Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

غزہ کے محاصرہ کی رپورٹ اوراقوام متحدہ کاروایتی مسلمان دشمن رویہ…ڈاکٹر ساجدخاکوانی

شیئر کریں:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

                ایک حدیث مبارکہ میں محسن انسانیت  ﷺنے فرمایا ہے کہ ”الکفر ملت واحدۃ“کہ تمام عالم کفر (مسلمانوں کے خلاف) ایک ہی قوم ہے۔گزشتہ چند دہائیوں سے اور اکیسویں صدی کی دہلیز پراس قول مبارکہ کی حقانیت دو چند ہوکر اظہرمن الشمس ہوئی ہے۔چندسال قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی قائم کردہ تفتیشی کمیٹی نے فلسطین میں انسانیت سوز وقوعے کے بارے میں اپنی رپورٹ دی ہے،اس رپورٹ میں اقوام متحدہ نے غزہ کے طویل اسرائیلی محاصرہ کو حق بجانب قرار دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے مرکزبرائے آئینی حقوق نے اپنی رپورٹ میں میں پوری قوت سے اور کھلم کھلا اسرائیل کی حمایت کی ہے اور واضع طور پر کہاہے بین الاقوامی سمندروں میں اسرائیل نے جوغزہ کی شہری آبادی کا طویل بحری محاصرہ کررکھا ہے وہ بالکل درست اور صحیح اقدام ہے،اور اسرائیل کی ریاست کواس بین الاقوامی قانون کے توڑنے کا مکمل اختیار حاصل ہے،اس کمیٹی کی صدارت نیوزی لینڈ کے سابق وزیراعظم نے کی۔اقوام متحدہ کایہ اسلام دشمن کردارپہلی بار منظر عام پر نہیں آیا،1948ء میں کشمیر کی قراردادوں سے تاحال یہ ادارہ استعمار کا ہتھیاراور سیکولرازم کے فسطائی نظریات کی برملانمائندگی کرتانظر آتاہے۔خاص طور پر اسی کی دہائی میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعدجب روس جیساریچھ جہاد جیسے مقدس فریضے کے نتیجے میں قوت ایمانی سے ٹکراکرپاش پاش ہوگیااور پوری دنیامیں واحد طاغوتی طاقت ”ریاست ہائے متحدہ امریکہ“باقی بچ گیاتب سے تو اقوام متحدہ کادارہ کھلم کھلا امریکی آشیرباد سے اسلام دشمنی اور مسلمان کش پالیسیوں پر چلتانظر آرہا ہے،اور اس ادارے کے ہرہراقدام میں انسانیت کے تحفظ کی بجائے امریکی اقدامات کے تحفظات نظر آرہے ہیں۔جوجوتیرامریکہ بہادر خود نہیں چلا سکتاان کی چاندماری بڑی ہشیاری سے اقوام متحدہ کے سپرد کردی جاتی ہے اور یہ ادارہ دم ہلاتے ہوئے امریکی مفادات کا تحفظ کرتاہے اور سسکتی انسانیت کے سینے کومزید چھلنی کرتا چلا جاتا ہے۔

                ”غزہ“کاعلاقہ بحیرہ روم کاساحلی علاقہ ہے جو قدیم تاریخ سے فلسطین کاایک جغرافیائی خطہ ہے۔اس کے جنوب مغرب میں مصر اور جنوب مشرق میں اسرائیل کی ناجائزریاست ہے۔اس طرح غزہ کے ایک طرف خشکی اور باقی اطراف میں سمندرکی لہروں سے بھرے ساحل ہیں۔غزہ کی یہ پٹی اکتالیس کلومیٹر لمبی اور اور چھ سے بارہ کلومیٹرچوڑی ہے،جس میں ایک اندازے کے مطابق ایک اعشاریہ چھ ملین کی انسانی شہری آبادی رہائش پزیر ہے۔غزہ کی آبادی کو محاصرہ کی یہ سزا اس لیے دی گئی ہے کہ انہوں نے 2006کے انتخابات میں اسلامی ذہن کی حامل قیادت ”حماس“کے نمائندوں کو فیصلہ کن اکثریت سے چن لیاتھااور سیکولرذہن کے مفادپرست عناصرکو مسترد کردیاتھا۔جیسے جیسے ”حماس“کی قیادت غزہ کے معاملات اپنے ہاتھ میں لیتی گئی ”ڈیموکرٹک سیکولرازم“کادباؤ اس جمہوری قیادت پر بڑھتاچلا گیایہاں تک کہ 2007میں غزہ کے تمام بری و بحری راستے مکمل طور پر بند کر دیے گئے اور انسانیت کے عالمی ٹھیکیدارغزہ کے اندر سے آنے والی انسانی چیخوں کے سامنے صم بکم عمی کی زندہ مثال بنے رہے۔سیکولرازم کے ان انسانی حقوق کے ٹھیکیداروں کوانڈونیشیاکے اور سوڈان کے عیسائیوں کے ساتھ نام نہاد زیادتیاں تو بہت دور سے سنائی دیتی رہیں لیکن ریڈکراس،ایمنسٹی انٹرنیشنل،یورپی یونین ا ور اقوام متحدہ کے متعدد اداروں کے ذیلی دفاتر اپنی ناک کے نیچے غزہ کے مسلمانوں کی انتہائی پسماندہ ترین حالت بھی نظر نہ آئی،یہاں تک کہ میڈیانے ان اداروں کو اس طرح اسرائیلی مظالم دکھائے جیسے اندھے اور گونگے بہرے کو ہاتھ لگا لگاکر دکھایا جاتا ہے تب بھی آنے والی رپورٹ جس جانبداری سے لکھی گئی ہے اس پر پوری دنیاانگشت بدنداں ہے۔

                اس محاصرے کے دوران غزہ میں بدترین قسم کے انسانی حالات دیکھنے میں آئے،ہسپتالوں میں  ادویات اپنے اختتام کو پہنچ گئیں،خوراک کے تمام ذخائر اپنی آخری حد کو چھونے لگے اوراسکول کے بچوں کے لیے لکھنے پڑھنے کابنیادی سامان تک عنقا ہو چکا تھا۔کاروبار میں رسد نہ ہونے کے باعث مندا اپنے آخری حدوں کو چھو رہا تھا،طویل تراور سخت ترین محاصرے باعث بنیادی انسانی ضروریات جن میں صابن،منجن،تیل اوراسی طرح کی بہت ہی بنیادی انسانی حاجات شامل تھیں ان کا بھی ملنا دشوار ہو چکا تھا۔اور اس سب پر مستزاد یہ کہ بچا کھچاسرمایا زیست بھی اسرائیلی درندوں کے وقتا فوقتا ان حملوں کی نذرہوجاتا جو وہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے براہ راست انسانی آبادی پر ہوائی حملے کرتا تھااور بنیادی تعمیراتی ڈھانچے تک کو تباہ کر دیتا تھااور عالمی امن کے ٹھیکیدار یہ سب دیکھتے تھے اور اپنی آنکھیں موند لیتے تھے کیونکہ غزہ میں اگرچہ انسان تو تھے لیکن وہ گندمی رنگت سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے اور سیکولرازم صرف سفید چمڑی والوں کو ہی شاید انسان سمجھتاہے اور انسانی حقوق صرف امریکہ اور یورپ کی سرحدوں کے اندر ہی پہچانے جاتے ہیں،ان سرحدوں کے باہر کے پیمانے سیکولرجمہوریت کے لیے باالمعکوس مترادف ہیں۔

                دنیاتو بہرحال اسرائیل کے یہ سب مظالم دیکھ رہی تھی اور کہیں نہ کہیں سے چھپ چھپاکے یاوعدوں،معاہدوں کی آڑ میں،یاانسانی حقوق کے نام پر یاکسی بھی اور طرح سے کچھ نہ کچھ کبھی کبھی ان مظلوم غزہ کے مسلمانوں تک پہنچ ہی جاتا تھااگرچہ ایک طرف تو اسرائیل جیسے دشمن نے تو ناکہ بندی کی ہی ہوئی تھی جبکہ دوسری جانب مصر جیسی اسلامی ریاست کی سیکولرفوجی قیادت نے بھی غزہ کا واحد خشکی کاراستہ بندکررکھاتھااور مہینوں تک سرحد پر ڈاکٹرزاپنی ادویات کے ساتھ اور انسان دوست اپنے راشن کے ساتھ بیٹھے رہتے تھے اور حیرانی ہے مسلمانوں کے حکمران طبقے پرکہ وہ بھی اپنے ہم مذہب مسلمانوں کی اس ناگفتہ بہ حالت پر چپ سادھے بیٹھا رہااورکسی کو ظالم کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرات نہ ہوئی۔بڑی بڑی افواج،وسیع ترین سلطنیں،دنیاکی امیر ترین معیشیتیں،مضبوط ترین کرنسیاں اور لمبے چوڑے اورمقدس ومحترم سابقوں لاحقوں کے حامل حکمران غزہ کے نام پر کبوتر کی طرح انکھیں بندلیتے اور ان کی زبان سے ایک بیان تک نکلنے کی جسارت نہ کر پاتا۔حکمرانوں کے اس قبیح کرادارکو امت نے بالاتفاق وبالاجماع مستردکیااور مشرق سے مغرب تک مظاہروں کی ایک لہر تھی جس نے پوری دنیا کی توجہ غزہ کی طرف مبذول کر دی اور کئی سالوں کے بعد دنیاکے عالمی کارپرداران مجبور ہوئے کہ اس مظلوم بستی کے مکینوں کی آہیں بھی سن پائیں۔

                اسی طرح کی ایک مساعی 31مئی2010کو بھی کی گئی جب چھ چھوٹے بحری جہازوں پر حیات انسانی کا ضامن سامان زیست لدا تھا اور کچھ تعمیراتی سامان بھی دھراتھاتاکہ غزہ کے مکین جہاں اپنی ضروریات خوردونوشت کاوسیلہ کر سکیں وہاں اسرائیلی ریاستی دہشت گردی سے تباہ ہونے والی سکولوں اور اسپتالوں کی عمارات کو بھی دوبارہ قابل استعمال کر سکیں،ان کشتیوں پر سات سوکے لگ بھگ صحافی،انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے اور دیگر سویلین افراد سوار تھے اور کم و بیش دنیا بھر کے چالیس ملکوں کی نمائندگی ان کشتیوں پر موجود تھی۔جب یہ کشتیاں عالمی سمندر میں اسرائیلی کے ناجائز محاصرے سے گزرتے ہوئے غزہ کی طرف بڑھنے لگیں تو اسرائیلی بحریہ کے بدمعاشوں نے ان پر دھاوا بول دیااور آن کی آن میں نو افرادکو نگل گئے اور کئی کو زخمی کر دیا۔یہ معاملہ بھی ”سیکولرازم“کی سردمہری کی نظر ہوجاتااگر ان مقتولین میں ایک امریکی باشندہ شامل نہ ہوتا۔”امریکی“باشندے کے قتل نے ”انسانی حقوق“کے اس دعوے داروائٹ ہاؤس کو ہلا دیاجسے لاکھوں مسلمانوں کا خون ٹس سے مس نہ کر سکا،اقوام متحدہ نے فوراََتحیقاتی کمیٹی بٹھادی جس نے یہ رپورٹ پیش کی کی اسرائیل کی ناکہ بندی ہرحال میں جائز ہے۔

                اقوام متحدہ سے امیدیں لگانے والے مسلمانوں کی آنکھیں اب تو کھل جانی چاہییں کہ یہ ادارہ صرف یہودیوں کے معاشی و سیاسی مفادات کے تحفظ کا ہی ضامن ہے۔عام انسانوں سے اس ادارے کو کوئی سروکار نہیں،یہودی طبقہ دنیابھر میں اپنی مکروہ اور انسان دشمن کاروائیوں سے بچنے کے لیے اس ادارے کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتاہے،خود اسرائیل کا وجود اسی ادارے کامرہون منت ہے۔وہ وقت دور نہیں جب مسلمانوں کی طرح دیگر غیر مسلم ملل بھی اس حقیقت کوجان لیں گے تب اس ادارے کاکیاانجام ہو گا یہ نوشتہ دیوارہے جو چاہے پڑھ لے اور کسی کو یقین نہ آئے تو اس سے پہلے کے بین الاقوامی ادارے لیگ آف نیشنزکا انجام دیکھ لے۔مسلمان سمجھ چکے،دیگراقوام بھی سمجھ لیں گی لیکن نہ معلوم مسلمانوں کے حکمرانوں کو کب سمجھ آئے گی جو کہ اب بھی کشمیر،عراق،افغانستان،گروزنی،اریٹیریا،برما،فلسطین اورگوانتاناموبے سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے مسائل کو اقوام متحدہ کے ایوانوں میں حل کر نے کے منتظرہیں۔امت مسلمہ کی صحیح قیادت وہ ہو گی جومیدان قتال میں اپنی افواج کے ہراول دستے کے قلب میں موجود ہو گی،عوام اوراپنے درمیان سے مصنوعی پردے ختم کرے گی اور حقوق کی بجائے فرائض کی جنگ لڑے گی اورجرات مندانہ خارجہ پالیسی کے ذریعے اپنا بوریابستراٹھاکراقوام متحدہ سے باہر آجائے گی کہ اس ادارے کی گردن پر ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمانوں کا خون ہے اور اس کا دامن انسانیت کی استحصالی سرخی سے آلودہ ہے۔

[email protected]


شیئر کریں: