Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کو ٹیسٹ مثبت آنے پر لازماً قرنطینہ ہونا پڑیگا۔ محکمہ صحت

شیئر کریں:

آٹھ دن بعد دوبارہ پی سی آر ٹیسٹ ہوگا، پالیسی سارے ملک کے لیے یکساں ہے۔ سیکرٹری صحت سید امتیاز حسین شاہ۔


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بیرون ممالک کورونا وائرس کی نئی قسم کے تیزی سے پھیلنے اور صوبے میں کورونا وباء کے پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے این سی او سی کی جانب سے بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے جاری پالیسی پر من و عن عمل کیا جا رہا ہے۔ باہر سے آنے والے والے مسافروں کا ایئر پورٹ پر ریپڈ ڈائگناسٹک انٹیجن ٹیسٹ (آر اے ٹی) کیا جاتا ہے۔ ٹیسٹ منفی آنے پر مسافر کو کچھ دن قرنطینہ کی ہدایت کے ساتھ گھر جانے دیا جاتا ہے تاہم ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں مسافر کو لازماً قرنطینہ ہونا پڑتا ہے۔ جس کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے 4 مختلف کیٹیگریز کے مناسب ریٹس پر ہوٹلز موجود ہیں جہاں مسافر اپنے خرچ پر قرنطینہ میں رہ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ صوبائی حکومت کے قرنطینہ سینٹرز دوران پور اور سروسز ہسپتال میں بھی باہر سے آنے والے مسافروں کے لئے تمام سہولیات موجود ہیں۔ سیکریٹری صحت سید امتیاز حسین شاہ کے مطابق ٹیسٹ مثبت آنے والے مسافروں کا 8 دن بعد دوبارہ پی سی آر ٹیسٹ کیا جاتا ہے جو کہ منفی آنے پر مسافر کو گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قرنطینہ میں موجود چند مسافروں کی جانب سے احتجاج اور مطالبہ حکومتی پالیسی سے متصادم ہے۔ ان میں سے کئی مسافروں کے پاس جعلی پی سی آر ٹیسٹ تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت اور صوبے میں کورونا کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر مسافروں کو قرنطینہ دورانیہ کی تکمیل اور کورونا ٹیسٹ منفی آنے سے قبل نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس وقت کئی ممالک میں کورونا وائرس کی نئی قسم پھیل چکی ہے جو کہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ سیکریٹری صحت نے کہا کہ بیرون ملک سے آئے مسافروں کے لیے پالیسی این سی او سی کی جانب سے ترتیب دی گئی ہے جو سارے ملک کے لیے یکساں ہے۔


شیئر کریں: