Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مالیاتی خسارہ اوراسکا ممکنہ حل …الہی بخش لکچرر سیاسیات گورنمنٹ کالج بونی

شیئر کریں:

وزارت خزانہ کے نئے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق  مالی سال 2020-2021 کے پہلے نو مہینوں میں ہمارا بنیادی توازن (Primary balance)  562 بلین روپے سرپلس میں رہا. تاہم ہم 1.652 ٹریلین مالی خسارے( Fiscal Deficit) کا سامنا کر رہے ہیں جو کہ ہماری GDP کا 3.6 فیصد بنتا ہے.

ان نو مہینوں میں ہمارے محصولات 4.99 ٹریلین رہے جبکہ اخراجات کا حجم 6.644 ٹریلین رہا. اخراجات میں سے 2.1 ٹریلین روپے ہم نے مارک اپ پیمنٹ (قرضوں کے اوپر سود) کے طور پر خرچ کئے. خسارے کی رقم ہم ظاہر ہے اور قرضے لیکر ادا کرینگے. ترقیاتی منصوبوں کیلئے قرضے لینے کی روش ہمیں یہاں تک لے آئی ہے. بین الاقوامی مالیاتی ادارے بد نیتی اور غلط اعدادوشمار کے بنیاد پہ غریب ممالک کو ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں تجاویز دیتے ہیں اور انہیں قرضے لیکر ان منصوبوں پر کام کرنے پر آمادہ کرتے ہیں.

یہ منصوبے وہ منافع نہیں دیتے جسکا پہلے اندازہ لگایا گیا ہوتا ہے. نتیجتاً ہم ان منصوبوں سے اتنے کم محصولات اکٹھے کرتے ہیں کہ جنہیں انہیں کیلئے لیے گئے قرضوں پر لگانا تو دور کی بات صرف انکے آپریشنل کاسٹ پر ہی بمشکل خرچ کرسکتے ہیں. پچھلے کچھ سالوں سے ان سارے قرضوں کے مارک اپ میچور ہورہے ہیں جن کی ادائیگی کیلئے مزید قرضے لئے جارہے ہیں. یہ سلسلہ یہاں رکنے والا نہیں ہے. ایک حل یہ ہے کہ ہم اپنی معیشت کو اتنا مظبوط کریں کہ ہمیں مارک اپ کی ادائیگی کیلئے دوبارہ قرضے لینے نہ پڑیں. لیکن یہ حل بہت وقت لیگا جس کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے کیونکہ اس دوران اور بھی قرضے چڑھ چکے ہونگے.

دوسرا اور آسان طریقہ یہ ہے کہ ایک کمیشن بنایا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ ترقیاتی منصوبوں کے نام پہ جن جن حکمرانوں اور ان کے ماتحتوں نے مالیاتی اداروں سے قرضے لینے کی اجازت دی ہیں ان کا پتہ لگایا جائے اور ایک بل پارلیمنٹ سے پاس کراکے ان سے یہ قرضوں کے رقوم ادا کئے جائیں.


نوٹ: کالم میں درج اعدادوشمار اور عالمی مالیاتی اداروں سے متعلق باتیں مستند زرائع سے ہیں. باقی سب ذاتی رائے ہے جس سے اختلاف کیا جاسکتا ہے.


شیئر کریں: