Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیاحتی مقامات کھول دئیے گئے،سیاح کو کورونا منفی سرٹیفیکیٹ سیاحتی مقامات جاتے وقت ہمراہ رکھنا ہو گا

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) محکمہ سیاحت نے خیبر پختونخوا میں سیاحت دوبارہ کھلنے پر جنرل گائیڈ لائینز اور ایس او پیز جاری کر دئے گئے ہیں جو پورے صوبے خصوصاً ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے تمام سیاحتی مقامات پر فوری طور پر نافذ العمل ہونگے۔ ترجمان محکمہ سیاحت، خیبر پختونخوا لطیف الرحمان کے مطابق سیاحوں اور ہوٹل عملے کیلئے کورونا وائرس سے بچنے کے لئے ایس او پیز پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2020 (۵ ماہ) لاک ڈاون کے خاتمے پر سیاحت کے شعبہ میں نقصانات کے ازالے کے لئے مراعات دی گئی ہیں یہ کہ ملک بھر میں سب سے پہلے محکمہ سیاحت خیبر پختونخوا نے رجسٹریشن اور سالانہ فیس معاف کئے۔تفصیلات کے مطابق نئے ایس او پیز اور گائیڈ لائینز کا مقصد ”محفوظ سیاحت” کو فروغ دینا ہے کورونا ایس او پیز پر ریسکیو 1122، محکمہ صحت، ٹی ایم ایز، ہوٹل عملہ اور ٹور آپریٹرز کو پہلے ہی تربیت دی جا چکی ہے۔ہوٹل، گیسٹ ہاوسز، ریسٹورانٹ عملہ، ٹور آپریٹرز، ٹور گائیڈز کورونا سے بچنے کی ویکسین لگوا چکے ہو۔ہوٹل، گیسٹ ہاوس اور ریسٹورانٹ میں کورونا ایس او پیز سے متعلق معلومات اور آگاہی نمایاں طور پر آویزاں ہونی لازمی ہے۔

ٹور آپریٹرز اور ہوٹل انتظامیہ سیاحوں کی بکنگ اور وزٹ معلومات متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کرینگی۔تمام سیاح سفر سے پہلے اطمینان کریں گے کہ وہ صحت مند اور سفر کے لئے جسمانی طور پر فٹ ہیں۔ہر سیاح کو کورونا منفی سرٹیفیکیٹ اور قومی شناختی کارڈ لازمی طور پر سیاحتی مقامات جاتے وقت ہمراہ رکھنا ہو گا۔کورونا ویکسین لگائے بغیر 50سال سے زائد افراد کی بکنگ ہر گز نہ کرائی جائے اور 40سال سے زائد عمر کے افراد کے بھی بغیر ویکسین سرٹیفیکیٹ مہیا کرنے پر بکنگ نہ کرائی جائے اس سلسلے میں تمام گیسٹ ہاوسز اور ہوٹلوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ترجمان محکمہ سیاحت کے مطابق ماسک کے بغیر کسی بھی سیاح کو ہوٹل اور گیسٹ ہاوس میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔ہر 6سے 8 گھنٹے بعد ہوٹل کے استقبالیہ مقام کو ڈس انفیکٹ کیا جائے۔ہوٹل کے اندرونی لاونج ایریا میں سماجی فاصلوں کا خیال رکھا جائے۔ ایک فرد کے لئے ایک کمرہ یا دو افراد بمع بچوں صرف ایک کمرہ الاٹ کیا جائے۔ہوٹل عملے کیلئے ہر وقت ماسک اور دستانے پہننالازمی قرار دیا گیا ہے۔

ہوٹل باتھ رومز کو روزانہ کی بنیاد پر کلورین ملے پانی سے ڈس انفیکٹ کیا جائے۔ہوٹل اور گیسٹ ہاوس کے ہر کمرے میں سینٹائزر کی موجودگی لازمی قرار دی گئی ہے۔سڑک کنارے آباد ہوٹل اور فوڈ سٹال پر تمام عملہ ماسک پہننے اور ہاتھ دھونے کے لئے صاف پانی بمع صابن کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کرد ی گئی ہیں۔ہوٹل یا گیسٹ ہاوس داخلے کے وقت ٹمپریچر چیک کرانا لازمی قرار اور ہوٹل کیچن باقاعدگی کیساتھ سینٹائز کیا جائے۔ہوٹل اور ریسٹورانٹ کا تمام عملہ کورونا ایس او پیز سے متعلق تربیت یافتہ ہو۔مقامی ضلعی انتظامیہ کو ہر سیاحتی مقام کے انٹری پوائنٹ پر ٹمپریچر چیک کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔سیاحوں کی حفاظت کے لئے ہر انٹری پوائنٹ پر رہنما معلومات پر مبنی کتابچہ دینے کی بھی ہدایات جاری کردی گئی ہے۔


دریں اثنا چیئرمین ڈیڈیک سوات فضل حکیم خان یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں بشمول ملاکنڈ ڈویژن کے بعض اضلاع میں کورونا وبائی صورتحال میں بہتری سے سیاحتی مقامات کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے سیاحوں نے ایک بار پھر ملاکنڈ اضلاع خصوصاََ سوات کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔ ایسے میں کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد سے ہم صورتحال پر قابو رکھتے ہوئے سیاحت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاحت ملاکنڈ ڈویژن کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی صورت اختیار کر گئی ہیں اور لوکل معیشت میں سیاحت کا کردار کلیدی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وقفے کے بعد سیاحت کا دوبارہ بحال ہونا ہم سب کے لیے خوش خبری ہے۔ فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا کہ سوات میں کورونا وبائی صورتحال کو قابو میں رکھنے میں مقامی افراد پاک افواج، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ٹیموں نے بھرپور کردار ادا کیا، عوامی تعاون کی وجہ سے مقامی انتظامیہ نے بھرپور اقدامات کئے جس کی وجہ سے کورونا کی تیسری لہر پر بھی قابو رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ سیاحت کے کھلنے سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ بہت جلد دوسری سرگرمیاں بھی مکمل طور پر معمول پر آجائیں گی۔ انھوں نے عوام خصوصاً سیاحت سے جڑے ہوئے افراد سے اپیل کی کہ احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں اور کورونا ایس او پیز کیلئے خصوصی اقدامات کرتے ہوئے مقامی انتظامیہ سے تعاون یقینی بنائیں۔


شیئر کریں: