Chitral Times

May 13, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جہانگیر ترین، از سر نو تحقیقات کا امکان؟ ۔۔۔۔۔۔۔ قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کے سنیئر ترین رہنما جہانگیر ترین کئی زاویوں سے چشم کشا اوربدلتے ہوئے حقائق کے تناظر میں حکمراں جماعت کے لئے وفاق اور پنجاب میں صبر آزما اور اعصاب شکن تجربات کا کھلا ہوا باب ہیں،موجودہ حکومت و تحریک انصاف داخلی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ذہنی، عملی، اور انتظامی طور پر مختلف محاذوں پر مصروف ہے، ان حالات میں کہ شوگر سکینڈل  و منی لانڈرنگ کے نتیجے میں دیگر سیاسی شخصیات کے علاوہ جہانگیر ترین اور ان کے صاحب زادے علی ترین کے خلاف بھی انکوئری ہورہی ہیں، تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جہانگیرترین ہم خیال گروپ میدان میں ہے، بظاہر تو ان کے موقف بڑے سادہ ہیں کہ ان کے خلاف مبینہ طور پر سازش ہے اور وزیراعظم کو غلط معلومات فراہم کی جارہی ہیں،انہوں نے وزیراعظم کی مقرر کردہ کمیٹی سے ملنے سے انکارکردیا تھا تاہم عمران خان نے ترین گروپ سے وابستہ اراکین اسمبلی سے ملنے کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے  ملاقات (مذاکرات) کی۔


یہاں تک معاملہ الجھا ہوا نہیں، لیکن سوال یہ اٹھا کہ کیا جہانگیر ترین کو اپنی ہی بنائی جانے والی حکومت کے سائے تلے قانون کی حکمرانی پر یقین نہیں؟۔ انہوں نے وفاق و پنجاب میں اپنی جماعت کی حکومت بنانے کے لئے دن رات ایک کردیئے تھے اور وہ کچھ کردکھایا جو، اب ایسا کیا ہے کہ وہ قانون کا سامنا کرنے سے زیادہ قریبی دوست کی شخصیت کو مزید ”متنازع“ بنانے کی سعی کررہے ہیں، وہ اس اَمر کا بخوبی ادارک رکھتے ہیں کہ وزیراعظم پر اپنے ساتھیوں کو مبینہ طور پر این آر او دینے کے الزامات اپوزیشن لگاتی رہتی ہے،  واضح رہے کہ شوگر سیکنڈل کے نتیجے میں ایک کمیشن تحقیقات کے لئے مقرر ہوا، جس کی روشنی میں کاروائی ہوئی،  جب کہ وہ عدالت سے قبل ازگرفتاری ضمانت بھی حاصل کرچکے ہیں تو پھر اپنے رفقا ء کے ہمراہ حکومت پر دباؤ کیوں ڈال رہے ہیں کہ ان کے خلاف ہونے والی کاروائی غیر جانبدارانہ نہیں ۔


جہانگیر ترین کے خلاف جب حنیف عباسی کی جانب سے دائر درخواست پر سپریم کورٹ نے405 دنوں میں 50 سماعتوں کے بعد101 گھنٹے عدالتی کاروائی کرکے 250 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا تو ان پر لگائے گئے  الزامات درست قرار پائے،  الیکشن کمیشن نے عدالتی فیصلے کے نتیجے میں انہیں 154 لودھراں کی نشست سے ڈی سیٹ کردیا تھا۔ تحریک انصاف کی سیاست میں بڑا خلا پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ جہانگیر ترین کا آرٹیکل62 ون ایف کے تحت تاحیات نا اہل قرار پانے کے بعد سیاسی مستقبل ختم ہوگیا، لیکن جہانگیر ترین نے اپنی جماعت کے ساتھ وابستگی برقرار رکھی۔15دسمبر2017 کا عدالتی فیصلہ تاریخی قرار دیا گیا تاہم ترین نے جماعت سے وابستگی اور حکومت کی تشکیل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اس حقیقت سے قریباََ سب آگاہ ہیں کہ تحریک انصاف میں چار نمایاں ایسے گروپ ہیں جن کا اپنی جماعت میں کافی اثر رسوخ پایا جاتا ہے، ان گروپس میں سیاسی یا فروعی اختلاف بھی ہے اور یہ ایسی غیر معمولی بات بھی نہیں،کیونکہ ہر سیاسی جماعت میں فروعی و سیاسی مفادات کی وجہ سے گروپ بندیاں معمول کا حصہ ہوتی ہیں اور کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں جہاں آپسی اختلاف کی وجہ سے گروپ بندیاں نہ ہو، لیکن معاملہ اُس وقت سنجیدہ ہوجاتا ہے جب کسی گروپ کی وجہ سے پوری جماعت کے اجتماعی مفاد کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو۔


جہانگیر ترین کو اس وقت صوبہ پنجاب اور سب سے بڑھ کر وفاق کے لئے خطرہ سمجھا جارہا ہے، وہ چاہتے تو ہیں کہ ان کے خلاف تحقیقات غیر جانبدارانہ ہوں، لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ جو کمیشن خود وزیراعظم نے تشکیل دیا تھا، اس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تحفظات ہونے کے باوجود کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی، دوسرے معنوں میں کمیشن رپورٹ پر وزیراعظم کو مکمل اعتماد حاصل ہے، لہذا سیاسی پنڈت جہانگیر ترین کی مشق کو فیس سیونگ کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں اور سمجھا جارہا ہے کہ سیاسی دباؤ ڈال کر اداروں کو ان کے فرائض منصبی سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عدالتوں میں اراکین اسمبلی کو ساتھ لے کر آنا، کوسٹر میں ان کے ہمراہ جانا، 11ایم این اے اور23 ایم اپیز کے اس جلو کا مقصد واضح نظر آتا ہے کہ جو کاروائیاں ہو رہی ہیں اسے ذاتی عناد قرار دے کر اثر انداز ہوا جائے۔ وزیراعظم کے ساتھ راجہ ریاض کی سربراہی میں ہونے والی ملاقات (مذاکرات) کا اندرونی احوال تو کچھ دنوں بعد ہی سامنے آجائے گا کہ جہانگیر ترین کے خلاف کاروائیوں کا رخ کس جانب ہوتا ہے، تاہم سنجیدہ حلقوں میں جہانگیر ترین کے اس قسم کے احتجاج و مطالبے کو مثبت نہیں دیکھا جارہا، انہیں حکومت و وزیراعظم کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سمجھا جارہا ہے کہ اس عمل سے اداروں پر براہ راست اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔


وزیراعظم یا کسی بھی حکومتی شخصیت سے کسی ایم این اے یا ایم پی اے کا ملنا غیر معمولی نہیں، لیکن یہاں بعض اپوزیشن جماعتیں خواہاں ہیں کہہم خیال گروپ کے اختلافات شدت اختیار کریں تو اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پنجاب و وفاق پر وار کیا جائے، اس حوالے سے پی پی پی کی سینئر رہنما شہلا رضا نے ٹوئٹ بھی کی تھی کہ زرداری سے ترین کی ملاقات طے ہے اور اگر ایسا ہوا تو حکومت کا جانا طے ہے، تاہم جہانگیر ترین نے اس خبر کی تردید کردی، جس کے بعد شہلا رضا نے ٹوئٹ تو ڈیلیٹ کردی، لیکن ایسی ٹوئٹ کی کیوں کی، اس پر تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں۔ جہانگیر ترین کے مقدمات اس وقت زیر سماعت ہیں، اس لئے اس پر تو بات نہیں کی جاسکتی لیکن وہ حکومت کے لئے  اچھے  ثابت نہیں  ہو رہے ، حکومتی قلعے کا کمزور حصہ سب کے سامنے ظاہر ہوچکا ، اگر ان حالات پر سیاسی سمجھ بوجھ سے قابو پا لیا گیا تو حکومت کسی بڑی افتاد سے بچ سکتی ہے، تاہم  ہم خیال گروپ کے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں اراکین کے چہروں پر بے سکونی و نا امیدی نمایاں نظر آئی، وجہ سامنے آچکی ہے، انہوں نے صحافیوں کے سوالات کا بھی تسلی بخش جواب نہیں دیا اور فوراََ روانہ ہوگئے۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ 


شیئر کریں: