Chitral Times

May 13, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیر زادہ جذبہ خدمت سے سر شار مخلص ر ہنما! …..ذاکرمحمد ذخمیؔ بونی اپر چترال

شیئر کریں:

الیکشن 2018؁ میں اگر چہ چترال سے پاکستان تحریک انصاف کوئی سیٹ جیتنے میں کامیاب نہ ہوئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہیں دوسرے امیدواروں اور پارٹیوں کی نسبت بہت ہی زیادہ ووٹ ملے۔جیت ہار تو ہونا ہی ہے لیکن اتنا زیادہ ووٹ لینا کوئی معمولی بات نہیں۔انتخابی مہم کے دوران کچھ پارٹی کے اندر کے خلفشاراورمہم چلانے میں کچھ کمزوریاں ان کی جیت کی راہ میں روکاوٹ ضرور بنی۔ ورنہ نتیجے مختلف بھی ہوسکتے تھے۔


اپر چترال میں تقریباً 27 ہزار ووٹ تحریک انصاف کو پڑے جو اپر چترال میں ان کی مقبولیت کی واضح ثبوت ہے۔چترال میں مذہبی پارٹیوں کا اتحاد ہمیشہ دوسرے پارٹیوں کے لیے نقصان دہ رہا ہے۔ جب بھی مذہبی پارٹی ایک نشان کے ساتھ انتخابی میدان میں اترتے ہیں تو دوسرے پارٹیوں کے جیتنے کے امکانات بہت ہی کم رہ جاتے ہیں۔ یہ ہی صورت حال گزشتہ انتخابات میں بھی دیکھنے کو ملی۔

متحدہ مجلس عمل کتاب کی نشان کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیا اور جیت گئی۔ چترال میں مذہبی پارٹی اگر ایک نشان کے ساتھ انتخابی میدان میں اترتے ہیں تو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں ان کا کردار کیا ہوتا ہے یا ان کی کارکردگی کتنی اطمینان بخش ہوتی ہے۔ بس انہیں ووٹ پڑتے ہیں اور وہ اسمبلیوں تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔


اپر چترال میں گزشتہ الیکشن کے ریکارڈ کی بنیاد پر اگر یہ کہا جائے تو مبالعہ ارائی نہ ہو گی۔ کہ اپر چترال کے تحریک انصاف کے ورکروں کو اگر متحد رکھا جائے تو اگلے الیکشن میں جیت تحریک انصاف کی مقدر بنے گی۔مگر اس وقت اپر چترال میں تحریک انصاف کچھ گروہ بندیوں اور تقسیم کا شکار نظر اتی ہے۔اگر ان کمزوریوں پر توجہ نہ دی گئی تو اگے چل کر تحریک انصاف مشکلات سے دوچار ہو سکتی ہے۔

گزشتہ الیکشن میں متحدہ مجلس عمل کے مضبوط امیدواروں کے ساتھ تحریک انصاف کا مقابلہ کانٹے کا رہا۔جس میں قومی اسمبلی کے مولانا عبد الاکبر چترالی کے تقریباً 48616 ووٹوں کے مقابلے میں تحریک انصاف کے عبد اللطیف 38481 ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے اسی طرح صوبائی اسمبلی کے مولانا ہدایت الرحمن کے تقریبا ً 45629 ووٹوں کے مقابلے اسرار صبورؔ40490 ووٹ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئے اعداد و شمار شایدپوسٹل بیلیٹ پیپرز کے علاوہ ہیں۔

تحریک انصاف کو اپنے ووٹ بینک برقرار رکھنے بلکہ اس میں مزید اضافہ کرنے کا بہترین موقع اس وقت میسرہوئی جب چترال کے فرزند وزیر زادہ بحیثیت اقلیتی نمائیدہ صوبائی اسمبلی کے مخصوص نشست کے لیے منتخب ہوا اور بعد میں وزیر اعلی محمود خان کے معاون خصوصی بنے۔ وزیرر زادہ اگر چہ مخصوص نشست پر چترال سے منتخب ہوئے لیکن خوش قسمتی چترال کی ہے کہ آپ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے پیش نظر اپنے اپ کو کردار کی بنیاد پرچترال کا نمائیدہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوا جو نہ صرف چترال میں پی ٹی ائی بلکہ پوری چترال کے لیے خوش بختی کی علامت ہے۔


آپ خود کو اقلیت تک محدود کرنے کے بجائے ارندو سے بروغل تک کے مسائل حل کرنے کے لیے وقف کر چکے ہیں۔ اور عملی طور پر مسائل حل کر رہے ہیں۔ جہاں جہاں چترال کے عوام مشکلات کا شکار ہوتے ہیں وزیر زادہ وہاں مشکلات سے نکالنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں اور حتہ المقدور اپنا حصہ ڈال کر چترال سے اپنے اخلاص اور محبت کا ثبوت دیتے ہیں۔

آپ تعصب کی عینک لگائے بیغر مساوی بنیاد پر چترال کی خدمت میں مصروف ہیں۔اپر چترال کے ہر تحصیل اور ہر گاوں میں اپ کے اخلاص کے کچھ نہ کچھ نشانات واضح طور موجود ہیں۔ جو روڈ،سکول،پلے گراونڈ کی صورت میں آپ کی تختی کے ساتھ دیکھنے کو ملینگے ساتھ مختلف مساجد میں بھی اپ کی فنڈ سے سولرائزیشن ہو رہے ہیں۔


ویز زادہ صاحب سے جب بھی کو ئی اجتماعی مسلے پر رابطہ کیا جاتا ہے تو انتہائی نرم مزاجی، خندہ پیشانی،اخلاص اور جذبے سے پیش اتے ہیں اور امید دلاتے ہیں۔ پھیر مسلے کی حل تک رابطہ استوار رکھتے ہیں۔ موجودہ وقت اپر چترال میں معاون خصوصی وزیر زادہ صاحب کی دلچسپی اور کوشش سے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔


حال ہی میں اپر چترال کا ایک اہم اور ضروری مسلہ جو ریشن شا در کے مقام میں دریاء کی کٹائی کے وجہ سے روڈ منقطع ہونے کے قریب تھی وزیر زادہ کی خصوصی حکم پر دریاء کا رخ موڑنے پر کام پچاس لاکھ کی فنڈ سے جاری ہے۔آپ کی بروقت کوشش سے اپر چترال روڈ کسی حد تک محفوظ ہو سکتی ہے۔ بشرطیکہ کام کی نگرانی ہو اور معیار پر سمجھوتہ نہ ہو۔ تو اس وقت تک معاون خصوصی محترم وزیر زادہ صاحب خود کو بجائے اقلیت کے، چترال کے نمائیندہ اور بیٹا ثابت کر چکے ہیں۔ امید قوی ہے کہ ائیندہ بھی چترال کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرتا رہیگا۔


شیئر کریں: