Chitral Times

Sep 23, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مسجد اقصی…..گل عدن

شیئر کریں:

خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد مسلمانوں کے لئے تیسرا مقدس ترین مقام بیت المقدس یعنی مسجد اقصی ہے۔ ایک حدیث کے مطابق مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد جس مسجد کی طرف سفر کی اجازت دی گئ ہے وہ مسجد اقصی ہے۔یہ وہ پاکیزہ مقام ہے جسکا ذکر قرآن میں آیا۔قرآن میں اک جگہ اسکا یوں ذکر ہے کہ ” پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کی سیر کرائی۔جسکے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے۔” معراج کی رات آپؐ (ص) کے سامنے براق لایا گیا جس پر آپ ص سوار ہوئے اور مسجد حرام پھر طور سینا سے ہوتے ہوئے جہاں حضرت موسی علیہ سلام سے ہم کلام ہوۓ بیت المقدس پہنچے ۔جہاں حضرت آدم علیہ سلام سے لیکر حضرت عیسی علیہ السلام تک تمام انبیأکرام آپ ص کے منتظر تھے ۔

اس رات بیت المقدس کو اللہ کی طرف سے عزت و تکریم اور اللہ کی خاص برکت نےمسجد کا احاطہ کیا ہوا تھا ۔اس سے پہلے بھی یہ مسجد زمانہ قدیم سے ہی خاص اہمیت کا حامل رہا ہے یہ دنیا کی قدیم ترین اور یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں بیک وقت نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں ۔اور یہ یہودیوں عیسائیوں اور مسلمانوں کے لئے یکساں طور پے باعث عزت اور قابل احترام ہے ۔یہاں حضرت سلیمان کامزار تخت داؤد بھی ہے ۔اور حضرت عیسی علیہ السلام کی دینی کاوشوں کے ان گنت نشانات ہیں ۔انکے علاوہ بھی حضرت انبیأکرام اور دیگر مصلحین کے یادگار اس پاک مقام میں موجود ہیں۔

اس حساب سے مسجد اقصی مسلمانوں کا عظیم ورثہ اور زمین پر اللہ کی مقدس ترین امانت ہے جسکی حفاظت ہر مسلمان پر واجب ہے ۔اسکی بے حرمتی ہر مسلمان کی ایمان کا امتحان ہے ۔اسکا نقصان پورے عالم اسلام کا نقصان ہے ۔مگر اللہ کی شان ہے کہ اللہ کی زمین میں اللہ کا گھر جل رہا ہے مگر اللہ کے بندے اسرائیل جیسے غلیظ ملک سے ملکی دنیاوی مفادات کی خاطر دوستی کا ہاتھ بڑھاکر ان شعلوں کو ہوا دے رہے ہیں ۔چند واقعات کو بنیاد بنا کر پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے والے اقوام عالم آج اسرائیل کی اس کھلم کھلا دہشت گردی پر خاموش مسلمانوں کی بے بسی کا لطف اٹھا رہا ہے اور یہ سلسلہ تو سالوں سے جاری ہے ۔فلسطین کی بے بس قوم کشمیر کے اور برما کے مسلمان اور بلکل پڑوس میں افغانستان کے مسلمان تو نجانے کب سے اپنوں کی بے حسی اور کافروں کی بے رحمی کی عظیم آزمائش سے نبرد آزما ہیں

ہم صرف انکے حوصلے کی بلندی کی دعا کر سکتے ہیں۔کیوںکہ ہم بحثیت مسلمان اتنا کمزور ایمان رکتھے ہیں کہ ٹماٹر یا پٹرول مہنگا ہونے پر تو ہم احتجاج کے نام پر قانون اور انسانیت کی دھجیاں اڑادیں گے لیکن جب جہاد اور جنگ کا خطرہ نظر آۓ کوئی بڑی سے بڑی تباہی ہو جائے تب ہم دو بلین مسلمان بجائے کفن سر پے باندھنے کے ہم 57 ممالک کی چند ہزار آقاؤں کی طرف دیکتھے ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں ہماری آقائیں وقتی طور پر مصالحت کی کوئی راہ نکال لیں گے ۔وہ بھی آقائیں گذرے جن کے پاس وسائل نہ ہوتے ہوئے بھی بصورت جنگ جو کہتے تھے کہ جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے۔اور آج ہمارا ملک اور ہم جیسے 56 دوسرے اسلامی ریاستیں وسائل کے ہوتے دنیا کی بہترین فوج رکھتے ہوئے بھی ایٹمی طاقت رکتھے ہوئے بھی جنگ سے گریزاں ہیں تو کیوں ہیں؟ کیونکہ ہمارا ایمان کمزور ہے ۔ہمیں اپنے مسلمان بھائی کی تکلیف پر تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔

ابھی نندن کو چائے پلانے کا واقعہ ابھی اتنا پرانا نہیں ہوا جب ہمارے حکمران اپنی اس بزدلانہ فعل کو رسول پاک ص کے صلہ رحمی اور معاف کرنے کے اس عظیم واقعہ سے ملا تے رہے کہ جب ایک کافر آپ ص کو نیند میں پاکر آپ ص کی جان لینے کی کوشش کرتا ہے ۔اتنے میں آپ ص کی آنکھ مبارک کھل جاتی ہے اور وہ کافر اپنی جان کو خطرے میں پا کر خوف سے تھر تھر کانپنے لگتا ہے۔مگر حضورپاک ص اسے معاف فرمادیتے ہیں جس سے متاثر ہو کر وہ اور دوسرے کہیں کافر اسلام میں داخل ہوجاتے ہی۔ اور یہاں کیا ہوا ابھی نندن بھارت کے حوالے کردئا جاتا ہے مگر مودی سرکار مسلمان تو کیا ہوتے الٹا پورا سال بھارتی فوج باردڈ پر مسلمانوں کی زندگی مشکل تر کر نے کی کوشش میں اضافہ کرتے ہے ۔وجہ صرف اتنی تھی کے وہ کافر جانتا تھا کے رسول پاک چاہتے تو اسکا سر تن سے جدا کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نہیں کیا ۔اور یہ کافر ابھی نندن جانتا تھا کے ہم اپنی مفادات بزدلی اور بے غیرتی کے ہاتھوں اتنے مجبور ہیں کے چاہ کر بھی اسکا سر نہیں اڑا سکتے تھے۔اسی لیے تو جسکا جی چاہتا ہے وہ نبی کی شان میں گستاخی کرتا ہے ۔جسکی مرضی مدرسووں میں خودکش دھماکے کرواتا ہے۔آئے روز گستاخئ رسول کے واقعات تمام اسلامی ممالک سمیت ان کفار ممالک کے منہ پر بھی طمانچہ ہیں جو دنیا کو امن اور اخلاقیات کا درس دیتے نہیں تھکتے۔

کشمیریوں فلسطینی مسلمانوں پر اس ظلم میں سبھی مسلمان شامل ہیں ۔مسجد اقصی سالوں سے عالم اسلام کے سامنے اک سوالیہ نشان ہے ۔فلسطین جو امن کا شہر کہلاتا ہے مگر یہاں کے باشندوں کو امن اور سکون کھبی بھی نصیب نہیں ہوسکا۔یہ مقدس شہر تو کہیں بار اجڑ گیااور کہیں بار دوبارہ بسایا گیا۔جسکا شمار ناممکن ہے ۔یہ سنہرا رنگ والا مسجد ہزار بار اپنی بے حرمتی جھیل چکا ہے ۔اسکی معتبر دیواریں معصوم جانوں کی بے قدری کی گواہ ہیں اور یہ مقدس زمین ہزاروں بے گناہوں کا خون اور آنسو اپنے دامن میں جذب کر چکا ہے ۔

یہ زردی مائل رنگت لاکھوں آزردگیاں سہ چکا ہے ۔لیلۃ القدر کی یہ رات گواہی دے گی کہ جس اللہ نے ہمیں 57 اسلامی ممالک اور دو بلین سے زائد مسلمانوں کو عزت آرام اور عیش و عشرت کی زندگی عطاء کی وقت آنے پر ہم اس اللہ رب العزت کے گھر کی حفاظت نہیں کرسکے۔


شیئر کریں: