Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پولیٹری فیڈ کمپنیوں کی لوٹ مار……محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


رمضان المبارک کے دوران مرغی کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافے میں 19 پولٹری فیڈ کمپنیوں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تحقیقاتی کمیشن کے مطابق پولٹری فیڈ برائلر گوشت اور انڈوں کی لاگت کا تقریبا 80 فیصد ہے۔ پولٹری فیڈ کی قیمتوں میں اضافے سے مرغی اور انڈوں کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے۔دسمبر 2018 سے دسمبر 2020 کے درمیان فیڈ ملوں نے ملی بھگت کر کے پو لٹری فیڈ کی قیمتوں میں اوسطا 836 روپے فی 50 کلوگرام اضافہ کیا جو 32 فی صد بنتا ہے۔ جس کی وجہ سے مرغی کی قیمتوں میں 150فیصد اضافہ ہوا اور مرغی کا گوشت 120روپے کلو سے بڑھ کر 270روپے کلو تک پہنچ گئی.

اس طرح پولٹری فارموں اورفیڈ کمپنیوں نے باہمی گٹھ جوڑ کے ذریعے عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نکال لئے۔ تحقیقاتی کمیشن کو فیڈ کمپنیوں کے مابین قیمتوں کے حوالے سے حساس معلومات کے تبادلے اور گٹھ جوڑ کے شواہد بھی ملے ہیں انکوائری رپورٹ کے نتائج کی روشنی میں سیکشن 4 کی خلاف ورزی میں شامل تمام پولٹری فیڈ کمپنیوں کو شو کاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔چینی اور گندم کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے میں جو مافیا ملوث ہے وہی پولیٹری کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ عام لوگ نہیں، بڑے بڑے جاگیر دار، سرمایہ داراور کارخانے دارہیں وہی لوگ قومی ایوانوں میں بیٹھے ہیں انہی کے نمائندے بڑے انتظامی عہدوں پر فائز ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عدالتوں سے انصاف خریدنے کی بھی سکت رکھتے ہیں۔

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تعین یہی گروپ کرتا رہا ہے۔ مگر انتظامی اور قانونی نظام میں سقم کے باعث یہ لوگ ہمیشہ قانون سے بچتے رہے ہیں۔ جس ملک میں غریب کے لئے الگ اور امیر کے لئے الگ قانون ہو۔ بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے تندور سے روٹی چرانے والا جیل میں سڑ رہا ہو۔ اور قوم کا خون چوسنے والے دندناتے پھیر رہے ہیں تو یہ معاشرتی انخطاط کی نشانی ہے۔ ایک طرف غریب لوگ روزگار نہ ملنے کی وجہ سے اپنے بچوں کو قتل کر رہے ہیں دوسری جانب عوام کی چمڑی ادھیڑ کر اربوں کھربوں کے اثاثے بنانے والے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہوں۔ تو یہ ظلم اور ناانصافی ہے۔

کفر پر مبنی معاشرہ قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم و زیادتی اور جبر و استبداد کا نظام معاشرے کو تباہ کردیتا ہے۔ یہ ہماری ذہنی پسماندگی کی انتہا ہے کہ جن لوگوں نے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے بے دردی سے لوٹا اور بیرون ملک جائیدادیں بنائیں۔ آج بھی بہت سے لوگ اپنے ذاتی مفادات کے لئے ان کی چوریوں کو جائز سمجھتے ہیں، ان کو ہار پہناتے ہیں اور ان کے پاؤں چھونے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔ دین اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کسی کو غلط کام کرتے ہوئے دیکھو۔ تو بزور بازو اسے روکنے کی کوشش کرو۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہیں۔تو اپنی زبان سے اس کی مذمت کرو۔ اگر اس کی بھی استعداد نہیں رکھتے تو دل میں اسے برا سمجھو۔ اور یہ کمزور ترین ایمان کی علامت ہے۔ اگر دینی تعلیم کے اس ترازو میں ہم اپنے آپ کو تولیں توثابت ہوتا ہے کہ ہم سب کا ایمان کمزور ہے۔ غلط کام کرنے والوں کو برا سمجھنے کے بجائے ان کی تائید و حمایت کا صاف مطلب یہی ہے کہ ہم میں ایمان کی رمق باقی نہیں رہی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جن کو ہم چارہ گر سمجھتے ہیں وہ خود ہی بیچارے بن گئے ہیں۔ وزیراعظم کا یہ کہنا ریاست اور حکومت کی کمزور ی پر دلالت کرتا ہے کہ اس ملک میں امیر کو پکڑنے اور سزا دینے کا کوئی نظام نہیں ہے۔ ریاست میں حکومت کے پاس ہی تمام اختیارات ہوتے ہیں اگر حکومت ہی خود کو بے دست و پا ظاہر کرے تو اس ملک کے غریبوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔


شیئر کریں: