Chitral Times

May 13, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عظیم انسان…..تحریر: گل عدن

شیئر کریں:

اسلامی تاریخ میں آپ کو ایسے بے شمار واقعات اور قصے ملیں گے جب وقت کے بڑے بڑے گناہ گاروں کو اک چھوٹی سی نیکی پڑ جنت کی بشارت دی گئ۔ یا پھر کئی ایک عظیم نیکوکاروں کو ذرا سی غفلت پڑ اسکے بعد از مرگ جہنم رسید ہونے کا مژدہ سنایا گیا۔ان تاریخی واقعات کا بحفاظت چودہ سو سال تک نسل در نسل ہم تک پہچنے میں مجھ نا چیز کو بس اتنی مصلحت سمجھ آتی ہے کے رہتی دنیا تک ہر انسان ماضی کے تلخ و شیریں واقعات سے کچھ نہ کچھ سبق حاصل کرتا رہے اور اپنے اعمال کی درستگی کی کوشش کرے۔موجودہ دور ایک عجب افراتفری کا شکار ہے کے نیک اور نیک نام میں فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے۔بحثیت اک انسان کے نیک اعمال کرنے کی خواہش اور نیک نام ہونے کی خواہش بھی فطری ہے مگر نیک نہ ہوتے ہوئے بھی نیک نام ہونے کی جنون نے انسان کو سخت مشکل میں ڈالدیا ہے ۔اس موضوع پر میں آئیندہ لکھوں گی انشاللہ۔مگر میں آج چھوٹے گناہوں اورچھوٹی نیکیوں پر اپنے حقیر خیالات کا اظہار چاہتی ہوں۔کیونکہ مجھے خود سمیت ہر دوسرا شخص دل میں بڑی بڑی نیکیوں کی تمنا لیے چھوٹے چھوٹے گناہوں کی غلیظ دلدل میں پھنستے نظر آرہے ہیں ۔


انسان جس قدر حقیر ہیں اسکی خواہشات اس سے زیادہ حقیر ہیں۔ مثلا ۔ ۔ ہر طرف سے داد و تحسین پانے کی خواہش ۔ ۔محفل میں ہر دلعزیز ہونے کی تمنا اور بعد از مرگ قیامت تک فراموش نہ کیے جانے کی خواہش ۔اور ان خواہشات کے پیچھے بھاگتا انسان یہ سمجھتا ہے کے اسے سب حسب منشا پانے کے لیے تمام عمر دنیاوی دولت مرتبے اور سٹیٹس کے پیچھے بھاگتے رہنا پڑے گا ۔ ہمیں لگتا ہے دوسروں کے دلوں میں زندہ رہنے کے لیے کوئی خیراتی ادارہ کھولنا پڑے گا ۔یا شاید کسی گاؤں میں مسجد بنوانے سے کہیں کنواں کھدوانے سے ہم زمانے کی نظروں میں شاید عظیم بن جائیں مگر اللہ کی بارگاہ میں ہماری عظمت کا معیار ہماری چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہیں۔جو ہمیں کھبی نظر ہی نیہں آتے۔بعض اوقات انسان سب کچھ پانے کے بعد بھی بے چین کیوں رہتاہے؟اسلیۓ کے اسکے ضمیر پے چھوٹے چھوٹے گناہوں کا بوجھ ہوتا ہے جنہیں وقت پر تسلیم نہ کرنے کی صورت میں وہ انسان کے اندر کا ناسور بن جاتے ہیں جو اسکے ہر خوشی کو غم میں اور ہر کمال کو زوال میں بدلنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔اسلیے ہر قدم پر اتنا احتیاط ضرور کریں کہ بلاوجہ کسی کی دل آزاری کا سبب نہ بنیں۔

گفتگو کی غرض سے کسی کی غیبت کا سبب نہ بنیں۔ذرا سی بات سمجھ کر چغل خوری نہ کریں۔مذاق کے نام پر طنز و طعنے کم کرلیں۔اپنے چھوٹے چھوٹے مقاصد کے لئے انسانی جذبات سے نہ کھیلیں۔کسی کی خوشی میں اگر خوش نیہں ہوسکتے تو نہ ہوں۔مگر کسی کے غم کا سبب بھی نہ بنیں۔ہنسا نہیں سکتے؟مت ہنسائیں۔لیکن رلائیں بھی مت۔ ہاتھ تھام کر اٹھانے والے اگر نہیں بن سکتے تو کوئی بات نہیں بس اتنا خیال رہے دھکا دے کر گرانے والے نہ بن جائیں۔دعا نہیں دے سکتے؟؟ کوئی بات نہیں بد دعا بھی نہ دیں ۔رشتوں میں تفرقہ بازی سے باز آجائیں۔جھوٹ کی گندی عادت سے چھٹکارہ پانے کی کوشش اس رمضان سے شروع کریں یقین جانیں یہی آپکی سب سے بڑی نیکی بن جائےگی۔ ۔عزت پانے کے لیے عزت دینا پڑے گا اور محبتیں سمیٹنے کے لیے محبت ہی بانٹنا پڑے گا ۔یاد رہے یہی چھوٹے چھوٹے اعمال ہمیں جہنم رسید بھی کرواسکتے ہیں اور جنت الفردوس تک بھی پہنچا سکتے ہیں۔ اس رمضان آپ گاؤں میں راشن بانٹ سکے یا نہیں بانٹ سکے گھر میں خوشیاں بانٹنے کی کوشش ضرور کیجئے گا۔مختصر یہ کے عظیم انسان بننے کے لیے پہلے انسانیت سے بھرپور انسان بننا شرط ہے۔


میری یہ تحریر ان لوگوں کے نام اک مخلصانہ مشورہ ہے جو عظیم انسان بننے کی خواہش اور نیت رکھتے ہیں اللہ اس نیک نیتی میں آپکا مددگار ہو۔


شیئر کریں: