Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اپنے بھی خفا، بیگانے بھی ناخوش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

اپوزیشن جماعتیں قومی احتساب بیورو کو اکثر ہدف تنقید بناتی رہتی ہیں۔ چونکہ اپوزیشن کے اکثر رہنماؤں کے خلاف کرپشن، منی لانڈرنگ اور جعلی اکاونٹس کے الزامات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں اس لئے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ خود کو نیب ریفرنسز سے بچانے کے لئے احتساب بیورو پر نکتہ چینی کرتے ہیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے قائدین کو اکثر یہ کہتے سنا گیا ہے کہ وزیراعظم نیب کے ذریعے اپوزیشن کو انتقام کا نشانہ بنارہے ہیں۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان کہتے ہیں کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو چیئرمین نیب تعینات کرنا ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان بھی نیب کی کارکردگی سے خوش دکھائی نہیں دیتے۔ اور اکثر مقدمات میں ججوں کے ریمارکس سے ان کی ناراضگی کا پتہ چلتا ہے۔ نیب پر عدلیہ اوراپوزیشن کی گولہ باری ابھی تھمی نہیں تھی کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی نیب کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ نیب 23 سال سے کرپشن کیخلاف کام کررہا ہے، ہم اس لیے کرپشن پر قابو نہیں پا سکے کیونکہ ہم صرف چھوٹے لوگوں کو پکڑتے ہیں،جب تک طاقتورقانون کی گرفت میں نہیں آئے گا۔ ترقی ممکن نہیں، ہم کرپشن کیخلاف بھی جہادلڑرہے ہیں، کرپشن کاخاتمہ کیے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

چیئرمین نیب کی حالت شاعر کے اس مصرعے کی مانند ہوگئی ہے کہ ”اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش،، میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند“چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ ان کا کسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں، وہ کسی جماعت کے نہیں، بلکہ پاکستان کے وفادارہیں اور کرپشن کا قلع قمع کرنا ان کا نصب العین ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جعلی اکاونٹس سکینڈل میں سابق صدر آصف زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کے کاروباری پارٹنر حسین لوائی سے 23ارب80کروڑ روپے کی ریکوری کرکے قومی خزانے میں جمع کرادی ہے اور منی لانڈرنگ کے مقدمات بھی جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے شوگر، آٹا، پولیٹری اور پٹرول سکینڈل میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے لیڈروں کی گردنیں ناپ لی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی نیب سے خفا ہیں

اس کا مطلب یہ ہے کہ احتساب بیورو اپنا کام بالکل ٹھیک کر رہا ہے۔ جہاں اپوزیشن کے خلاف منی لانڈرنگ، آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے، بین الاقوامی معاہدوں میں کمیشن لینے، ٹیکس چوری کرنے اور بیرون ملک آف شور کمپنیاں اور جائیدادیں خریدنے کے الزامات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں وہیں حکومت اور اس کے اتحادیوں کے خلاف بھی شوگر سکینڈل، منظور نظر افراد کو نوازنے اور رنگ روڈ گھپلوں کے الزام میں مقدمات چل رہے ہیں۔ اہم عہدوں پر فائز سرکاری افسروں کے خلاف بھی درجنوں مقدمات چل رہے ہیں۔واقفان حال کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ججوں، جرنیلوں اور جرنلسٹوں کے خلاف بھی انکوائریاں شروع ہونے والی ہیں گویا زندگی کے تمام شعبوں میں کرپشن سرایت کرگئی ہے جب تک کرپشن کا قلع قمع نہیں ہوتا۔ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ گذشتہ پچاس سالوں کے دوران مختلف حکومتوں نے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی بینک، آئی ایم ایف، پیرس کلب، امریکہ، برطانیہ، جاپان، سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک اور اداروں سے اربوں ڈالر کے قرضے لئے ہیں۔ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی اس کا کسی حکومت سے حساب نہیں لیا گیا۔ اب یہ قرضے پاکستانی قوم کو سود سمیت ادا کرنے پڑرہےہیں۔

قرضہ اتارنے کے لئے مختلف حکومتوں نے چندہ کشی بھی کی۔ ان مہمات پر جمع ہونے والے چندے سے زیادہ اخراجات آئے۔ان سب عیاشیوں کا حساب صرف نیب ہی لے سکتا ہے۔ ملک کی سیاسی قیادت اگر واقعی اس قوم کو کرپشن کے دلدل سے نکالنے میں مخلص ہے تو اسے اپنوں کی چوریاں پر پردہ ڈالنے کے لئے نیب کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے قومی احتساب بیورو کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہیں تاکہ پاکستان کو کرپشن فری ملک بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔


شیئر کریں: