اور تہذیبی اثرات سے اپنی دین اور علاقائی ثقافت کو بچانے کے لیے ایک مشترکہ وژن قائم کیا جاسکتاہے۔ان سے ملے جلے عصر حاضر کے بہت سارے مسائل ہیں جن میں یکجہتی پائی جاتی ہے۔ جن پر سب پریشان ہیں اور فکر و مشاہدہ سے بھی گزررہے ہیں۔


3: سماجی ومعاشرتی مشترکات
1۔ قیام امن سب کی ضرورت
قیام امن سب کی ضرورت ہے۔ امن کے قیام سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔ گلگت بلتستان میں ہر ایک امن کا داعی ہے۔ مجالس و مساجد اور اجتماعات میں امن کی بات کی جاتی ہے۔ جتنے بھی امن معاہدے ہوئے ہیں ان سب کی بنیاد بھی قیام امن ہی ہے۔اللہ کا ارشاد:وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ (البقرہ :205)”جب وہ لوٹ کر جاتا ہے تو زمین پر فساد پھیلانے کی اور کھیتی اور نسل کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اللہ تعالٰی فساد کو ناپسند کرتا ہے”۔گلگت بلتستان میں جتنے بھی امن معاہدات ہوئےہیں ان کی جھلک معاہدات نبوی میں نظر آتی ہے، ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے لکھا ہے:”ہجرت سے قبل یثرب (مدینہ) میں اوس و خزرج کے دو دشمن قبیلوں کے علاوہ یہود کے مختلف قبائل اور دیگرمشرکین آباد تھے گویا مدینہ مختلف عقائد، قبائل اور نسلوں کی آماج گاہ تھا۔ ہجرت کے بعدآپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اوراس اتحاد واتفاق کو قائم رکھنے کیلئے دنیا کا پہلا تحریری دستور وجود میں آیا۔ جس پر تمام باشندگانِ مدینہ کا اتفاق ہوا اور اس کی رو سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کی پہلی اسلامی ریاست کا سربراہ تسلیم کیاگیا۔ یوں مدینہ میں ایک مختلف الخیال عناصر پر مشتمل ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس میں میثاقِ مدینہ کی وجہ سے یہود، انصار، مہاجرین اور دوسرے قبائل ایک تنظیمی اتحاد میں شامل ہوگئے۔ اور سب ایک دوسرے کے وجود کا اعتراف کرنے لگے۔”( ڈاکٹر محمد حمید اللہ: عہد نبوی میں نظام حکمرانی،اردو اکیڈمی کراچی ۱۹۷۸/، ص ۷۵)


2۔فرقہ واریت کا خاتمہ
فرقہ واریت ایک وباء ہے۔ اس کے خاتمہ پر بھی گلگت بلتستان کے تمام لوگ یکسو ہیں۔ عوام کے ساتھ انتظامیہ بھی فرقہ واریت کا خاتمہ چاہتی  ہیں۔ فرقہ ورایت کے خاتمہ کے لیے ملک بھر کی طرح گلگت بلتستان میں بھی کام ہوا ہے۔ جرگے اور امن معاہدے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بھی فرقہ پرستی سے ممانعت فرمائی ہے۔ (ال عمران/130)


3۔حسن سلوک کی خواہش
حسن سلوک اور شائستگی سے کون منکر ہوسکتا ہے۔ہر ایک کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ حسن سلوک اور احترام و اکرام کا معاملہ کیا جائے۔حسن اخلاق کے بارے کس کو اختلاف ہوسکتاہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ حسن اخلاق کے سب سے بڑے داعی اور عامل تھے: “آپ ﷺ نے مسلمانوں کی خاطر ایک یہودی زید بن سعنہ سے قرضہ لیا۔وقت سے قبل وہ یہودی آپ ﷺ کے پاس آیا اور گستاخانہ انداز میں پیش آیا۔حضرت رضی اللہ عنہ سے برداشت نہ ہوسکاتو اس کی گردان اڑانے کی اجازت چاہی۔مگر پیارے حبیب ﷺ نے فرمایا:” اے عمر !  تمہیں چاہئے کہ مجھے حسن ادائیگی کی تلقین کرتے اوراسے حسن طلب کی۔” آپ ﷺ نے شائستگی کیسا تھ اس کا قرض بھی واپس کردیا اور حسن سلوک کا مظاہر فرماتے ہوئے بیس صاع کھجوریں دینے کا حکم بھی دے دیا۔اس حسن سلوک سے متاثر ہوکر وہ یہودی مسلمان ہوا۔”( الصالحی،محمدیوسف: سبل الہدیٰ والرشاد، طبع قاہرہ ۱۹۷۲/، ج:۷، ص/ ۳۲)


4۔بے حیائی اور فاحشی کا خاتمہ
کلچر اور ثقافت کے نام پر جب بھی بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دینے کی بات جاتی ہے یا ایسے امور سرزد ہوتے ہیں تو تمام مکاتب فکر کے لوگ یکسوئی کیساتھ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔اس میں بھی کسی کو اختلاف نہیں۔بے حیائی ، منکرات، اور تجاوزات کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ (۔النحل/90)”اور اللہ تعالٰی بے حیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے”۔بے حیائی اور شیطان کی پیروی سے اللہ نے صاف ممانعت فرمائی ہے۔ (النور/21)کلچر کے نام پر جب یہ فحاشی اور بے حیائی کا ارتکاب کیا جاتا ہے تو سب مشترکہ طور پر اس کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔ ایسی اقدار سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔


5۔مقدسات کا احترام
ہر مذہب اور مکتب فکر کو اپنے مقدسات کا احترام ہے۔مگر اس احترام کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا۔ مقدسات کی توہین کی جاتی ہے۔ بہت سارے ایسے واقعات تھانوں میں رجسٹرڈ ہوئے جن میں صحابہ کرام کی توہین کی گئی۔پھر ان توہین کرنے والوں کی پشت پناہی بھی کی جاتی ہے۔اس توہین آمیز رویے کے بعد مخالف مکاتب فکر کا مشتعل ہونا فطری ہے۔ مقدسات کا احترام بہت ضروری ہے۔یہ بھی ایک مشترکہ مسئلہ ہے۔ ہر ایک کے مشترکات ہیں۔ آئمہ ہیں، دینی اشخاص ہیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین ہیں۔ ان سب کا احترام ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ( الانعام/ 108)”اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ پھر وہ جاہلانہ ضد سے گزر کر اللہ تعالٰی کی شان میں گستاخی کریں گے  ۔”بدامنی اور سماجی ڈھانچے کو برباد کرنے کے لیے بھی مقدسات کی توہین کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ کی ذات بابرکت اسوہ حسنہ ہے۔ علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں:”سب سے بڑھ کر طیش اور غضب کا موقع افک کا واقعہ تھا جبکہ منافقین نے حضرت عائشہ صدیقہ رض پر نعوذ باللہ تہمت لگائی تھی۔ حضرت عائشہ رضہ اللہ عنہا  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ  جیسے یارِ غار اور افضل ترین صحابی کی صاحبزادی تھیں۔ شہر منافقوں سے بھرا پڑا تھا۔ جنھوں نے دم بھر میں اس خبر کو اس طرح پھیلایا کہ سارا مدینہ گونج اٹھا۔ دشمنوں سے شماتت، ناموس کی بدنامی، محبوب کی بے عزتی، یہ باتیں انسان کے صبر و تحمل کے پیمانہ میں نہیں سماسکتیں، تاہم رحمت عالم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام کے ساتھ کیا کیا؟ واقعہ کی تکذیب خود خدانے قرآن پاک میں کردی اوراس سے قبل آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی طرح کوئی انتقام نہیں لیا۔” (شبلی نعمانی: سیرت النبی،ج:۲، ص: ۲۱۱)


سید علی خامنہ ای نے  عالم اسلام کے اتحاد اور امن آشتی کے لیے فتویٰ صادر کیا کہ  فروعی مسائل سے بچا جائے اور استعمار کے خلاف متفق و متحد ہوکر کام کیا جائے۔اہل سنت کے مقدسات کے متعلق  بھی فتویٰ صادر کیا:”برادران اہل سنت کی مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے چہ جائیکہ بالخصوص زوجہ رسول پر تہمت لگائی جائے جس سے ان کے شرف وعزت پر حرف آتا ہو بلکہ تمام انبیاءکی اورخصوصاً سید الانبیاء کی ازواج کی توہین  ممنوع ہے۔”(ملاحظہ کریں، اسلام


6۔غلو اور تنقیص وتکفیر سے نفرت
ہر مکتب فکر کے باشعور طبقے کی یہ خواہش ہے کہ ان کی تکفیر و تنقیص اور تضحیک نہ کی جائے۔ اس سے سب نفرت کرتے ہیں۔ مذہبی علماء بھی تضحیک و تکفیر کا رونا روتے ہیں لیکن ان عوامل و اسباب سے بچنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا جن کی وجہ سے ایک دوسروں کی تکفیر اور تضحیک کی جاتی ہے۔ اس مشترک خواہش کا بھی احترام کیا جاجائے تاکہ سب کی خواہشات کی تکمیل ہو اور دینی جذبات مجروح نہ ہو۔


7۔اشتعال انگیزی اورتعصب سے بیزاری
ہر باشعور انسان اشتعال انگیزی اور تعصب سے نفرت کرتاہے اور اس کی کھل مذمت بھی کرتا اور بیزاری کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ بھی ایک مشترکہ سماجی وصف ہے۔


8۔ تجارتی  امور میں اشتراک
کاروبارِ زندگی چلانے کا سب سے مستند اور اہم پیشہ تجارت ہے۔ وہی قومیں، ملک اور ریاست کامیاب ہیں جن کے معاشی و اقتصادی حالات اچھے ہوں۔ معیشت و اقتصاد اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتی جب تک بہترین تجارتی نظم نہ ہو۔عالمی سطح پر ہوں یا ملکی اور علاقائی سطح پر، معیشت اور اقتصاد کی بہتری کے لیے اچھے کاروباری منصوبے اور شاندار تجارتی پالیساں اپنانی پڑتی ہیں۔اور کامیاب معاشرتی ڈھانچہ کھڑا کرنا ہوتا ہے، بصورت دیگر نظام معاشرت بیٹھ جاتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى (صحیح بخاری، کتاب البیوع،باب السہولۃ والسماحۃ فی الشراء والبیع، ج/3،ص/57، ح/2076)”خدا اس شخص پر رحم فرمائے جو خرید و فروخت اور تقاضا کرنے میں نرمی اور خوش اخلاقی سے کام لیتا ہے ۔”


گلگت بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں تجارتی امور کا ابھی ابھی باقاعدہ آغاز ہوا ہے۔ اور صورت حال یہ ہے کہ اگر خرابیِ حالات کی وجہ سے نظم زندگی معطل ہوجائے تو کاروباراور تجارت تو بند ہی ہونگے اشیائے خورونوش کی بھی ہفتوں میں شدید قلت پیدا ہوجائے گی۔سرکاری وسائل بہت کم ہیں۔ علاقائی صنعت و حرفت کے علاوہ پاکستان اور چین سے تجارتی روابط ہیں۔ اور پوری معیشت کا انحصار انہیں چھوٹے چھوٹے تجارتی کاموں میں منحصر ہے۔ یہ سب کی مشترک ضرورت ہے۔ تجارت کے باب میں انتہائی سنجیدگی، بردباری اور صبرو تحمل کے مظاہرے کی ضرورت ہے۔


9۔آئینی حیثیت کا تعین
گلگت بلتستان کی آئینی پوزیشن قیام پاکستان سے اب تک متعین نہیں ہوسکی۔ اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ ہر فرقہ اور ہر انسان کی خواہش اور کوشش ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی پوزیشن واضح کی جائے۔ تمام گلگت بلتستانیوں کی مشترکہ خواہش ہے کہ اس پوزیشن کا تعین وفاقی حکومت کی طرف سے کردی جائے۔اس مشترکہ خواہش کی تکمیل بھی قیام امن اور یکجہتی کے سوا ممکن نہیں۔


10۔علاقائی حدود کا واضح تعین
گلگت بلتستان کے علاقائی حدود کا معاملہ بہت پرانا ہے۔ شندور میں چترال کیساتھ ، کھنبری میں کوہستان کے ساتھ اور استور کے بعض علاقوں میں کشمیر کے ساتھ علاقائی حدود میں تنازعات ہیں۔ وفاقی سطح پر کمیشن بھی بٹھائے گئے لیکن کوئی حل نہ نکل سکا۔ اس بات پر بھی تمام لوگ متفق ہیں۔ اور مشترکہ آواز بلند کرتے ہیں۔


11۔مشترکہ زبانیں
گلگت بلتستان میں پندرہ کے قریب بولیاں ہیں۔ شینا، کھوار بلتی، وخی اور بروشکی علاقے کی معروف زبانیں ہیں۔ ہر مسلک کے لوگ یہ زبانیں بولتے ہیں۔ اس کا ذکر بھی ماقبل میں گزر چکا ہے۔


12۔مشترکہ ثقافت
گلگت بلتستان کے تمام علاقوں اور مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ثقافت میں بہت ساری مشترکات ہیں۔ نسالو ایک ثقافتی تہوار ہے۔مہمان نوازی ایک خصوصی قدر ہے۔ ثقافتی ناچ اور کھلیں بھی ایک جیسی ہیں۔ جن کا ذکر پہلے باب میں مفصل ہوچکا ہے۔


12۔ٹیکس معافی، ایک مشترک مسئلہ
گلگت بلتستان کو آئینی حقوق حاصل نہیں اس لیے یہاں ٹیکس لاگو نہیں کی جاسکتی۔ ایک دو دفعہ ٹیکس لگانے کی کوشش کی گئی تو تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جس کی وجہ سے وفاقی حکومت کو فیصلہ واپس لینا پڑا۔یہ بھی ایک مشترک ضرورت ہے۔


13۔گندم سبسڈی
گلگت بلتستان کو گندم سبسڈی مل رہی ہے۔ جب بھی حکومت گندم سبسڈی ختم کرنے کا کوئی اقدام کرتی ہے تو گلگت بلتستان کے تمام مذاہب اور سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے لوگ ایک پلیٹ فارم میں جمع ہوجاتے ہیں اور پورا نظام زندگی معطل کرکے رکھ دیتے ہیں۔سبسڈی اور ٹیکس چونکہ مالی مفادات ہیں  اس لیے ہر ایک ان کے حصول کے لیے یک جان دو قالب ہوتے ہیں۔ اگر یہی روش اللہ کی دین اور اپنے اپنے مذہبی تعلیمات کے ساتھ اختیار کریں تو گلگت بلتستان میں امن کا انقلاب آسکتا ہے۔سبسڈی اور ٹیکس کے خلاف گلگت بلتستان والوں کا اتحاد قابل قدر تھا۔ انہیں دو چیزوں کی وجہ سے ایکشن کمیٹی وجود میں آئی جس میں تمام مکاتب فکر اور علاقوں کے لوگ شامل ہیں۔ گندم کا حضرت آدم اور حوا علیہما السلام کو جنت سے نکلوانے کا سبب بننا لیکن یہی گندم نے کئی سالوں سے پوری قوم کو جوڑا ہوا ہے۔


14۔کرپشن سے پاک نظام حکومت
کرپشن سے پاک نظام کا ہر ایک داعی ہے۔ عوامی سطح سے لے کر اعلی دینی اور سیاسی قیادت تک، سب یہی رونا روتےہیں کہ کرپشن زدہ نظام کو پاک کیا جائے۔ یہی بھی ہمیشہ ایک مشترک آواز رہی ہے۔


15۔میرٹ کی پاسداری
میرٹ کی پاسداری اجتماعی نظم کے  لیے بہت اہم ہے۔ ہر فرقہ کے لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ ان کے ساتھ میرٹ کے بجائے امتیازی سلوک کیاجاتاہے۔ یہ شکایت جماعت خانوں میں بھی سنائی دیتی، امام بارگاہوں سے بھی اس کی بازگشت ہوتی اور مساجد کے منبروں سے بھی میرٹ کی پامالی کا رونا رویا جارہا ہے۔سرکاری نوکریاں ہوں یا وزارتیں اور مشیریاں، عوام ٹھیکے ہوں یا بھاری بھرکم تعلیمی، تعمیراتی اور طبی پروجیکٹ، غرض ان سب چیزوں میں میرٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ سیاسی حکومت اور انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے۔یہ بھی ایک مشترک سماجی وصف ہے۔اس پر بھی بھرپور اشتراک عمل ہوسکتا ہے۔


16۔انصاف  اور قانون کی حکمرانی
انصاف اور قانون کی حکمرانی فریضہ دینی ہے۔اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَان (النحل/90)”اللہ تعالٰی عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔”انصاف اور قانون کی حکمرانی پر بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ اس پر بھی سب یکجا ہوسکتے ہیں۔


17۔جہالت اور لاعلمی کا خاتمہ
جہالت اور لاعلمی کا خاتمہ ایک انسان کا موٹو ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی جہالت کے خاتمہ اور لاعلمی کے ساتھ جنگ میں بہت سارے لوگ ایک ساتھ چل رہے ہیں۔ یہ بھی ایک مشترک وصف ہے جو تمام انسان کی میراث ہے۔اس طرح کی بہت ساری سماجی مشترکات ہیں جو ہر انسان میں از خود موجود ہیں۔ان مشترکات میں افہام و تفہیم اور مکالمہ  کا فروغ، الزام تراشیوں سے پناہ،سوشل میڈیا   کا درست استعمال،خاندانی نظام کی  بحالی،خواتین کا احترام وغیرہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان جملہ مشترکات پر سنجیدگی سے غور و خوض کیا جائے اور قیام امن اور سماجی ہم آہنگی اور بین المسالک رواداری کے لیے ان مشترکات پر عمل پیرا ہوجائے۔


جب انسان کمزور ہو، اس کی معاشی، سیاسی اور معاشرتی طاقت کم ہو، اور وہ رواداری، اخوت، اور مشترکات کی بات کرتا ہے تو یہ کوئی وصف نہیں بلکہ اپنی مجبوری اور ضرورت ہے۔ لیکن جب انسان ہر لحاظ سے طاقت ور ہو، پھر وہ مقدسات کے احترام کی بات کرتا ہے۔سماجی رواداری کا درس دیتا ہے۔ قیام امن کے لیے اُٹھ کھڑا ہوجاتا ہے تو یہی مقصود فطرت ہے اور تقاضائے الہی۔ اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی کا ہر ہر باب اور ہر ہر عمل ہمارے لیے نمونہ ہے۔ آپ نے اس وقت بھی ہم آہنگی اور قیام امن کی بات کی جب اسلام کمزور تھا، ابتدائی سال تھے لیکن جب اس کو غلبہ ملا، طاقت نصیب ہوئی اور آپ ﷺ اور آپ کے  صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ملک کے حکمران بن گئے تو پھر عفو درگذر اور رحمت و شفقت کا جو مظاہرہ فرمایا وہی انسانیت کی معراج ہیں۔علامہ

شبلی نعمانی نے ایک واقعہ نکل کی ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
“ہبار بن الاسود وہ شخص تھا جس کے ہاتھ سے آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو سخت تکلیف پہنچی تھی۔ حضرت زینب رض حاملہ تھیں اور مکہ سے مدینہ ہجرت کررہی تھیں۔ کفار نے مزاحمت کی۔ ہبار بن الاسود نے جان بوجھ کر ان کو اونٹ سے گرادیا جس سے ان کو سخت چوٹ آئی اورحمل ساقط ہوگیا۔ فتح مکہ کے بعد مجبوراً آستانہٴ رحمت پر جھک آیا اور اپنی جہالت اور قصور کااعتراف کیا۔ پھر کیا تھا؟ بابِ رحمت سامنے کھلا تھا اور دوست دشمن کی تمیز یکسر مفقود تھی۔ “( شبلی نعمانی: سیرت النبی،ج ۲، ص  ۲۱۵، ۲۱۶)


مشترکات کے متعلق علمائے امت نے بہت لکھا اور کہا ہے۔ اختصار سے چند مشترکات کا ذکر کیا ہے۔امت مسلمہ کے مابین اقدامات پر  ایک سوال کے جواب میں مکتب اہل تشیع کے  معروف رہنماء علامہ امین شہیدی نے کہا:
” دیکھیں امت مسلمہ کے درمیان مشترکات بے انتہا زیادہ ہیں۔ اختلافات بے انتہا کم ہیں۔ اگر ہم فقہی اور تاریخی مشترکات کو جمع کرنا شروع کر دیں تو نوے پچانوے فیصد مشترکات ہیں۔ اہل بیت علیھم السلام انہیں مشترکات میں سے ہیں، جن سے متعلق کسی مسلک میں فرق نہیں ہے۔ ناصبیوں اور خارجیوں کی بات الگ ہے جو لوگ ناصبی نہیں ہیں، وہ اہل بیت علیھم السلام سے عشق کرتے ہیں۔ دیوبندی ہیں تو عشق کرتے ہیں، سنی ہیں تو اہل بیت سے عشق کرتے ہیں، شیعہ ہیں تو عشق کرتے ہیں۔ اہل بیت کے پروگراموں میں تمام مسالک اکٹھے ہوتے ہیں جو مثال ہے کہ امت مسلمہ یکجا ہو سکتی ہے  اور مثبت اور تعمیری پیغام جا سکتا ہے”

قارئین کرام، مختصر مذہبی، سماجی ومعاشرتی اور عصرحاضر کے چند مشترکات کا ذکر کیا ہے۔ ان میں مذہبی و سماجی مشرکات کا مفصل تذکرہ گلگت بلتستان کے امن معاہدات، بالخصوص امن معاہدہ 2005 اور ضابطہ اخلاق 2012( مساجد ایکٹ) میں تفصیل سے کیا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ان مشترکات کی بنیاد پر ہم سماجی ہم آہنگی، قیام امن اور مذہبی رواداری کا عملی مظاہرہ نہیں کرسکتے؟۔


 اہل علم، فقیہان شہر، آئمہ مساجد و امام بارگاہیں، صاحبان فکر و دانش، اصحاب بست و کشاد،الاسٹیبلشمنٹ،مقتدر ادارے،انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، اور تعلیم یافتہ احباب سے گزارش ہے کہ میرے سوال کا جواب سمجھ آئے تو پلیز ضرور عنایت کیجیے۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔


شیئر کریں: