Chitral Times

May 13, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محکمہ آبپاشی میں اصلاحات کے حوالے وزیراعلیٰ محمود خان کے زیرصدارت اجلاس

شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) محکمہ آبپاشی کے جملہ اُمور کو جدید خطوط پر استوار کرنے، اس کی تنظیمی استعداد کار کو بڑھانے، آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کرنے اور صوبے کے آبی وسائل کے تحفظ اور ان کے بہتر استعمال کیلئے وسیع پیمانے پر اصلاحات کا ایک جامع پیکج تیار کرلیا گیا ہے ۔ جس میں بنیادی قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات اور افرادی قوت کی ترقی کے علاوہ آپریشنل مینجمنٹ کی بہتری اور ریونیو جنر یشن میں اضافے کیلئے متعدد اقدامات شامل ہیں۔ قانونی اصلاحات کے تحت واٹر ایکٹ ، ریور پروٹیکشن ایکٹ ، کینال اینڈ ڈرینج ایکٹ کے موثر نفاذ کیلئے متعدد اقدامات کے علاوہ لیزاور این او سی کے عمل میں تبدیلی اور بہتری شامل ہیں۔
یہ بات وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت محکمہ آبپاشی میں اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس میں بتائی

گئی ۔ اجلاس کو محکمے کے مختلف شعبوں میں نافذ کی جانے والی اصلاحات اور اُن اصلاحات پر عمل درآمد کیلئے تیار کردہ ایکشن پلان کے بارے میں تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ماضی میں محکمہ آبپاشی نے صرف انفراسٹرکچر کی ترقی پر کام کیا ہے لیکن آبی وسائل کی مینجمنٹ پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ۔ اب محکمہ انفراسٹرکچر کی بہتری کے ساتھ ساتھ آبی وسائل کے تحفظ اور اُن کے بہتر استعمال پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور اس مقصد کیلئے انٹگریٹڈواٹر ریسورس مینجمنٹ اسٹرٹیٹجی تشکیل دی گئی ہے اور اس اسٹر ٹیٹجی پر عمل درآمد کیلئے واٹر ریسورس مینجمنٹ اتھارٹی اور واٹر ریسورس کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیاہے ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ آبی ذخائر کی موثر انداز میں آپریشنل مینجمنٹ کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ آبپاشی کے تمام وسائل اور املاک کا سروے کیا جارہا ہے اور تجاوزات کی نشاندہی کی گئی ہے ۔

علاوہ ازیں اب تک مکمل شدہ ڈیموں کو اُن کے کمانڈ ایریا سے منسلک کیا جائے گا، نہروں کی بھل صفائی کیلئے مختص وسائل کے موثر استعمال کیلئے طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جبکہ صوبے میں ٹیلی میٹری سسٹم نصب کیا جائے گا۔ ریونیو جنریشن کے تحت آبیانہ کی سٹریم لائننگ کے علاوہ صوبہ بھر میں محکمہ آبپاشی کی جائیدادوں کی نشاندہی کی جارہی ہے ۔ ہیومین ریسورس ڈویلپمنٹ کیلئے بھی متعدد اقدامات زیر غور ہیں جن میں پراجیکٹ پالیسی کے عین مطابق سٹاف کی ہائرنگ ، محکمانہ امتحانات کی سٹریم لائننگ ، پیشہ وارانہ سٹاف کی استعداد کار کیلئے متواتر ٹریننگ ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال وغیرہ شامل ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ادارہ جاتی ترقی کے اقدام کے تحت نئے ضم اضلاع میں محکمہ آبپاشی کو ترقی دینے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔

ہائیڈرولوجی ڈویژن کو بہتر بنایا جارہاہے ۔محکمہ کے تحت ترقیاتی منصوبوں کا مطلوبہ معیار اور مقدار دونوں کے عین مطابق تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے ای ۔ انسپکشن کا عمل متعار ف کرایا جارہاہے ۔ اس کے علاوہ ضم اضلاع میں محکمہ آبپاشی کے میگا منصوبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جارہی ہے ۔ اہم منصوبوں میں باڑہ ریور کینال اور ورسک لیفٹ بینک کینال کی بحالی و ری ماڈلنگ ، جبہ ڈیم کی تعمیر ، دریائے کرم پر حفاظی پشتوں کی تعمیر اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔ اجلاس کو مذکورہ اصلاحاتی پیکج پر عمل درآمد کیلئے ایکشن پلان پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی اور مختلف سرگرمیوں کے اجراءاور تکمیل کیلئے مجوزہ ٹائم لائنز سے آگاہ کیا گیا ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ واٹرایکٹ 2020 ءکے نفاذ سمیت دیگر اہم اُمور 30 جون2021 تک مکمل کرلئے جائیں گے جن میں ریور پروٹیکشن ایکٹ کا نفاذ ، کینال اینڈ ڈرینج ایکٹ پر عمل درآمد ، لینڈ لیزنگ پراسس، ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب شامل ہیں۔


رواں ماہ کے آخر تک شہری علاقوں میں چک بندیوں کی اسسمنٹ کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ اسی طرح محکمہ آبپاشی کی جائیداد و املاک کا سروے اور دیگر اُمور بھی رواں ماہ کے آخرتک مکمل کرلئے جائیں گے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ کے تحت ای۔ بڈنگ سسٹم ، ضم اضلاع میں میگا منصوبوں کا افتتاح ، محکمہ سیاحت کے تعاون سے ڈیم سائٹس کی بطور ٹورسٹ ریزارٹس ترقی ، تاریخی عمارتوں اور اثاثوں کی بحالی وغیرہ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ اسی طرح سٹیزن پورٹل پر موصول شدہ عوامی شکایات کے ازالے کیلئے موثر طریقہ کار وضع کیاجا رہا ہے ۔ اب تک اُٹھائے گئے مختلف اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ واٹر ایکٹ کے تحت کمیشن ااور اتھارٹی تشکیل دے دی گئی ہے جن کا باضابطہ اعلامیہ جاری کیا جاچکا ہے ۔

اسی طرح ایکٹ کے تحت متعدد دفعات کا نفاذ یقینی بنایا جا چکا ہے اور دریاﺅں کو پبلک ریسورس قرار دینے کیلئے قانون کی متعلقہ دفعہ کے نفاذ کیلئے سمری بھیج دی گئی ہے ۔ دریائے سوات اور کابل کی بحالی کیلئے تفصیلی سروے کیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے ایکشن پلان کے تحت مختلف سرگرمیوں کی تکمیل کیلئے دی گئی ٹائم لائنز پر نظر ثانی کرنے اور مختلف سرگرمیوں کیلئے حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز کا تعین یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ اُنہوںنے خصوصی طور پر محکمہ کے تحت ایک ہفتہ کے اندرای۔ ورک آرڈر کا اجراءیقینی بنانے جبکہ ای بڈنگ ، ای بلنگ اور ای ٹینڈرنگ پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پانی زندگی کی علامت ہے ، آج دُنیا بھر میں پانی کے مسئلہ کو نہایت سنجیدگی سے لیا جارہا ہے ۔ کیونکہ مستقبل میں پانی کے حوالے سے دُنیا کو مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ کسی بھی تشویشناک صورتحال سے بچنے کیلئے ہمیں نہ صرف اپنے موجودہ آبی ذخائر کا انتظام و انصرام بہتر بنانا ہے بلکہ زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے، آبی وسائل کے کارآمد استعمال اور جملہ آبی اُمور کی بہتر مینجمنٹ کیلئے طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ کو ہدایت کی کہ مجوزہ انٹگریٹڈ واٹر ریسورس مینجمنٹ اسٹرٹیٹجی پر صحیح معنوں میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔ اُنہوںنے کہاکہ محکمہ آبپاشی کے انفراسٹرکچر کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیں آبی وسائل کی مینجمنٹ پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اس مقصد کیلئے تمام مجوزہ اقدامات کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اور موثر اقدامات اُٹھائے جائیں ۔
<><><><><>


شیئر کریں: