Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اسرائیل فلسطین کشیدگی میں اسرائیل کی ہٹ دھرمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد آمین

شیئر کریں:

فلسطین دنیا کے نقشے میں ایک چھوٹا سا علاقہ ہے جو قدیم اور جدید ادوار میں سیاسی عدم استحکام اور قبضے کے لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے،نیز یہ علاقہ تین الہامی مذاہب کے پیروکاروں کے لیئے بھی خاص اہمیت کا باعث بنا ہوا ہے،یہ علاقہ افریقہ اور ایشاء کے بالکل وسط میں واقع ہے جس سے اس کی جعرافیائی خاصیت کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے،تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ فلسطین کی اس جیوگرافیکل خاصیت کی بناء اس علاقے پر پرانے عراق،فارس،یونان،روم،عرب،فاطمید،سلجوک ترک،مملوک وغیرہ کا تسلط رہا ہے۔1517ء سے لیکر 1917ء تک فلسطین کے اکثریتی علاقے خلافت عثمانیہ کے زیر تسلط تھے.

۔1947ء میں تقریبا دو دہائی برطانیہ کے زیر تسلط رہنے کے بعد اس علاقے کو ایک خود مختار اسرائیلی اور فلسطینی ریاستوں میں تقسیم کردیا گیا۔اور بیت المقدس،اسلام کا پہلہ قبلہ اول جو یروشیلم میں ہے،کو قانونی طور پر فلسطینیون کو دینے کی بجائے،مبہم میں رکھا گیا۔


اسرائیلی ریاست اور مظلوم فلسطینیوں میں تنازعہ کی تاریخ لمبی اور انتہائی قابل غور ہے۔پہلی جنگ عظیم سے پہلے فلسطین میں یہودیوں کی کوئی حکومت نہیں تھی بلکہ بہت تھوڑے سے تعداد میں ان کی ابادی وہاں اباد تھی۔لیکن 1876؁ء میں پہلی صیہونی کانفرنس اور پھر 1917؁ء کی بیلفور اعلانیہ نے علاقے میں حالات کو بلکل تبدیل کردیا اور ایک عالمی سازش کے تحت دنیا میں بسنے والے یہودیوں کو فلسطین میں اباد کر کے ان کو وہاں حکومت سازی کے لئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کرنے لگے جس میں بعض مغربی ریاستیں خصوصا امریکہ اور برطانیہ پیش پیش تھے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ علاقے میں کشیدگی پیدا ہوئے۔اس کشیدگی کو حل کرنے کے لیئے 1947ء میں آقوام متحدہ کا فلسطین تقسیم کا فارمولہ شامل تھا لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں ایا اور حالات میں مزید بد تری ائے اور 1947-49پہلی تنازیہ جنم لیا اور باقاعدہ طور پر عرب اسرائیل تنازعہ دیکھنے کو ملا۔موجودہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کا تسلسل 1967ء کے چھ روزہ جنگ ہے جس میں یہودی ریاست نے فلسطین کے علاقوں پر غاصبانہ طور پر قبضہ کیا اور وقت کے ساتھ مذید علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔فلسطین میں یہودی ریاست کی قیام ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی قدم تھا اور یہ فلسطینیوں اور عربون کے لیئے ایک تہذیک سے کم نہیں تھا اور دنیا کے کسی قانوں میں بھی اس کے لیئے جواز موجود نہیں تھا،لیکن سامراجی قوتوں نے ایک بڑے سازش کے تحت یہ سب کچھ کر نے لگے۔


فلسطین کے تنازعے کو حل کرنے کے غرض سے ابھی کئی کوششن کی گئی ہیں اور ان میں قابل ذکر 1993-95؁ء کی اوسلو آمن کا معاہدہ تھا جس کا بنیادی فلسطین میں دو ریاستون کا فارمولہ (TWO State solution)تھا۔لیکن ابھی تک بے چارے فلسطینی غزہ اور مغربی پٹی میں اسرائیلی جارحیت اور تشدد کا شکار رہے ہیں۔وہ مسائل جو آمن کی راہ میں سب سے زیادہ رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ان میں اسرائیلی جارحیت اور پھیلاو،سکیورٹی،بارڈرز،یروشیلم،پانی کے حقوق،یہودی اباد کاری،فلسطینیوں کی اذادی کے حقوق اور فلسطینیوں کی واپسی کا مسلہ قابل ذکر ہیں۔


صیہونی قوتوں نے ہمیشہ آمن کو سبوتازکرنے کی کوشش کی ہیں جس کی ایک مثا ل ستمبر 2000ء میں ایریل شیروں کا متنازعہ بیت المقدس کا دورہ تھا جو بعد میں اسرائیل کا وزیر اعظم بن گیا اس دورے سے فلسطینیوں میں غصے کے لہر دوڑ گئے اور اس سے دوسری مزاحمت (intifada) شروع ہوا اور پہلہ انتفادہ کا دورانیہ 1987ء سے 1993ء تھا،جس کا بنیادی مقصد مغربی حصے اور غزہ پٹی میں صیہونی ناجائز قبضے کے خلاف مزاحمت ہے۔


حال ہی میں جب مسلمان ستائیس رمضان المبارک کو مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھ رہے تھے تو اسرائیلی فوجیوں نے نہتے فلسطینیوں پر بھڑیوں کی طرح حملہ اور ہوئے اور کئی بے گناہ نمازیوں کو شیہد اور سینکڑوں کو زخمی کردیے جس سے غزہ اور دوسرے شہروں میں لاکھوں کی تعداد میں باہر نکلے اور اسرائیلی ظلم کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔حماس نے بھی جارحیت کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور پیچھے تک نہیں دیکھا اسرائیل جس کے پاس دنیا کے بہتریں جنگی ہتھیار ہیں پہلے وہ فلسطینی بچوں کے غلولوں کا جواب ببماری اور میزائیل حملوں سے کرتا تھا اب وہ حماس کے راکٹوں کے سامنے بے بس نظر اتا تھا اور خبر رسان ایجنسیون کے رپورٹ کے مطابق اسرائیلی شہری یا تو پناہ گاہوں میں جاتے تھے یا اسرائیل سے باہر ٹکٹین بکنگ کرتے تھے۔اور دنیا کے رائے عامہ پہلے کے نسبت اس مرتبہ معصوم فلسطینیوں کے حق میں بولنے لگے اور دنیا کے بہت سے شہروں میں فلسطینیوں کے ساتھ یک جہتی کے لیئے احتجاجی جلوس نکالے گئے۔

لیکن جب معاملہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا تو روایت کو برقرار رکھتے ہوئے امریکہ نے اس سے بلاک کردیا،کیونکہ امریکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے صیہونی ریاست شیر بنا بیٹھا ہوا ہے اور علاقے میں اپنی مان مانی اور چوہدراہت کو لاگو کر نے کی کوشش کرتا ہے۔اسرائیلی بربریت اور ببماری کی بناء 232فلسطینی باشندے شیہد ہوئے جس میں 65بچے شامل ہیں۔اور حماس کے جوابی کاروائیوں سے 32اسرائیلی قتل ہوئے۔حماس کے ساتھ القدس فورس اور حزب اللہ بھی اسرائیلی کے لیئے سر درد بنے تھے۔


گیارہ دن اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا اور تمام فلسطین میں فاتح کا جش منایا گیا۔پاکستان نے بھی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا اور وزیر اعظم پاکستان نے واضح الفاظ میں بتا دیا کہ پاکستان قائد اعظم کے فرمان کی روشنی میں فلسطین کبھی بھی قبول نہیں کرے گا۔


شیئر کریں: