Chitral Times

May 13, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بے حال معیشتی بحران میں لاک ڈاؤن….تحریر سید جواد نقوی (تحریک بیداری امت مصطفٰی)

شیئر کریں:

کرونا وباء نے ایک وقفے کے بعد دوبارہ شدت اختیار کر لی ہے پہلی لہر کی نسبت یہ لہر شدید تر ہے۔مزیدکہا جا رہا ہے کہ اس سے زیادہ شدید وباء آنے والی ہے جس سے انسانیت کا زمین سے صفایا ہوجائے گا۔ جو ابھی لہر آئی ہے اسکو U۔K وائرس کا نام دیا جا رہا ہے۔اس کے برعکس ویکسین بھی تیار کی جاچکی ہے مگر پھر بھی ہلاکتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔بھارت میں یہ وباء تیزی شدت اختیار کرچکی ہے بھارت میں یہ بحران اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ایک دن میں کئی لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں وہاں مریض کیا مردے بھی نہیں سنبھالے جا رہے۔یہ جو تباہی زمین پر ہو رہی ہے یہ بے تقوی لوگوں کی وجہ سے ہے۔ عالمی سطح پر یہ بحران شدید ہے مگر بھارت میں بہت ذیادہ ہے انکی نسبت پاکستان کے اندر کمی ہے مگر مدیریتی نظام بہت ناقص ہے۔

ان سے اور کچھ نہیں بن پارہا تو اب جو ایک کام انکے بس میں ہے وہ ہے لاک ڈاؤن۔ملک کے اس بے حال معیشتی بحران میں لاک ڈاؤن۔اب لاک ڈاؤن سے جن کی درآمد بند کر دی ہے ان کے بل بڑھا دو ان کے ٹیکس میں اضافہ کردو۔جو حکومت نے عالمی اداروں کو قسطیں دینی ہیں وہ عوام سے حاصل کرو کیسے حاصل کریں وہ بھی عالمی ادارے بتاتے ہیں کہ آپ اس کے لیے کون سا کام کریں۔ابھی حال ہی میں جو حکومت نے قدم اٹھایا۔وہ یہ کہ ملک کے اندر کرنسی کے متبادل بانڈز دیے جاتے ہیں پہلے آئی ایم ایف نے کہا کہ چالیس ہزار کا بانڈ ختم کر دو انہوں نے کر دیا پھر 25000 کا کہا کل سات ہزار کا بانڈ ختم کرنے کو کہا تو حکومت نے وہ ختم کر دیا۔ایم ایف ٹی ایف نے 27 تقاضے پاکستان سے کیے تھے جن میں سے پاکستان چالیس پورے کر چکا ہے۔ اب نہیں معلوم اور کتنے باقی بچتے ہیں۔

وہ حکومت کو بتاتے ہیں کہ آپ نے کیا کرنا ہے وہ بتاتے ہیں کہ بجلی اتنی مہنگی کرو اور یہ بغیر سوچے سمجھے لگے ہوئے ہیں جب عوام کی انکم نہیں ہوگی تو یہ ٹیکس کہاں سے دیں گے؟؟ایک طرف تو وباء ہے کہ جس نے اسکو شروع کیا اس کی طرف کوئی سوچتا ہی نہیں ہے کہ یہ ظلم انسانیت پر کس نے کیا ہے اس کا کوئی نام نہیں لیتا۔بھارت میں سب سے زیادہ تباہی ہے وہاں بھی کوئی اس ظلم کرنے والے کا نام نہیں لیتا۔حتیٰ وہ پیشنگوئی بھی کر دیتے ہیں کہ اس سے زیادہ مہلک لہر آنے والی ہے۔اس طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔دوسرا اس کے مقابلے کے لیے حکومت جو اقدامات کر رہی ہے وہ مزید اس امر کو تقویت کر رہے ہیں۔آکسیجن گیس جو مریض کے لیے حیات کا درجہ رکھتی ہے ڈاکٹرز کے مطابق اگر کسی مریض کو یہ آکسیجن بروقت مل جائے تو وہ صحت یاب ہو سکتا ہے۔

ابھی اس وقت ہمارے حکمران فخریہ طور پر کہتے ہیں کہ آکسیجن کی کمی ہے۔کیوں آکسیجن نہیں مل رہی ہے تو یہ حکومت پھر کس چیز کی ہے آپ سب کیا کر رہے ہو ان مجرموں کو کون آگے لائے گا جنہوں نے آکسیجن بنانے کا انتظام تک بھی نہیں کیا۔اور عوام پھر اس کو تقویت کر رہے ہیں مدد دے رہے ہیں۔جیسے ہی خوف پھیلا یا جاتا ہے کہ سیلنڈر کی کمی ہے کیونکہ ان کے پاس پیسے ہیں یہ فورا جاکر فضول میں سلینڈر خرید کر اپنے گھر سٹور کر لیتے ہیں۔بغیر ضرورت کے یہ اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔اور حکومت سلینڈر بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔باقی لوازمات بھی نہیں فراہم کریں گے ان کے نزدیک ہر چیز کا علاج لاک ڈاؤن میں ہے۔اس وقت وباء سے مقابلہ لاک ڈاؤن نہیں بلکہ احتیاط اور آگاہی کے ہوتے ہوئے وباء کے ساتھ زندگی بسر کرنا ہے۔

اگر مارکیٹیں بند کر دیں تو یہ سارے کرونا سے پہلے ہی مر جائیں گے۔بھارت نے خود ویکسین بنائی سب کو باہر بھیجی بھی اس کے بعد خود اس کے اندر مبتلا ہوئے یہ سوچنے کی بات ہے۔عوام اس بحران میں شدت پیدا نہ کریں عقل و شعور سے کام لیں سب سے پہلے احتیاط کریں۔غیر ضروری رفت و آمد نہ کریں۔غیر ضروری سفر نہ کریں یہاں پر فرق پڑے گا اور یہ کام عوام کرے گی حکومت نہیں اگر حکومت نے کیا تو پھر سب کچھ بند کر دیں گے پھر یہ ضروری سفر بھی نہیں ہو سکیں گے۔دوسرا کام اس معیشت سے بے حال حکومت کا ان کو پکڑ پکڑ کر جرمانے لگا دو دیکھے بغیر کہ انکی مشکل کیا ہے حکومت کو پیسوں کی ضرورت ہے لہذا عوام سے بہانوں سے پیسے لو اور بل بڑھا دو۔اس بات سے مقابلے کے لیے لاک ڈاؤن نہیں فوج کو اس بات پر مامور کریں کہ عوام کے لئے جو احتیاط ہے اس پر عمل درآمد ہو بازار مارکیٹ کھلی رہیں۔اور اگر مارکیٹ کا وقت تنگ کیا تو یہ بحران زیادہ ہوگا۔کیوں کہ جنہوں نے بارہ گھنٹے میں خریداری کرنی ہے وہ ان چار گھنٹوں میں آئیں گے جس کی وجہ سے رش اور زیادہ ہوگادوسری طرف وزیر اعلان کر دیتے ہیں کہ جس نے عید کی خریداری کرنی ہے وہ ابھی کریں آگے لاک ڈاؤن ہو جائے گا اور پھر لوگ دھڑا دھڑ بازاروں میں آتے ہیں۔یہ حماقت ہے ان حالات میں مدیریت کی ضرورت ہے اس بیماری کے ساتھ زندہ رہنے کے لیے S.O.P.S پر عمل کرنا ہوگا تعلیمی ادارے بند نہ کریں اس کام کے اندر عوام اپنا حصہ لے۔


شیئر کریں: