Chitral Times

May 23, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیر اعلی کی احکامات پر گریڈ 17 سے 1ہزار 9 سو لیکچرز کی بھرتی کے عمل کا آغاز کردیا گیا۔۔کامران بنگش

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے کہا ہے کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کے احکامات پر صوبے میں اعلی تعلیم کو بہترین سہولیات اور باصلاحیت نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے گریڈ 17 سے 1ہزار 9 سو لیکچرز کی بھرتی کے عمل کا آغاز کردیا گیا ہے خالصتان میرٹ پر شفاف طریقے سے 1 ہزار 57 میل (مرد) اور 843 فیمیل (خواتین) لیکچرز کی بھرتیوں کی ذمہ داری صوبائی پبلک سروس کمیشن کو سونپی گئی ہے۔پبلک سروس کمیشن نے آسامیاں مشتہر کرتے ہوئے خواہش مند امیدواروں کو 28 مئی تک آن لائن اپلائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔


منگل کے روز اپنے ایک بیان میں خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے کالجز میں فزکس، کیمسٹری، کمپیوٹر سائنس،بائیو انفارمیٹکس،اکنامکس،الیکٹرونکس انگلش، ماحولیات،جغرافیہ، ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن،جینڈر سٹڈیز، تاریخ، آئی ٹی، پولی ٹیکل سائنس، اسلامک سٹڈیز،اردو، پشتو، منجمنٹ سائنس،نفسیات، سماجیات،شماریات،زوالوجی، پاکستان سٹڈیز اور ریاضی سمیت مختلف مضامین کے تقریبا 1ہزاد 9 سو لیکچرز کی کمی آرہی تھی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے وزیر اعلی محمود خان کی ہدایت پر صوبے کے محکمہ اعلی تعلیم نے ایک جامع کیس تیار کیا اتنی بڑی تعداد میں لیکچرر کی بھرتیوں پر صوبائی خزانہ کو سالانہ خطیر رقم کا اضافی بوجھ برداشت کرنا تھا تاہم وزیراعلی خیبرپختونخوا نے صوبے کے بچوں کو اعلی تعلیم کے بہترین تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے ان کی منظوری دی۔

صوبہ خیبرپختونخوا میں بیک وقت اتنی بڑی تعداد میں لیکچرز کی بھرتی وزیراعظم پاکستان عمران خان کے اس وژن کی عکاسی ہے جس کے تحت خیبر پختونخوا میں ا علی تعلیم کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ بہترین صلاحیتوں کے حامل پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں،خالصتا میرٹ پر شفاف طریقے سے ان لیکچرز کی تقرری کا ٹاسک صوبائی پبلک سروس کمیشن کے سپرد کیا گیا ہے۔کورونا کے باعث صوبائی سروس کمیشن کے زیر اہتمام بھرتیوں کے عمل کا رفتار متاثر ہوا تھا تاہم وزیراعلی خیبرپختونخوا نے چیئرمین پبلک سروس کمیشن فریداللہ خان کو مختلف محکموں میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ صوبے کے عوام کی مشکلات کے ازالہ کے لیے مختلف محکموں کو کم سے کم وقت میں ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے جس پر صوبائی پبلک سروس کمیشن نے تیز ترین رفتار کے ساتھ مختلف محکموں کی خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا آغاز کیا۔ی

ہ امر قابل ذکر ہے کہ کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایت پر 1900 لیکچرز کی بھرتی کا یہ عمل آئندہ تین سے چار ماہ میں مکمل کیا جا رہا ہے جس کے لیے پبلک سروس کمیشن نے تمام تر ضروری انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔کامران بنگش نے کہا کہ 1900 میں سے میل (مرد) لیکچرز کے لئے مجموعی طور پر ایک ہزار 57 آسامیوں پر بھرتی کی جائے گی جن میں جنرل کوٹہ سے 983 لیکچر بھرتی ہوں گے، اقلیتی برادری کے افراد کے کوٹہ میں 53 لیکچرز کی اور معذوروں کے کوٹہ میں 21 لیکچرز بھرتی ہوں گے۔ اسی طرح مجموعی طور پر 843 فیمیل(خواتین لیکچرر کی بھرتی کی جائیں گی جن میں 784 خواتین لیکچرز جنرل کوٹہ،42 خواتین لیکچرر اقلیتی برادری کے کوٹہ اور معذوروں کے کوٹہ میں 17 خواتین لیکچرز کی بھرتی عمل میں لائی جائے گی۔

کامران بنگش نے کہا کہ1900 لیکچرز کی بھرتی وزیراعظم عمران خان کی تعلیم اور انسانوں پر سرمایہ کاری سے قوم کا مستقبل سنوارنے کے عزم کی عکاسی ہے اور ان آسانیوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی وزیراعلی محمود خان کی شاندار گورننس اور بہترین مالیاتی نظم و ضبط کی عکاسی ہے۔صوبائی پبلک سروس کمیشن جیسے قابل اعتماد ادارہ کے ذریعے ان لیکچرز کی بھرتی وزیراعلی محمود خان کے اس عزم تعلیم جیسے اہم شعبے میں بھرتیوں کو ہر قسم کی مداخلت اور اثر رسوخ سے پاک رکھنا ہے جو موجودہ صوبائی حکومت کی کامیابیوں کا ایک اور سنگ میل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شیئر کریں: