Chitral Times

May 13, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

شہادت امام علی ابن ابی طالب……تحریر: محمدآمین

شیئر کریں:


یہ عظیم سعادت جناب علی ابن ابی طالب کو ہی نصیب تھا کہ آپؑ کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوا تھا اور شہادت بھی اللہ کے گھر مسجد کوفہ میں ہوا۔ آپ پیدا ہوتے ہی رخ مصطفی دیکھا آپ کو یہ سعادت حاصل تھا کہ پیدا ہوتے ہی آغوش نبی اخر الزمان (ص) ملا۔اپ کی پرورش اور تربیت رسول خدا سے ملا۔کس کو یاد نہیں دعوت العشرہ کے وہ مناظر جب ہمارے پیارے نبی ﷺ نے سب سے پہلے توحید کا دعوت اپنے اہل عیال کو دیا۔سب خاموش تھے لیکن اس دس سالہ بچے نے کھڑے ہوکر کہا کہ اے محمد ﷺ اس عظیم بوجھ کو اٹھانے میں آپکاساتھ دوں گا اہل مجلس سارے ہنس پڑے لیکن بعد کے تاریخ نے یہ ثابت کردیا کہ شیر خدا نے جو وعدہ دعوت عشیرہ میں کیا تھا وہ سب سچ ثابت کردیا۔پھر جب پیغمبر خدا کو حکم الہی مکہ سے مدینہ ہجرت کرناپڑا۔اور کفار مکہ اس دن (نعوذ باللہ) اپ کو مارنے کے ارادے سے رات کے وقت اپﷺ کے گھر کا محاصرہ کرچکے تھے،توحیدر کرار بغیرکسی خوف کے اپ کے بستر مبارک پر سویا اور صبح سویرے کفار آپ کو نبی کے بستر پر دیکھ کر حیران رہ گئے۔پھر آپؑ بحکم رسول خدا لوگوں کے امانتین ان کو سونپ کر خودبھی مدینہ تشریف لے گئے۔


آپؑ علم وبلاغت،تقوی،سخاوت،شجاعت اور کمالات کا منبع تھا۔رسول ﷺ کو علی کرم اللہ وجہہ سے گہرا پیا ر تھا۔آپ حضور ﷺکے چہتے بیٹی جنا ب فاطمہ سلاماللہ علیہ کا ھم سفر اور حسنین کریمین کے والد بزرگوار تھا۔جب دسوین عیسوی میں نجران کے عیسائیوں کی ایک وفد نبی اقدس سے مباہلہ کے غرض سے مدینہ ائیں اور حضرت عیسیٰؑ کے حوالے سے تکرار کرنے لگے کہ وہ خداکا بیٹا ہے۔تو اللہ کی طرف سے مباہلے کا حکم نازل ہوا،اس حکم خداوندی کے مطابق نبیﷺنے اپنی نفس کی جگہ شیر خدا کو اپنے ساتھ لیا،یہ واقعہ اسلام کے لیئے ایک بہت بڑانازک مرحلہ تھا، کیونکہ بقول قرآن مجید جھوٹوں پر اللہ کی لعنت نازل ہونا تھا،جب نجران کے عیسائیوں نے پنجتن پاک کی ان نورانی چہروں کو دیکھے تو خوف سے لرز گئے اورمباہلہ کرنے سے معذرت کئے اور فدیہ دیکھ کر فلاح پائے۔جنگ بدر ہو یا احدیاخیبر اپکی بہادری کسی سے چھپی نہیں ہے۔پھر غدیرکا وہ مقام جہاں ایک لاکھ سے زیادہ حجاج کی موجودگی میں نبیﷺنے فرما یا کہ جس کا میں مولاہوں علی اس کامولاہے۔آپ ؑ کی علم و فصاحت کا یہ علم تھا کہ رسول نے فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کادروازہ ہے۔آپ کی فضلیت کا یہ علم تھا کہ نبی نے فرمایا تھا کہ علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔دوسری جگہ فرمایااپنے محفلوں کو علی کے ذکر سے سنواردو۔حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا
علی ابن ابی طالب میری امت میں سب سے بڑے عالم ہیں اور میرے بعد لوگ جس بارے میں اختلاف کریں گے اس میں سب سے اچھا فیصلہ کرنیوالے ہیں۔


آپ کی وفات شب جمعہ قبل از صبح صادق 21 رمضان المبارک چالیس ہجری میں ہوئی۔مسجد کوفہ میں اپ پر عبدلرحمن ابن ملجم مراوی لعین نے تلوارسے قاتلانہ حملہ کیاجس سے اپ شہیدہوئے۔انیس رمضان کی رات اپ گھر سے تشریف لائے اور لوگوں کو نماز صبح کے لیئے بیدار کرنے لگے۔ابن ملجم ابتداء شب سے آپ کی گھات میں تھا جب اپ مسجد میں اس کے پاس سے گزرے جو اپنے ارادے کو لوگوں سے چھپائے ہوئے سونے والوں میں مکاری سے پڑا یہ ظاہر کئے ہوئے تھا کہ وہ سو رہا ہے تو اس نے اچانک آپؑ پر حملہ کردیا آپؑ کے وسط میں زہر میں بجھی تلوار کا وار لگا آپ انیس کا دن،بیس کی رات اور دن اور اکیسویں کی رات کی پہلی تہائی تک اس جہان فانی میں ذندہ رہے جس کو آپ تین دفعہ طلاق دے چکا تھا،پھر آپ شہید ہوکر اس دنیا سے چل بسے اور مظلومیت کے عالم میں اپنے پروردگار سے جا ملے۔


آپؑ کوااپنی شہادت کا پہلے سے علم تھا اور نبی اکرمﷺ نے بھی اپ کو شہادت کی بشارت دی تھی اور اپ لوگوں کو خبر دیتے رہتے تھے۔آپ کے غسل وکفن کی ذمہ داری آپ کے حکم کے مطابق اپ کے دونوں فرذند حضرت حسن اور حسین علیا السلام نے پوری کی۔شہزادے اپ کا تابوت کوفہ سے مقام غری نجف کی طرف لے گئے اور وہیں اپکو دفن کیا اور آپ کی وصیت کے مطابق اپ کے بیٹوں نے قبر مطہر کا نشان مٹا دیا کیونکہ اپ کے بنو امیہ کی حکومت کے بارے میں پورا علم تھا کہ وہ آہلبیت کے ساتھ کیا کرنے والے تھے۔لہذا ٓپؑ کی قبر مطہر مخفی و پوشیدہ رہی یہاں تک کہ صادق آل محمد جناب امام ئجعفر الصادق نے دور بنو عباس میں نشاندہی فرمائی جبکہ اپؑ حیرہ میں عباسی خلیفہ منصور کے پاس ائے۔آپ نے زیارت کی تو شیعہ حضرات کو پتہ چلا پھر انہوں نے زیارت کا سلسلہ شروع کیا۔آپ پر اور اپ کی زریت طاہرہ پر سلام ہو۔آپ کا عمر مبارک شہادت کے وقت 63 سال تھا۔اپ پہلا شہید مظلوم امام تھا اور اپ کے پاک زریت کے سارے آئمہ اطہار سوائے امام مہدی کے سب شہید ہوئے۔


امام متقین نے شہادت سے پہلے اپنے بیٹوں کو ذیل اہم نصیحت فرمایا جو تا قیامت جاوید و ذندہ رہیں گے
اللہ سے ڈرو اور اپنی دین میں استقامت کے ساتھ رہو۔سچائی کا ساتھ دو،آخرت کے لیئے فکر کرو،مظلوم کا ساتھ دو اور ظالم کا مقابلہ کرو۔قرآن کے ساتھ تمسک مضبوط سے رکھیں اور کسی وقت اس سے انحراف کا سوچ بھی نہ سکیں
نماز کے معتلق اللہ سے ڈرو کیونکہ یہ دین کا ستون ہے اور وضو کا خاص خیال رکھیں۔پھر آپ نے اللہ کے گھر کی طواف اور ذکواۃ کے فرائیض کی ادائیگی پر ذور دیا۔


آپؑ نے یتیمون کے ساتھ حسن سلوک،ہمسائیوں کے ساتھ نیک برتاوٗ اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھے قربت داری کی تلقین فرمائی۔
اخر میں حیدر کرار نے فرمایا کہ اگر میں ذندہ رہا تو ابن ملجم کیساتھ خود سلوک کروں گا اور اگر ذندہ نہ رہا تو اتنا سزا دو جتنا اس نے میرے ساتھ کیا ہے۔لیکن خبردار اس کے میت کو جلانا نہیں اور نہ بے حرمتی کرنا۔

سلام ہو اپؑ پر اے شہید مظلوم اور اسلام کے درخشان ستارے۔


شیئر کریں: