Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دادبیداد۔۔۔۔۔۔۔نیا تعلیمی کیلنڈر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

شیئر کریں:

وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ وبائی مرض کورونا سے نجات پانے کے بعد نیا تعلیمی کیلنڈر بنے گا اور قوم کے نونہالوں کو ہمہ جہت تعلیم وتربیت کے مواقع ملینگے اگرچہ وبائی مرض کوروناسے نجات کا کوئی کیلنڈر نہیں ہے پھر بھی وزیرتعلیم کابیان اس لحاظ سے خوش آئیند ہے کہ حکومت نئے تعلیمی کیلنڈر پر غور کررہی ہے ہم اگرجان کی امان پائیں تو عرض کرینگے کہ نیا تعلیمی کیلنڈرکوئی اچھوتا کام نہیں ہوگا تھوڑی سی توجہ دی جائے تو 50سال پُرانا تعلیمی کیلنڈر دوبارہ زیر غور لایا جاسکتا ہے یہ ایسا کیلنڈر ہے جو ازمودہ ہے اس وقت50سال سے زائد عمر کے جو سیاست دان اور بیورکریٹ موجود ہیں ان سب نے پُرانے تعلیمی کیلنڈر کے تحت تعلیم حاصل کی ہے.

وفاق سے صوبے تک سول انتظامیہ،عدلیہ اور فوج میں جو اعلیٰ قیادت ہے وہ پُرانے کیلنڈر کے تحت تعلیم حاصل کرکے آئی ہے کیونکہ 1987تک ہمارے ہاں پُرانا تعلیمی کیلنڈر چلتا تھا۔یہ ہمہ جہتی (Holistic)تعلیم اور تربیت کا کیلنڈر تھا اس کیلنڈر میں نصابی کتابوں کی تدریس کے ساتھ بوائے سکاؤٹس،گرل گائیڈز،نیشنل کیڈٹ کور،سوشل ورک اور ٹیوٹورئیل کامربوط نظام موجود تھا ہر سکول میں لائبریری ہوا کرتی تھی۔ہم نصابی سرگرمیاں سال بھر جاری رہتی تھیں۔1987میں کسی وباء،کسی آفت اور کسی بڑے واقعے کے بغیر یوں ہی ہمارا تعلیمی کیلنڈر تباہ کردیا گیا سب سے پہلے کالجوں پروار کیاگیا نیشنل کیڈٹ کور کے نام سے کالج کے طلبہ کو لازمی فوجی تربیت دی جاتی تھی

بندوق کا استعمال ہوتا تھا چاند ماری سکھائی جاتی تھی اس ٹریننگ کے سرٹیفیکیٹ پر طالب علم کو20اضافی نمبر ملتے تھے گویا یہ ٹریننگ طالب علم کے اکیڈمکس میں شامل ہوتی تھی اور میرٹ میں شمار ہوتی تھی1969.میں یحییٰ خان کی حکومت میں یہ نظام متعارف ہواتھا آج کل اس طرح کے ٹریننگ کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے مگر وہ بساط لپیٹ دی گئی ہے نئے تعلیمی کیلنڈر میں اس کا احیاء بہت ضروری ہے۔کالج کا ٹیوٹورئیل سسٹم گذشتہ 100سالوں سے چلاآرہاتھا اس سسٹم کی مدد سے اساتذہ کو موقع دیا جاتا تھا کہ طلبا اور طالبات کی پوشیدہ صلاحیتوں اور مخصوص ٹیلنٹ کو اُجاگر کرکے اس کو عملی زندگی کا حصہ بنائیں ایک طالب علم ڈرائنگ میں دلچسپی لیتا ہے دوسراطالب علم شاعری کا دلدادہ ہے تیسرا طالب علم کھیلوں میں دلچسپی رکھتا ہے ایک اور طالب علم ہے جو کہانیاں سوچتا اور لکھتا ہے ان میں سے ہر ایک کو اس کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے رہنمائی،مدد اور معاونت ملتی تھی.

کالج کے ٹائم ٹیبل میں ٹیوٹورئیل کے لئے ہفتے میں ایک پیریڈ مقرر ہوا کرتا تھا۔اس کو بیک جنبش قلم بند کرکے طلباء اور طالبات کو ایک اہم تعلیمی وتربیتی سرگرمی سے محروم کردیا گیا۔اسی طرح سکول کی سطح پر بوائے سکاؤٹس اور گرل گائیڈزکی مفید سرگرمیوں کا سسٹم موجودتھا چھٹی جماعت سے لیکر دسویں جماعت تک کے طالب علم ان سرگرمیوں کے ذریعے معاشرتی اداب اور اطوار سیکھتے تھے ماحول کی صفائی کے لئے عملی تربیت ملتی تھی۔ابتدائی طبی امداد کی ٹریننگ دی جاتی تھی قدرتی آفات کی صورت میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کی ٹریننگ دی جاتی تھی۔آخری دن کیمپ فائر کے لئے مختص ہوتا تھا۔ہر دوسرے سال ملکی سطح پر سکاؤٹس جمہوری منعقد ہوتی تھی۔

اسی طرح کالجوں میں سوشل ورک کا دستور تھا گریجویشن کے لئے یہ بات لازمی تھی کہ طالب علم نے سوشل ورک کا سرٹیفیکیٹ حاصل کیا ہو۔اس سرٹیفیکیٹ کے بغیر امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی سوشل ورک کے دوران طالب علم خون کے عطیات جمع کرتے تھے،سڑکوں،نہروں اور گلیوں کی صفائی کرتے تھے۔یہ اچھی خبر ہے کہ کورونا وباء کے بعد حکومت نیا تعلیمی کیلنڈر لانے والی ہے اگر یہ بات درست ہے تو1987سے پہلے کا تعلیمی کیلنڈر ہمیں واپس دیا جائے۔


شیئر کریں: