Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

امام علی ابن ابی طالب کی شہادت سے قبل نصیحت ….محمد آمین

شیئر کریں:

امام متقین امام علی نے شہادت سے قبل مرگ بستر پر جو نصیحت فرمائی تھی اس کے دو حصے ہیں ایک حصہ اپنے فرذند اجمین جناب حسین کریمین کے لئے تھا اور دوسرا عام مسلمانوں کے لیئے ہیں۔سید رضیؒ نے اس اہم نصیحت کو اپنی شاہکار تصنیف،،نہج البلاغہ میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ خطبہ نمبر 147میں درج کیا ہے۔اس خطبے کو پڑھکر امام اعلی مقام کی اللہ پاک اور نبی اکرمﷺ سے محبت کا صحیح معنوں میں اندازاہ لگایا جاسکتا ہے۔آپؑ نے فرمایا؛


اے لوگو؛ہر شخص اس چیز کا سامنا کرنے والا ہے جس سے وہ راہ فرار اختیار کیا ہے اور جہاں ذندگی کا سفر کھینچ کر لے جاتا ہے وہی حیات کی منزل منتہا ہے۔موت سے بھاگنا اس سے پالینا ہے میں نے اس موت کے چھپے ہوئے بھیدون کی جستجومیں کتنا ہی زمانہ گزارامگر معشیت ایزدی ایسی یہی رہی کہ اس کی تفصیلات بے نقاب نہ ہو۔اس کی منزل تک رسائی کہاں وہ تو ایک پوشیدہ علم ہے،تو ہاں میری نصیحت یہ ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہ ٹھہراو اور محمد ﷺ کی سنت کو ضائع و برباد نہ کرو۔ان دونوں ستون کو قائم و برقرا ر رکھواور ان دونوں چراغون کو روشن کیے رکھو۔جب تک منتشرو پراگندہ نہیں ہوتے تم میں کوئی برائی نہیں ائے گی۔تم میں سے ہرشخص اپنی وسعت بر بوجھ اٹھائے،نہ جانے والوں کا بوجھ بھی ہلکا رکھا گیا ہے۔


کیونکہ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا،دین سیدھا اور پیغمبر ﷺعالم و دانا ہے۔میں کل تمہارا ساتھی تھا اور اج تمہارے لیئے عبرت بنا ہوا ہوں اور کل تم سے چھوٹ جاوں گا۔خدا تجھے اور مجھے مغفرت عطا کرے۔اگر اس پھسلنے کی جگہ پر قدم جمے رہے تو خیر اور اگر قد م کا جماو اکھڑ گیا تم ہم نے انہی (گھنی)شاخوں کی چھاوں، ہوا کی گذرگاہوں اور چھائے ہوئے ابر کے سایوں میں تھے۔لیکن اس کے تہ بہ تہ جمے ہوئے لکے چھٹ گئے اور ہوا کے نشانات مٹ مٹا گئے۔میں تمہارا ہمسایہ تھا کہ میرا جسم چند دن تمہارے پڑوس میں رہا اور میرے مرنے کے بعد مجھے جسد بے روح پاوگے کہ جو حرکت کرنے کے بعد تھم گیا اور بولنے کے بعد مند ھ جانااور ہاتھ پیروں کا بے حس و حرکت ہوجانا تمہیں پندو نصیحت کرے۔کیونکہ عبرت حاصل کرنے والی باتوں سے زیادہ موعظت و عبرت دلانے والا ہوتا ہے۔میں تم سے اس طرح رخصت ہورہاہوں جیسے کوئی شخص (کسی کی)ملاقات کے لیئے چشم و براہ ہو۔کل تم میرے اس دور کو یاد کرو گے اور میری نیتین کل کر تمہارے سامنے اجائیں گے اور میری جگہ کے خالی ہونے اور دوسروں کے اس مقام پر انے سے تمہیں میری قدرو منزلت کی پہچان ہوگی۔


میں اللہ کی حمد و ثنا کرتا ہوں اور ان چیزوں کے لیئے اس سے مدد مانگتا ہوں کہ جو شیطان کو راندہ اور دور کرنے والی اور اسکے پھندون اور ہتھکندوں سے اپنی پناہ میں رکھنے والے ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے عبدو رسول اور منتخب و برگزیدہ ہے۔نہ ان کے فضل و کمال کی برابری نہ ان کے اٹھ جانے کی تلافی ہوسکتی ہے۔تاریک گمراہیوں اور بھر پور جہالتوں اور سخت خصلتوں کے بعد شہر ان کی وجہ سے روشن و منور ہوگئے۔جبکہ لوگ حلال کو حرام اور مرد زیرک و دانا کو ذلیل سمجھتے تھے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ اآپﷺ نے دنیا کو جہالت سے پاک کرکے علم و ہدایت سے روشناس کرادیا جو تمام عالم کے لیئے ایک بڑا احسان ہے او رب العزت ہمیں آپﷺ کی تعلیمات پر پورا اترنے کی تلقیں عطا کریں۔


شیئر کریں: