Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آدم خور نظام……فیض العزیز فیض

شیئر کریں:

چلیں جی مان لیتے ہیں. کہ کاروبار بند رکھنے اور گھروں تک خود کو محدود کر لینے سے اس بیماری کا پھیلاؤ سست پڑ جاتا ہے مگر ہم کب تک قید رہیں۔علاج کا بھی کچھ بھروسہ نہیں ویکسین کام کرے یا نہ کرے۔ تو کیا زندگی ہمیشہ کے لیے بند رکھیں؟

اب دو راستے ہیں، یا بیماری سے مرو یا بھوک سے۔ٹھیک ہے جو قسمت میں لکھا ہے وہ تو ہونا ہے۔ شروع شروع میں جتنے لوگ سینیٹائزر استعمال کر رہے تھے یا ماسک لگا کر باہر نکل رہے تھے آج بھی کم و بیش اتنی ہی تعداد ہے۔ویسے انسان کرے بھی تو کیا کرے ؟ابھی میں اسپتال سے کورونا نیگیٹو کا سرٹیفکیٹ لے کر نکلا ہوں اور ابھی میرے پاس سے گزرتے ہوئے کسی نے کھانس یا چھینک دیا تو کیا میں پھر سے ٹیسٹ کراؤں؟یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مصدقہ مریض تو ہزاروں ہیں مگر غیر مصدقہ لاکھوں میں ہیں۔یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اگر آپ میں فلاں فلاں علامات پائی جاتی ہیں تو بہتر ہے آپ ٹیسٹ کروا لیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ضروری نہیں کہ آپ میں کورونا کی بظاہر کوئی بھی مروجہ علامت پائی جاتی ہو۔

اس کے باوجود آپ کورونا وائرس دوسروں تک منتقل کر سکتے ہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کورونا پازیٹو ہو کر نیگیٹو بھی ہو چکے ہوں اور آپ کو پتہ بھی نہ چلا ہو کہ آپ میں اس وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو چکی ہے ۔یہ معلوم کرنے کے لیے ایک اینٹی باڈی ٹیسٹ الگ سے دستیاب ہے۔ ایسے حالات میں عام آدمی کھائے کدھر کی چوٹ بچائے کدھر کی چوٹ۔چنانچہ تنگ آمد وہ یہی سوچتا ہے کہ جو ہو کر بھی کورونا ہے اور نہ ہو کر بھی کورونا ہے ۔ تو جہنم میں جائے سب ۔ یہ پڑا ماسک ، یہ رہا تمہارا سینیٹائزر اور صابن ، یہ پکڑو اپنے ایس او پیز ۔میں تو اب وہی کروں گا جو پہلے سے کرتا آیا ہوں۔ یعنی سنو سب کی کرو اپنی۔ بہت سے بہت کیا ہوگا؟ مر ہی تو جائیں گے نا۔ ویسے کون سے زندہ ہیں۔ابتدائی دنوں میں مقابلہ موت اور زندگی کا بتایا جا رہا تھا۔ آج کہا جا رہا ہے کہ دنگل زندگی اور بھوک کے درمیان ہے۔ آپ وائرس سے مرنا پسند کریں گے یا بھوک سے؟ 

 اکتوبر 2005 زلزلے کے بعد متاثرہ لوگوں نے اپنی اداسیوں کو تالا لگا کر ایک ڈیڑھ ماہ بعد کاروبارِ حیات کھول لیا کیونکہ زندہ رہنے والوں کو تو بہرحال زندہ رہنا ہے۔مگر کسی اور قدرتی و انسانی آفت اور موجودہ آفت میں ایک بنیادی فرق ہے۔ زلزلہ ایک بار آیا اور تھم گیا، جتنے مرنے تھے مر گئے۔ کراچی میں ایک خونی دور آیا مگر اسے جاری رکھنا اور روک دینا انسان کے بس میں تھا۔سو جنھوں نے سوئچ آن کیا تھا انھوں نے ہی سوئچ آف کر دیا۔ تاہم کورونا ایک مسلسل غیر محسوس زلزلہ ہے اور اس کا سوئچ کہاں ہے؟ دنیا اب تک ٹامک ٹوئیاں ہی مار رہی ہے۔لیکن پیٹ تو اندھا ہے اور ہم سب اس اندھے کی گھومتی لاٹھیاں۔خبروں میں شیخوپورہ کے محسن کو سفاک، بدبخت اور ظالم باپ وغیرہ لکھا گیا ہے تو بہت ممکن ہے یہی سچ ہو. کیونکہ وہ اپنے چار ننھے کلیوں کو مسلا ہے. لیکن ایک اور سچ بھی ہے کہ افلاس، بھوک، ننگ سے زیادہ بے رحم شے کوئی نہیں جو انسان کو حیوان بنا کر کسی بھی حد تک لے جاسکتی ہے اور اسی لیے افلاس سے پناہ مانگی گئی۔

وسائل کی غیر منصفانہ بلکہ سفاکانہ تقسیم اور موجودہ حالات معاشرہ کو وہاں تک لے آئی ہے جہاں آگے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا اور اس سے بھی کہیں بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ اب بھی مختلف قسم کی ’’اصلاحات‘‘ کا لاحاصل رونا رویا جا رہا ہے حالانکہ یہ آدم خور نظام اصلاحات کا کیس ہی نہیں رہ گیا۔ نام نہاد اصلاحات ان حالات کا علاج نہیں مثلاً آج کل انتخابی اصلاحات کا بہت چرچا ہے اور میں یہ سوچتا ہوں کہ ان اصلاحات کے نتیجہ میں زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا یا ہوسکتا ہے؟ سوائے اس کے کہ بھیڑیئے کی جگہ تیندوا یا کوئی ریچھ آگے آ جائے گا۔ جب تک بنیادی جوہری تبدیلی نہیں ہوگی، ان آرائشی، زیبائشی، سطحی تبدیلیوں سے کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا. ٹاک شوز کے اندر ذرا ملاحظہ کریں. کہ لڑائی کس بات پہ ہے ان مگرمچھوں کی. ان کے ترجیحات کیا ہیں. مجھے تو ان قائدین کے اس نیت پہ بھی شک ہے کہ یہ عوام کو کرونا سے بچانے کے لئے کچھ کر رہے ہو بلکہ اس کرونا کے پیچھے بھی ان کے مفادات کارفرما ہیں. 


شیئر کریں: